کب ؟ کب ؟ کب ؟

aaj-ki-baat-new

کوئی ہفتہ یا مہینہ نہیں گزرتا جب مملکت ِ خداداد پاکستان اور اس میں بسنے والے عوام کے خلاف کئے جانے والے کسی سنگین جرم کا انکشاف نہیں ہوتا۔ اب تو یہ بحث بھی اپنی معنویت کھو چکی ہے کہ کون سا نظامِ حکومت اس مملکت اور اس میں آباد لوگوں کامقدر تبدیل کر سکتا ہے کیوں کہ یہاں فوجی آمریت آتی ہے تو جانے سے پہلے بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کی لاتعداد داستانوں کو جنم دے ڈالتی ہے جو عرصہ ءدراز تک موضوع سخن بنی رہتی ہیں۔ اور اگر جمہوریت آتی ہے تو اپنے عقب جلو اوردائیں بائیں ناقابلِ یقین لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کی وارداتوں کے گھناﺅنے منصوبے لے کر آتی ہے۔
ہر آنے والا تمام جانے والوں کو ملک کی زبوں حالی اور قوم کے آلام ومصائب کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ عوام کے مقدر میں پرانے حکمرانوں اور نئے حکمرانوں کے درمیان الزامات کی جنگ کا تماشہ پتھرائی ہوئی بے بس آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کے سوا اور کچھ نہیں لکھا ہوتا۔
یہ کھیل کب ختم ہوگا ۔؟ کب اس قوم کے ڈاکوﺅں اور لٹیروں کے چہروں پر سے رہبری اور رہنمائی کے خوشنما نقاب نوچ کر پھینکے جائیں گے۔؟
تخت کب گرائے جائیں ؟ تاج کب اچھالے جائیں گے ؟ نورِ محمد سے اس ملک اور اس قوم کی تقدیر کب منور ہوگی۔؟
کب فضاﺅں میںکسی نجات دہندہ کا یہ نعرہءمستانہ گونجے کا ” اے اہلِ قریش۔۔۔ تمہارے لئے مکہ خالی کرنے کا وقت آگیاہے ۔ اب خدا کے گھر کی پاسبانی خدا کے باغیوں کے ہاتھوں میں نہیں رہنے دی جائے گی۔“۔۔۔۔۔؟
(یہ کالم اس پہلے 07-12-2013 کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top