پاک، بھارت ٹاکرا اعصاب اور کوالٹی کا امتحان قرار

x

دباؤ میں پرفارم کرنے سے ہی پلیئرز کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے، مکی آرتھرفوٹو : فائل

 کراچی:  ایشیا کپ میں شائقین کرکٹ اور ماہرین کھیل کے بے تابی سے روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان بدھ  19 ستمبر کو شیڈول مقابلے کا انتظار ہے، سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ یہ ٹاکرے اعصاب اور کوالٹی کا امتحان ہوتے ہیں۔

ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے مطابق دباؤ میں پرفارم کرنے سے پلیئرز کی صلاحیتوں کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے اور پلیئرز کو ان میچز سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کا دو بار سامنا ہونے والا ہے اور اگر یہ دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئیں تو پھر تیسرا میچ بھی شائقین کا منتظر ہوگا، پاک بھارت مقابلے کی شائقین کے نقطہ نظر سے دلچسپی اپنی جگہ لیکن میدان میں اترنے والے کھلاڑیوں پر ان میچوں میں کتنا دباؤ ہوتا ہے۔

اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے تاہم پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے خیال میں یہ پریشر میچز نوجوان کرکٹرز کو بہت کچھ سکھاتے ہیں، آرتھر کا کہنا ہے کہ یہ مواقع ان نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ اور تجربہ فراہم کرتے ہیں ، آپ کو یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ سخت دباؤ میں کونسے کرکٹرز مقابلہ کرسکتے ہیں اور کونسے کرکٹرز دباؤ برداشت نہیں کرسکتے،دوسری جانب سابق قومی کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچزمیں کرکٹرز کے اعصاب اور کوالٹی کا امتحان ہوتا ہے۔

Scroll To Top