باقی سب کے سب رعایا ہیں۔۔۔ 21-12-2013

kal-ki-baat
ہمارے ملک کے روایتی سیاست دان ہمیشہ اپنا زور بیان دو اصطلاحوں پرخرچ کرتے ہیں۔ ایک جمہوریت اور دوسری آمریت۔ جمہوریت کے ساتھ اُن کا عشق سمجھ میں آتا ہے کیوں کہ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر نالائق سے نالائق آدمی کبھی نہ کبھی اورکسی نہ کسی طریقے سے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوجاتا ہے۔اگر جناب عابد شیر علی ` رانا ثناءاللہ اور پی پی پی میں ان کے ”ہم پلہ “ لوگ سیاست دان نہ ہوتے اور جمہوریت کے ساتھ انہیں عشق نہ ہوتا تو کیا کوئی شخص بقائمی ہوش وحواس یہ کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگ اتنی اہم قومی ذمہ داریوں پر فائز ہوسکتے ہیںجہاں تک آمریت کا تعلق ہے اسے کوئی صاحبِ نظر پسندنہیں کرے گا لیکن اس بات سے انکار کوئی بھی نہیں کرسکتا کہ فوجی آمر بننے کے لئے کم ازکم جنرل ہونالازمی ہے۔
اور جنرل بننے کے لئے پہلے سیکنڈ لیفٹیننٹ پھر کیپٹن ` پھر میجر ` پھر کرنل پھر بریگیڈیئر پھر میجر جنرل اور پھر لیفٹیننٹ جنرل بننا ضروری ہے۔
جتنی آسانی کے ساتھ میاں نوازشریف نے اپنی صاحبزادی کو ایک ایسے ادارے کی سربراہی عطا کی ہے جس کے پاس اربوں کی رقوم خرچ کرنے کا اختیار ہے ` اتنی آسانی کے ساتھ وہ کسی میجر یا کسی کرنل کو پاک فوج کا سربراہ مقرر نہیں کرسکتے۔
فوج واحد ادارہ رہ گیاہے جہاں میرٹ کا عمل دخل قابلِ قبول حد تک موجود ہے۔
میں یہاں فوجی حکومت کی وکالت نہیں کررہا۔ صرف یہ کہنے کی کوشش کررہا ہوں کہ فوجی آمریت کا راستہ ہمیشہ کے لئے روکنے کے لئے جمہوریت کو اس ڈگر سے ہٹنا پڑے گا جس پر وہ چل رہی ہے۔ کہنے کو جمہوریت عوام کی حکومت ہے اور عوام کے لئے ہے ` لیکن اگر ایسا ہے بھی تو پاکستان کے عوام اٹھارہ کرو ڑ کی تعدادمیں نہیں صرف میاں صاحبان ` بھٹو صاحبان ` اور دوسرے ایسے ہی صاحبان پرمشتمل ہیں ۔ باقی سب کے سب رعایا ہیں۔۔۔

Scroll To Top