سوئس بنکوں سے مسروقہ دولت کی واپسی ، سارے قرضے ادا ہو جائیں گے

gulzar-afaqi-logo
پاکستان اور برطانیہ میں انصاف اور احتساب کا معائدہ ، نئے دور کا آغاز
فلپائن، پیرو، قازقستان، میکسیکو، انگولا اور نائیجیریا اربوں ڈالر کی رقوم واپس لانے میں کامیاب ہوگئے۔
دہشت گردی کا خوف، عالمی بنک اور سوئٹرز لینڈ منی لانڈرنگ کے خلاف برسرپیکار
ایک رجل رشید نے وقت کو عجب رنگ ڈھنگ اور انگ سنگ کے آہنگ میں ڈھالنا شروع کر دیا۔

وقت وہی ، عہد وہی اور زمانہ وہی
ہر اک بطل جلیل اور رجل رشید نے ایک عجب رنگ ڈھنگ اور انگ سنگ کے آہنک میں ڈھالنا شروع کر دیا ہے۔ اور اپنے کردار کے اجلے پن سے سارے ماحول کو اجال کر رکھ دیا ہے۔
ہر روز ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ اس نے کہا تھا وہ دن دور نہیں جب وقت اور حالات کی طنا بیں ہمارے ہاتھ میں ہوں گی۔ ایسا کب ہوگا۔
ابھی اقتدار کا ایک مہینہ بھی پورا نہیں ہوا۔ ابھی تو وہ درجنوں میں پھیلے ہوئے محکموں، کارپوریشنوں ، اتھارٹیوں ، کونسلوں اور وزارتوں کی بابت ابتدائی بریفنگز کے عمل سے ہی گزر رہا ہے۔ مگر کمال ہے کہ ساتھ ہی ساتھ ہر شعبہ زندگی سے متعلقہ وزارت اور دیگر اداروں کو نئے اصلاحی کردار میں ڈھالنے کے لئے ٹاسک فورسز بھی کھڑی کئے جا رہا ہے۔ اور کوئی دن آئے گا کہ ہر ٹاسک فورس کے متعین کردہ خطوط پر سارے اتنظامی ڈھانچے کی اوورہالنگ ہو جائے گی۔ عوامی بہبود سے مشروط امور سلطنت بطور احسن نمٹائے جانے لگیں گے اور ایک بھدے اور ظالمانہ نظام زندگی کی بھینٹ چڑھی ہوئی قوم پھر سے زندگی کی توانائیوں اور جولانیوں سے جڑت قائم کر کے امن سلامتی اور خوشحالی کے راستے پر چل نکلے گی۔ انشاءاللہ
اب بات ہوگی دنیا کی نظر میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی، غیر ممالک میں چھپائی گئی اہل پاکستان کی کمائی کی اور انئے پارلیمانی سال کے آغاز کی جس کی مہورت نئے صدر مملکت جناب ڈاکٹر عارف الرحمان علوی کے پارلیمنٹ کے مشترکہ خطاب کے ذریعے ہو چکی ہے۔ حسن اتفاق دیکھئے کہ بظاہر یہ تین مختلف موضوعات ہیں مگر آج کے حرف آرزو میں ان تینوں میں موجود ایک قدر مشترک یعنی اہل پاکستان کی محنت کی وہ کمائی جسے یہاں برسراقتدار رہنے والے حکمرانوں کے اپنے حرص اور لالچ کے تحت یورپی بنکوں میں چھپا رکھی ہے۔
جناب عمران خان کے اقتدار کو ایک مہینہ بھی پورا نہیں ہوا کہ نصف درجن سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ و داخلہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور اس سے بھی زیادہ تعداد میں مستقبل فریب میں پاکستان آنے والے ہیں۔ ظاہری بات ہے ان عمائدین کے دورے محض تفریحی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ ان کا بنیادی مقصد میز بان ملک کی اہمیت اوراور افادیت کے حوالے سے اس کے ساتھ تجدید تعلقات اور آنے والے دنوں کے لئے مشترکہ معاشی منصوبوں اور تعمیراتی پروجیکٹس کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔ اس حوالے سے میں آئندہ انشاءاللہ تفصیلی تجزیہ پیش کروں گا۔
