سمندری پلاسٹک، کچھووں کے 40 فیصد بچوں کو ہلاک کررہا ہے

e

پلاسٹک کا کچرا ننھے کچھووں کی موت کی وجہ بن رہا ہے (فوٹو: فائل)

کوئنز لینڈ: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سمندروں اور ساحل پر موجود پلاسٹک کچھووں کے 40 فیصد بچوں کو ہلاککررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بالغ کے مقابلے میں ننھے کچھوے پلاسٹک کھا کر ہلاک ہوجاتے ہیں اور یہ عمل بالغ کچھوے کے مقابلے میں چار گنا زائد ہے۔

اپنی نوعیت کا یہ پہلا سروے تسمانیہ میں کامن ویلتھ سائںٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن کے ماہرین نے کیا ہے جس سے آبی حیات پر پلاسٹک کے نقصانات مزید واضح ہوئے ہیں اور کچھووں کی موت کی ایک بڑی وجہ سامنے آئی ہے۔

اس سروے میں ماہرین نے موت کا شکار ہونے والے چھوٹے بڑے ایک ہزار کچھووں کا پوسٹ مارٹم کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نصف (50 فیصد) بچوں کے جسم سے پلاسٹک کے چھوٹے بڑے ٹکڑے برآمد ہوئے جبکہ سات میں سے ایک بالغ کچھوا پلاسٹک کا شکار ہوکر مرا۔ اس طرح معلوم ہوا کہ 40 سے 50 فیصد بچے کچھوے پلاسٹک کے ہاتھوں مررہے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لوگر ہیڈز، گرین، لیدر بیک، ہاکس بِل، کیمپس رڈلی، الیور ڈلی اور فلیٹ بیک سمیت تمام اقسام کے کچھوے یکساں طور پر اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ بچوں کی مرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پیدائشی طور پر بڑے کمزور ہوتے ہیں اور اس کے بعد سمندری غذا کھانا شروع کرتے ہیں۔ ابتدا میں ہی ان کا سامنا پلاسٹک سے ہوتا ہے اور وہ اسے نوالہ بنا کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ماہرین نے اپنے تجزیئے کے بعد کہا ہے کہ کچھووں کے پیٹ سے پلاسٹک کے ایک سے لے کر 329 تک ٹکڑے برآمد ہوئے ہیں جن میں سب سے وزنی ٹکڑا ساڑھے 10 گرام تک کا تھا۔ ان میں سے 14 ٹکڑے کھانے والوں میں ہلاکت کا تناسب 50 فیصد تک ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ صرف 2010ء میں پوری دنیا کے سمندروں میں 50 لاکھ سے سوا کروڑ میٹرک ٹن پلاسٹک پھینکا گیا جو اب ایک عذاب بن چکا ہے۔ ماہرین نے اس سروے کے لیے کوئنز لینڈ کے ساحل پر آنے والے 952 کچھووں کا پوسٹ مارٹم کیا ہے جس کے بعد یہ رپورٹ شائع کی ہے۔

Scroll To Top