فی الحال بات اُن پبلک پراپرٹیز تک محدود رہنی چاہئے جنہیں صرف چند افراد کے شوقِ شہنشاہی کی تسکین کے لئے ضائع کیا جارہا ہے ۔۔۔

aaj-ki-baat-new

سیاست میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں میں کچھ عرصہ قبل تک ذہین بھی سمجھتا تھا اور معقول حد تک فکری طور پر دیانت دار بھی۔۔۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)میں ایسا شخص ایک ہی تھا۔۔۔ راجہ ظفر الحق ۔۔۔میرا خیال تھا کہ وہ اپنا امیج قائم رکھنے کے لئے ایسے معاملات سے اپنے آپ کو دور رکھیں گے جن پر وہ اپنی خودداری یا نیک نامی قربان کئے بغیر حاکم وقت کی خوشنودی حاصل نہیں کرسکتے تھے۔۔۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا اور آہستہ آہستہ ان کے اور دانیال عزیز وغیرہ کے درمیان فرق مٹتا چلا گیا۔۔۔ آج جب کہ سلطان تخت سے محروم ہوکر زنداں کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا نظر آتا ہے ` آج بھی صورتحال یہی ہے کہ محمود کی صف میں اور کوئی نہیں۔۔۔ پیچھے ہر صف میں ایاز ہی ایاز نظر آتے ہیں۔۔۔ سب سے بزرگ ایاز راجہ ظفر الحق ہیں جن کے ساتھ میرے دوستانہ مراسم رہے ہیں۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے جب 4جون1981ءکو اپنی کمپنی میڈاس کا افتتاح کیا تو اس کی صدارت تب کے وزیر خزانہ پنجاب میاں نوازشریف نے کی جن کے ساتھ میرے تحریک استقلال کے زمانے کے تعلقات تھے۔۔۔ مگر مہمان خصوصی کے طور پر میں نے تب کے وفاقی وزیر اطلاعات اور ضیاءحکومت کے اوپننگ بیسٹمین راجہ ظفر الحق کو مدعو کیا۔۔۔
سٹیج پر دونوں کی کرسیاں درمیان میں تھیں ایک طرف میری کرسی تھی اور دوسری طرف میڈاس کے ایک ڈائریکٹر اے کے ضیاءمرحوم کی کرسی تھی۔۔۔
تقریب ختم ہوئی تو رخصت ہوتے وقت راجہ ظفر الحق نے بڑی بدمزگی کے ساتھ نہایت تلخ لہجے میں کہا۔۔۔ ” اگر آپ نے صدارت اس بے وقوف نوجوان سے کرانی تھی اور اسے میرے برابر بٹھانا تھا تو مجھے کیوں بلایا۔۔۔؟“
برسہا برس جب راجہ صاحب تب کے بے وقوف نوجوان اور وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف کے ساتھ ہاتھ باندھ کر مودبانہ انداز میں بیٹھنے کے عادی ہوچکے تھے تو میں نے انہیں ان کی بات یاد کرائی۔۔۔ وہ ایکدم جھینپ کر بولے۔۔۔ ” اب یہ بات لکھ نہ دیجئے گا۔۔۔“
اس بات کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ راجہ صاحب کا خمیر اس مٹی سے نہیں اٹھا جس سے درباری پیدا ہوتے ہیں۔۔۔
کچھ ایسا ہی معاملہ پی پی پی کے قمر الزمان کائرہ کا ہے ۔۔۔ کائرہ صاحب جب معقول باتیں کرنے پر آتے ہیں تو نہایت معقول بات کرتے ہیں لیکن جب وہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے قاتل کو زاہد متقی اور پرہزگار ثابت کرنے کے لئے دلائل کا انبار لگاتے ہیں تو کبھی ان پر غصہ اور کبھی ترس آتا ہے۔۔۔
پی پی پی کے ہی سعید غنی کو بھی میں معقول اصحاب میں شمار کرتا تھا۔۔۔ خلاف از عقل بات ان سے کبھی کبھی ہی سننے کو ملتی تھی۔۔۔ان کے دلائل میں سنجیدگی بھی ہوتی تھی۔۔۔یہ تب تک تھا جب تک انہوں نے پی پی پی کی قیادت کی آنکھوں کا تارا بننے کی نہیں ٹھانی تھی۔۔۔
اب وہ خود پی پی پی کی قیادت کا حصہ بن چکے ہیں۔۔۔ چنانچہ انہیں کبھی کبھی دوپہر کو دوربین سے چاند دیکھنے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔۔۔
ا ن کی ترمیم شدہ دانش کا تازہ ترین شاہکار یہ بیان ہے کہ ” اگر عمران خان کو عوام کا اتنا ہی خیال ہے تو وہ بنی گالہ کا محل کیوں نہیں عوام کے لئے کھول دیتے ۔۔۔؟ یا وہاں کوئی یونیورسٹی وغیرہ کیوں نہیں بنا دیتے۔۔۔؟“
سعید غنی بھول گئے ہیں کہ بنی گالہ پبلک پراپرٹی نہیں ہے۔۔۔ عمران خان کی ذاتی ملکیت ہے۔۔۔
عمران خان نے زرداری ہاﺅس یا بلاول ہاﺅس یا جاتی عمرہ عوام کے لئے کھولنے کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی وہاں یونیورسٹیاں قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے کہ سعید غنی بیچ میں بنی گالہ کو بھی گھسیٹ لائیں۔۔۔
ہاں اگر ایسا ضروری ہوگیا تو ان تمام رہائش گاہوں کو بھی عوام کی ملکیت میں دیا جاسکتا ہے۔۔۔
ٍِفی الحال بات اُن پبلک پراپرٹیز تک محدود رہنی چاہئے جنہیں صرف چند افراد کے شوقِ شہنشاہی کی تسکین کے لئے ضائع کیا جارہا ہے ۔۔۔

Scroll To Top