آج جس وقت صدر مملک عارف علوی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستان کے معاشرتی و معاشی حالات کا بڑی دلسوزی سے تذکرہ و تجزیہ کر رہے تھے تو مجھے آج ہی برطانیہ اور پاکستان کے مابین ایک انتہائی اہم معاہدے کے مندر جات کا خیال آرہا تھا۔ برطانیہ کے وزیر داخلہ پاکستانی نژاد جناب سجاد جاوید آج اسلام آباد میں تھے ہمارے وزیر مملکت برائے داخلہ امور، وزیر قانون اور وزیر اعظم کے مشیر برائے بازیابی مال مسروقہ اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ مذاکرات نتیجے میں جو معاہدہ طے پایا ہے اسے مختصر طور پر انصاف اور احتساب کا عنوان دیا جا سکتا ہے جس کی رو سے نہ صرف برطانیہ سے پاکستانی مجرموں کی حوالگی اور تبادلے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے گا بلکہ پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی بھی ممکن ہے۔
میرا وحدان کہتا ہے اللہ رحیم و کرایم کی عظیم سکیم کے تحت رمضان المبارک میں لیلتہ القدر کی سلامتی والی سامتوں میں قائم ہونے والے ملک پاکستان کے حالات اب مثبت خطوط پر سنورنے کو ہیں۔ اور یہ سب کچھ عمران خان صاحب کی ولولہ انگیز اور دیانت و امانت کی پیکر قیادت میں ہی پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔
1سے تاریخ کا جبر کہئے کہ کل تک جو ممالک دولت آفرینی کے لئے دنیا بھر سے ہر نوع کی کالی پیلی نیلی دولت کو اپنے ہاں جمع کرنے اور اسے تحفظ دینے کے لئے افضائے راز کے سخت گیر قوانین کو جان سے عزیز سمجھتے تھے۔ دنیا بھر میں بڑھتی پھیلتی دہشت گردی سے جڑی اسی دولت کی حقیقت جان لینے کے بعد اب وہ خود اخفائے راز کے قوانین سے جان چھڑانے اور ایسی دولت سے دور رہنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ میں اس کی چند مصدقہ مثالیں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
یو اے ای میں دنیا بھر کے پراپرٹی ٹائیکونز نے رئیل سٹیٹ بزنس میں جو غیر معمولی سرمایہ کاری کر رکھی تھی اس میں پاکستانی تیسرے نمبر پر ہیں ۔ذرائع کے مطابق یو اے ای حکومت ازخود ایسی جائیدادوں کا کھوج لگا رہی ہے۔ جو بلیک منی یا چوری کی دولت سے خریدی گئی ہیں۔کہا جاتا ہے اس سلسلے میں تقریباً150ارب ڈالر کی جائیدادوں کا کھوج لگایا جا چکا ہے۔ جو ضروری قانونی کارروائی کے بعد حکومت پاکستان کے حوالے کی جا سکیں گی۔
حکومت برطانیہ ایک عرصے سے دہشتگردی کی مختلف وارداتوں سے زچ آچکی ہے۔ اسے بھی ایسے انسانیت کش جرائم کے ساتھ جڑی منی لانڈرنگ کے سدباب کا فکر ستانے لگا ہے۔ آج پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر داخلہ کا سجاد جاوید اور حکومت پاکستان کے مابین انصاف اور احتساب “ کے عنوان سے طے پانے والے معاہدہ اسی فکر کی نمازی کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے متعلقہ وزراءاور قانون ماہرین معاہدے پرعملداری کی حکمت عملی وضع کر لیں گے۔ امید واثق ہے کہ مستقبل قریب میںمفرار بھگوڑے لٹیرے جلد ہی وطن واپس لائے جائیں گے اور ان کے ہاتھوں لٹی ہوئی دولت بھی گھر کا راستہ دیکھ پائے گی۔
اقوام متحدہ کا اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ (UNAMLU) اور یواین آفس برائے انسداد منشیات و جرائم کے ہاں بھی نواز شریف کی تین کمپنیوں کے ذریعے مبینہ طور پر10ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کی تفتیش میں مصروف ہے۔
