جنرل راحیل کا بھارت کو واضح پیغام

حالیہ کورکمانڈرز کانفرنس میں دیا جانے والا واضح پیغام دراصل ان تجزیوں اور تبصروں کا بھرپور جواب ہے جو سرحد پار سے مسلسل آرہے ہیں۔اڈی حملے کے بعد بھارت میں ہندو انتہاپسند قوتیں پوری طرح متحرک ہوچکیں مقصد یہی ہے کہ پاکستان کے خلاف فیصلہ کن اقدم اب اٹھالیا جائے۔یہ سب کچھ اس کے باوجود ہورہا ہے کہ اڈی واقعہ کے بعد بھارت تاحال ایسے ناقابل تردید ثبوت پیش نہیں کرسکا جو ثابت کرتے کہ واقعتا حملے آور سرحد پار سے ہی آئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کورکمانڈر کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ فوج بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ ہم خطے میں تازہ واقعات اور ان کے پاکستان کی سیکورٹی پر اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔“
اڈی میں بھارتی فوج کے ہیڈکوراٹر پر مسلح حملے میں 18فوجیوں کے مارے جانے کی تصدیق ہوچکی جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ رواں سال ہونے والے پٹھان کوٹ حملے اور اڈی حملے میں فرق یہ نظرآیا کہ گذشتہ واقعہ کے بعد بی چے پی حکومت نے زمہ دارنہ طرزعمل کا مظاہرہ کیا مگر اب جنگی جنون نمایاں ہے۔ ادھر نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں اعلی سطحی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کے خلاف مختلف آپشن پر غور کیا گیا۔ بھارتی وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی جذباتی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ انڈیا اڈی کمیپ پر حملے کا مناسب منصوبہ بندی کے بعد جواب دیگا۔ “
معاملے کا یہ پہلو فکر انگیز ہے کہ گذشتہ چند مہینوں سے بھارت میں ایسی کسی ناخوشگوار واقعہ کی توقع کی جارہی تھی جس کا فوری الزام پاکستان پر دھر دیاجائے ۔ یعنی جوں جوں مقبوضہ وادی میں صورت حال بھارت کے لیے تکلیف دہ ہوئی پاکستان پر الزام تراشی میں بھی شدت آتی گی۔ مودی سرکار تاحال کشمیر میں طاقت کے بل بوتے پر قبضہ برقرار رکھنی کی متمنی ہے۔نہتے مرد وخواتین پر چھیروں والی بندوقوں کے استمال کو غلطی تسلیم کرنے کی بجائے وحشیانہ اقدام کی وکالت کی جارہی ہے۔ بھارت باخوبی جانتا ہے کہ آج کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر اس کے دوست ممالک بھی تنقید کرنے پر مجبور ہیں۔ علاقائی اورعالمی میڈیا میں وادی کشمیر کے باسیوں پر ہونے والے ظلم ستم کی داستانیں نشر ہورہی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست ہونے کا دعویدار ملک مظلوں کشمیریوں پر کیسے ستم ڈھا رہا ہے اب یہ راز نہیں رہا۔ حال ہی میں او آئی سی کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر تشدد کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بھارت سے اصلاح احوال کے لیے اقدمات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ۔
66 روز سے کرفیو کا شکار کشمیریوں کا شمار دراصل انسانون کے اس گروہ سے کیا جارہا جو اپنے پورے پورے خاندانوں سمیت قید وبند کی صوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہوچکے۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایسا بھی ہوا کہ ایک ہی دن اجتجاج کرنے والے سینکڑوں افراد پر فائرنگ کے نتیجے میں 600 مظاہرین کو زخمی کردیا گیا۔ شائد یہی سبب ہے کہ اب کشمیریوں کی زبانوں پر اب ایک ہی لفظ بار بار اپنی موجودگی کا پتہ دیتا ہے اور وہ ہے آزادی ۔
کئی ہفتوں سے کشمیر میں کرفیو لگا کر لاکھوں نفوس کی زندگی اس طرح اجیرن کردی گی کہ ان کے لیے روزمرہ کی ضرورت پوری کرنا بھی مشکل ہوچکا۔مودی سرکارکا ظلم وجبر روا رکھنے کا بنیادی سبب ایک ہی ہے کہ گزرے ماہ وسال کی طرح اس بار پھر وہ تحریک آزادی کی شدت میں کمی لے آئے۔ کشمیریوں اور بھارتی حکومت میں جاری اعصاب شکن جنگ میں متاثرہ فریق اگرچہ وسائل کے اعتبار سے توانا نہیں مگر اس کا عزم فولاد ثابت ہورہا ہے۔ یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ بدترین صورت حال آخر کب تک جاری رہے گی۔ بھارت ظلم وستم کے زریعہ کشمیریوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ان کے مطالبات کسی صورت قبول نہیں کیے جاسکتے مگر دوسری طرف باہمت کشمیری جبر کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔
ایک نقطہ نظر ہے کہ موجودہ حالات کا فائدہ اٹھا کر بھارت کبھی پاکستان کے خلاف مہم جوئی کا ارتکاب نہیں کریگا۔ مودی سرکار کو باخوبی اندازہ ہے کہ کسی بھی مختصر کاروائی کی صورت میں پاکستان بھی جواب دینے پر مجبور ہوگا جو لامحالہ طور پر ایٹمی قوت کی حامل ریاستوں کو آمنے سامنے لاکھڑا کرسکتا ہے۔ دونوں ملکوں میں تصادم کی صورت میں اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بالاآخر عالمی برداری کی مداخلت کے نتیجے میں بھارتی سرکار کشمیریوں کے حق آزادی کے مطالبے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے۔ تسلیم کہ انتہاپسند نریندری مودی سے کسی بھی اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں ایسا ووٹر موجود ہے جو ہر قمیت پر پاکستان کے خلاف اقدام اٹھانے کا حامی ہے۔ دراصل یہی وہ کمزوری ہے جو نہ چاہتے ہوئے بی جے پی کو ایسا کام کرنے پر مجبور کرڈالے ہے جس کے بعد محض پچھتاوا رہ جائے۔
جنوبی ایشیاءکا شائد ہی کوئی ہوشمند شخص ہو جو پاک بھارت جنگ سے خیر کی توقع لگائے بیھٹا ہو۔ دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی بم سمیت ایسے ہتھیاروں کی کمی نہیں جس کے استمال سے اس خطے کی بشیتر آبادی کا مسقبل تاریک کیا جاسکتا ہے۔ افسوس کہ بھارت میں ایک بار وہی حلقے طاقتور ثابت ہو ررہے جو تنازعات کے خاتمے کے جنگ وجدل پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ حضرات تاحال زیادہ متحرک نہیں جو امن کی اہمیت سے نہ صرف آشنا ہیں بلکہ اس کی قدر ومنزلت کا شعور بیدا رکرنے کے لیے بھی کسی نہ کسی شکل میں کوشاں ہیں۔

Scroll To Top