پاکستان و برطانیہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے پر متفق

zaheer-babar-logo
برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان کے ساتھ بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے انصاف و احتساب کی شراکت کا آغاز خوش آئند ہے۔“دراصل ماضی میں یہ ثاثر بڑی حد تک مستحکم ہوا کہ برطانیہ اپنی سرزمین پردیگر ملکوں سے آئے ہوئے مجرموں کو پناہ دینے میں خاصا فراخدل دل واقع ہوا ۔ چنانچہ آج بھی دنیا کی قدیم جمہوری ریاست میں ایسے افراد باآسانی مل سکتے ہیں جو اپنے ملکوں میں مختلف جرائم میں سزا پاکر برطانوی میںپناہ حاصل کرچکے۔
مغربی ملکوں کی داخلہ اور خارجہ پالیسوں سے شناسا حلقوں کے لیے یہ حیران کن نہیں کہ اندرون خانہ آئین وقانون کی سختی سے پاسداری کرنے والے خارجہ پالیسی میں کسی قائدے قانون کی پرواہ نہیں کرتے۔ ملک کے مفاد کو ہر قیمت پر عزیز سمجھا جاتا ہے لہذا اس کے لیے ہر قانون کو پامال کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ یہ معاملہ محض برطانیہ تک ہی محدود نہیںبلکہ امریکہ ، فرانس اور جرمنی سمیت بیشتر مغربی ملک اسی پالیسی پر کاربند ہیں۔
ترقی پذیر ملکوںکا المیہ یہ ہے کہ وہاں کے حکمران طبقہ میںایسے لوگ بھی شامل ہیںجو کسی طور پر اپن ملک کے ساتھ وفادار نہیں۔ بااثر یا طاقتور کہلانے والے خاندانوں کا مقصد ایک ہو کرتا ہے کہ وہ اقتدار کو اپنے انفرادی اور گروہی مفاد کے لیے استمال کریں۔ کم ترقی یافتہ ملکوں کی سیاست کے بڑے بڑے نام اپنے ملکوں میں صرف اور صرف حکومت کرنے میںدلچیسپی رکھتے ہیں جبکہ اپنے کاروبار اور خاندان کی رہایش کے لیے ان کی پہلی ترجیح کوئی مغربی ملک ہی ہوا کرتا ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ برطانوی وزیر کی جانب سے بڑے بڑے دعوی اپنی جگہ مگر جب تک ان پر عمل درآمد نہیں ہوجاتا پاکستانیوں کو کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہے ۔ ہمیں لندن میںایم کیوایم قائدکی حرکات وسکنات کو ہرگز فراموش نہٰیں کرنا چاہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نہیں جانتے ہیں کہ ایم کیوایم کے ڈاکڑ فاروق ستار کا قتل کس نے کب اور کیوں کروایا۔ کون سے وہ شخصیت تھی جس نے کراچی سے ڈاکڑ عمران فاروق کے قاتلوں کو بلوایا اور پھر ان سے اپنے ابتدائی دنوں کے ساتھی کی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
برطانوی میڈیا ہی نہیں پاکستانی میڈیا نے بھی ایسی خبریں تواتر کے ساتھ چلیں کہ کیسے اہم کیوایم کے قائد کے گھر سے سینکڑوں نہیں ہزاروں پاونڈز برآمد ہوئے جن سے متعلق الطاف بھائی عدالتوں کو درست انداز میںمطمعن نہ کرسکے۔
کہنے والے کہتے ہیںکہ برطانیہ کی ہمیشہ سے ہی نظر ساحلی شہر کراچی میں رہی ۔ شہر قائد کی بندرگاہ پر محض برطانیہ ہی نہی روس ، بھارت اور امریکہ بھی لچائی ہوئی نظروںسے دیکھ رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں دہشت گرد کرنے والے بشیتر جرائم پیشہ گروہ بالواسطہ وبلاوسطہ طور پر برطانیہ میںمقیم اپنے ساتھیوں کے ساتھ رابطے میںرہتے ہیں۔ آج کے دور میںیقینا جنگ کے طور طریقہ بدل چکے ۔ اب حریف ملک ایک دوسرے پر براہ راست حملہ کرنے کہ بجائے انھیں ایسی مشکلات سے دوچار کردیتی ہیں جو انھیں بتدریج اندون خانہ کمزور کرڈالتی ہیں۔ وطن عزیز میں بھی لسانی ، سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی کرنے والے پرتشدد گروہوں کی دنیا کے کئی غیر ملکی خفیہ ادارے مدد کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ درجنوں نہیں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گے۔ حالیہ ہی میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادو نے جو انکشافات کیے وہ مودی سرکار کی پاکستان مخالف پالیسی کا ہی عکس نظر آئی ۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے علاقائی اور عالمی قوتوں کے لیے جو قربانیاں دی ہیں ان عالمی سطح پر اس طرح اعتراف نہیں کیا جارہا جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔ قصور ہمارا بھی ہے جب کم وبیش چار سال تک وزیر خارجہ کا تقرر ہی نہیں ہوگا تو اس سے ماضی کی حکومتوںکی کارکردگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
برطانیہ کے وزیر داخلہ کا میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی کے لیے بھی سول فنڈ شروع کرنے جارہے۔ برطانوی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انصاف کے میدان میں تعاون کے لیے مجرموں کے دوطرفہ تبادلے کے معاہدے کی تجدید کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ جس سے دونوں ملکوں کے قیدیوں کو اپنے اپنے خاندانوں کے قریب سزا کاٹنے کا موقعہ ملے گا۔ “
سوال یہ پوچھا جارہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ برطانوی حکومت مبنیہ طور پر بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے ٹھوس کوشش کرنے پر تیار ہوگی۔ بظاہر سببب یہ کہ کہ پانامہ لیکس میں بعض برطانیوں کے نام آنے کے بعد یہ سوال تواتر سے پوچھا جارہا کہ دنیا کی مثالی جمہوریت میں قانون شکنی کا معاملہ کب تک موجود رہیں گا۔ یقینا پاکستان کو اس صورت حال کا بھرپور انداز میں فائدہ اٹھانا چاہے ۔ اس ضمن میں برطانوی حکومت کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانا ہوگا ۔ کہیں بھی کسی بھی جگہ کوشش یہ کرنا ہوگی کہ مسقبل قریب میں کسی بھی مجرم کو پاکستان کے وسائل سے کھیلنے کی اجازت نہ ہو ۔ برطانوی وزیر داخلہ جس طرح پاکستان میں کرپیشن کے معاملے میں حکومت سے تعاون کررہا اس کی جس قدرتعریف کی جائے وہ کم ہے۔ ادھر عوام کو نہیں بھولنا چاہے کہ ملک تعیمر وترقی اسی صورت ممکن ہے جب پاکستانی وبرطانوی حکومت ایک دوسرے سے بھرپور انداز میں تعاون کریں۔

Scroll To Top