ادھر عالمی بنک کے تحت چوری شدہ دولت اور اثاثوں کی بازیابی کا قانون بھی وضع ہو چکا ہے۔ اس کے تفتیشی یونٹ نے بھی اب تک دنیا بھر سے لوٹی گئی دولت کا کھوج لگانے میں غیر معمولی پیش رفت کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک کی گئی تفتیش کی رو سے پسماندہ ممالک کے کرپٹ حکمرانوں کی غیر قانونی دولت کے غالب حصوں کی نشاندہی ہو چکی ہے اور مناسب قانونی کارروائی کے بعد اسے متعلقہ ممالک کے حوالے کر دیا جائے گا۔
آج جب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران ملکی معیشت بابت ترقی کے نئے امکانا ت کا ذکر کر رہے تھے تو مجھے یاد آیا کہ 2014ءمیں انہوں نے سوٹس بنکون میں چھپائی گئی پاکستانیوں کی دولت بابت اس وقت کے وزیر خزانہ اسحق ڈار سے سوال کیا تھا9مئی روز قومی اسمبلی کے فلور پر ڈار نے تحریری جواب میں کہا تھا کہ سوئس بنکوں میں پاکستانیوں کے 200ارب ڈالر موجود ہیں جنہیں وطن واپس لانے کی تمام تدابیر اختیار کی جائیں گی۔ اور اس کے بعد کے دنوں میں سب وعدے ٹیں ٹیں فش ہو کر رہ گئے۔
ادھر میں نے اپنی تحقیق کے ذریعے دریافت کر لیا کہ سوئزر لینڈ میں تو2010سے ہی ناجائز اور غیر قانونی دولت کی متعلقہ ممالک میں واپسی کا قانون موجود ہے اور جو ممالک اپنی سیاسی قوت ارادی اور قانونی اصابت کے تحت اپنا کیس بنا کر متعلقہ سوئس اداروں میں پیش کرتے ہیں انہیں ان کی لٹی ہوئی دولت واپس کر دی جاتی ہے۔ اس قانون کا نام ہے
THE RESTITUTION OF ILLICITE
ASSET ACT 2010 (RIAA)
سوئٹزر لینڈ کے ایک سابق وزیر خارجہ مکالن کالمی رے نے بھی اس امر کی توثیق کی ہے کہ پاکستانیوں کے 200ارب ڈالر سے زیادہ کی رقوم سوئس بنکوں میں موجود ہیں ۔ اگر پاکستانی حکام سنجیدگی سے پیش رفت کر یں تو اس رقم سے اپنی نا گفتہ بہ معیشت کو سنبھالا دے سکتے ہیں۔
میں یہاں ان چند ممالک کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے سیاسی عزم کے ساتھ قانونی اصابت کے ذریعے اپنا مقدمہ سوئس حکام کے سامنے رکھا اور اپنی لٹی ہوئی دولت و اگزار کرانے میں کامیاب ہوگئے ملاحظہ کیجئے۔
پچھلے 21سال میں فلپائن وہ ملک ہے جس نے اپنے سابق آمر مطلق صدر کی چوری کردہ ایک ارب ڈالر کی رقم سوئٹرز لینڈ سے واپس لی۔
2007میں پیرو نے 174ملین ڈالر وصول کئے
2008میں میکسیکو کو84ملین ڈالر واپس ملے
2012میں انگولا کو 43ملین ڈالر ملے
جون2018میں نائیجیریا کو 1.2ملین ڈالر کی خطیر رقم موصول ہوئی۔
مجھے یقین واثق ہے جاب عمران خان صاحب کی قیادت میں پاکستان کی لٹی ہوئی دولت بھی سوئس بنکوں سے اچھل کر پاکستان واپس آئے گی
مجھے ایک سوئس بنک کے پاکستان دولت اہم عہدیدار کے الفاظ یاد آرہے ہیں جس نے حال ہی میں کہا تھا اگر پاکستان سوئس بنکوں میں موجود اپنی لٹی ہوئی دولت واپس لے جانے میں کامیاب ہو گیا تو نہ صرف وہ اپنے ذمے تمام اندرونی و بیرونی قرضے اتار سکے گا۔ بلکہ اس کے پاس اپنے ترقیاتی منصوبوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے خطیر رقم بچ بھی جائے گی

Scroll To Top