پھر تو مرکز کی ضرورت ہی نہیں! 18-12-2013

kal-ki-baat

جب تک مکمل صحتیابی نہیں ہوتی میں باقاعدگی کے ساتھ نہیں لکھ پاﺅں گا۔ پھر بھی میری کوشش ہوگی کہ قارئین کے ساتھ میرا قلمی رشتہ قائم رہے۔ بنیادی طور پر یہ قلمی نہیں قلبی رشتہ ہے۔
میں 16برس سے یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ جب اس کالم کا آغاز ہوا تھا تو میاں نوازشریف کا دوسرا عہدِ حکومت اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ موجودہ وزیراطلاعات جناب پرویز رشید تب بھی میاں صاحب کی میڈیا ٹیم کے اہم رکن تھے۔ پی ٹی وی تب ملک کا واحد نیوز چینل تھا اورپرویز رشید صاحب اس کے سربراہ اور کرتا دھرتا تھے۔ ان کے ساتھ میرے مراسم غیر سیاسی انداز میں ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔
ان کا ذکر کرنے کی ضرورت مجھے ان کے اس بیان کی روشنی میں محسوس ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مہنگائی کے خلاف جلسے جلوس کے لئے لاہور کا انتخاب کرنے کی زحمت نہ فرمائیں کیوں کہ ان کی پارٹی کو مینڈیٹ کے پی کے میں ملا ہے اور مناسب یہی ہوگا کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو کے پی کے تک محدود رکھیں۔ اس ضمن میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ خان صاحب مہنگائی کا مسئلہ پہلے کے پی کے میں حل کرائیں ` پھر پنجاب کی طرف متوجہ ہوں جس کا مینڈیٹ مسلم لیگ (ن)کے پاس ہے۔
مجھے یقین نہیں آرہا کہ جناب پرویز رشید جیسے باشعور اور ذی فہم سیاست دان مملکتِ خدادادپاکستان کی تقسیم صوبوں میں اس انداز سے کرسکتے ہیں کہ ایک صوبے میں اکثریت رکھنے والی جماعت کسی ایسے صوبے کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنے کا حق نہ رکھے جہاں اکثریت دوسری کسی جماعت کی ہو۔
مجھے امید ہے کہ اس قسم کا طرزِ استدلال جناب پرویز رشید کی قومی سوچ کا حصہ نہیں۔ جو کچھ انہوں نے کہا ہے یا کہہ رہے ہیں وہ یقینی طور پر اس سیاسی دباﺅ کا نتیجہ ہے جو عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ان کی حکومت پر ڈال رہی ہے۔
جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے اس کی جڑیں ان پالیسیوں میں ہیں جو اسلام آباد میں سوچی سمجھی اور اختیار کی جاتی ہیں۔ کھربوں کی کرنسی چھاپنے کا اختیار کسی صوبے کے پاس نہیں۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ اورروپے کی قدر میں کمی کا تعلق کسی صوبے کی کارکردگی کے ساتھ نہیں۔ اگر ملک کی معیشت کو سنبھالنا صوبوںکے دائرہءاختیار میں ہوتا تو مرکز میں حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔۔؟

Scroll To Top