وفاقی کابینہ اجلاس: تمام میٹرو منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ

  • ایک اور وعدے کی تکمیل: وزیراعظم ہاﺅس اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنے گا
  • بیرون ممالک سرمائے کی واپسی کیلئے ریکوری یونٹ کے قیام کی منظوری ، وزارت کیڈ ختم، سی ڈی اے وزارت داخلہ کے ماتحت،پی ٹی وی بورڈ آف گورنرز کی منظوری،ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمد کرنےکا فیصلہ،وزیراعظم آفس کے ہیلی کاپٹرز بطورایئر ایمبولینس استعمال ہونگے،ڈیمز فنڈز ٹیکس سے مستثنیٰ ہونگے،وزیر اطلاعات کی پریس بریفنگ
  • موجودہ وزیراعظم ہاو¿س ایک ہزار 96 کنال پر مشتمل ، وزیراعظم ہاﺅس اور گورنر ہاو¿سز پر سالانہ اخراجات 115 کروڑ روپے، گورنر ہاو¿س پنجاب ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا میوزیم میں تبدیل ہونگے ،ایوان صدر سے متعلق فیصلہ دوسرے مرحلے میں کیا جائے گا،وفاقی وزیر تعلیم کی پریس کانفرنس

میٹرو منصوبے

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے کہا ہے کہ کابینہ نے وزارت کیڈ کو ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے سی ڈی اے کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا ہے ،تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ نہیں ہوا،کمزور طبقات کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے،گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں،پی ٹی وی کے بورڈ آف گورنرز کی منظوری دیدی گئی ہے،جس کا چیئرمین وزیر ہوگا، میٹروپراجیکٹس پر آنیوالی لاگت کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے، تین میٹرو منصوبوں پر پنجاب حکومت 8 ارب روپے سبسڈی دے رہی ہے ، سبسڈی ختم کرنے پر پراجیکٹ آج ہی بند ہو جائینگے، اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ 250ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اس خرچے میں خیبر سے کراچی کا ریلوے ٹریک ڈبل ہوسکتا تھاجبکہ پراجیکٹ کیلئے حکومت کو 3.5ارب روپے سبسڈی دینی پڑیگی،سابق حکومت کی جانب سے گرمیوں میں یوریا کھاد کے پلانٹ کو گیس کی سپلائی روکنے سے پیدوار میں کمی ہوئی ہے، اب ربیع کی فصل کےلئے ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمد کرنی پڑےگی،ملک میں ہسپتالوں کی حالت بہت خراب ہے ،پاکستان قرضوں پر سود کی مد میں روزانہ 500ارب روپے ادا کر رہا ہے،وزیراعظم آفس کے ہیلی کاپٹرز ایئر ایمبولینس کیلئے این ڈی ایم اے کو فراہم کیے جا سکتے ہیں،ڈیمز فنڈز کی رقم انکم ٹیکس ودہولڈنگ سے مستثنیٰ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ نے کیڈ ڈویژن کو ختم کرنے ،وفاق میں صحت سے متعلقہ امور وزارت نیشنل ہیلتھ سروسزکے ماتحت کرنے اور ملکی اداروں میں ریگولیٹری نظام کی کارگردگی بڑھانے کےلئے ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دیدی ہے۔کابینہ نے اورنج ٹرین سمیت گزشتہ حکومت کے تمام ماس ٹرانزٹ منصوبوں کا خصوصی آڈٹ کرانے کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت راولپنڈی، لاہور، ملتان اور پشاور میٹرو بس منصوبوں کا عالمی معیارکی آڈٹ فرم سے خصوصی آڈٹ کرایا جائےگا۔کابینہ نے بیرون ملک سرمایہ اور اثاثہ جات کی واپسی کےلئے ریکوری یونٹ کے قیام کی بھی منظوری دی ہے ،ریکوری یونٹ احتساب کے حوالے سے ٹاسک فورس کی معاونت کرے گا۔کابینہ نے پاکستان نیوی ایکٹ 1961ءمیں ترمیم اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس میں ترمیم کی بھی منظوری دی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چودھری فواد حسین نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کیلئے دعائے مغفرت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے وزارت کیڈ کو ختم کی منظوری کابینہ نے دےدی ہے جب کہ سی ڈی اے کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا گیا ہے، سی ڈی اے نے چند دنوں میں 7.5 ارب روپے کی ہزاروں کینال زمین واگزار کرائی ہے ،سی ڈی اے کے آپریشن کو جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 34 ہزار 459کنال زمین کی نشاندہی ہوئی جسے کمرشل استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پاکستان ٹیلی وژن کے بورڈ آف گورنرز کی منظوری دی گئی ،پی ٹی وی بورڈ آف گورنر ز کا چیئرمین وزیر ہو گا،سیکرٹری اطلاعات بورڈ کے وائس چیئرمین ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد خان کو ایم ڈی پی ٹی وی کیلئے نامزد کیا جا سکتا ہے۔چودھری فواد حسین نے بتایا کہ ہارون شریف سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس کی سفارشات کو کابینہ نے مسترد نہیں کیا ہے، انکم ٹیس آرڈیننس ترمیم کےلئے پارلیمنٹ میں بھیجا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس شرح میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جا رہا،گیس کی قیمتوں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، ان میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا۔انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے۔انہوں نے کہا کہ میٹروپراجیکٹس پر آنیوالی لاگت کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میٹروبس منصوبہ 45ارب روپے میں بنا ہے،حکومت پنجاب راولپنڈی میٹرو کےلئے 2ارب روپے کی سبسڈی دیتی ہے ،ملتان میٹرو بس منصوبہ 29ارب روپے میں مکمل کیا گیا،ملتان میٹرو کا مکمل کرایہ 5کروڑ روپے ہے اور مکمل سبسڈی2.1ارب روپے ہے جبکہ لاہور میٹرو منصوبے کیلئے پنجاب حکومت 4.2 ارب روپے سبسڈی دیتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تین میٹرو بس منصوبوں بشمول راولپنڈی/اسلام آباد،لاہور اور ملتان کو ملاکر پنجاب حکومت 8 ارب روپے سبسڈی دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی اندازہ نہیں کہ کتنے عرصے تک پنجاب حکومت اتنی کثیر رقم ادا کر سکے گی تاہم اگر حکومت کی جانب سے یہ سبسڈی نہیں دی گئی تو پراجیکٹ آج ہی بند ہوجائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پشاور میٹروپراجیکٹ 67 ارب روپے میں مکمل ہوگا،پراجیکٹ پر حکومت کوئی سبسڈی نہیں دےگی۔ انہوں نے کہا کہ لاہورمیٹرو کی بسیں کرائے پرہیں جبکہ پشاورمیٹرو کی بسیں اپنی ہیں، انہوں نے کہا کہ اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ 250ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ،اس خرچے میں خیبر سے کراچی کا ریلوے ٹریک ڈبل ہوسکتا تھاجبکہ پراجیکٹ کیلئے حکومت کو 3.5ارب روپے سبسڈی دینی پڑیگی ۔انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے گرمیوں میں یوریا کھاد کے پلانٹ کو گیس کی سپلائی روک دی تھی ،گیس روکنے کے ساتھ یوریا ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی جس سے یوریا کی پیدوار میں کمی ہوئی اور اب ربیع کی فصل کےلئے ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد برآمد کرنی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں 15 نومبر تک پلانٹس کو مکمل گیس دینے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ڈیم فنڈز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ڈیمز فنڈ کےلئے چیف جسٹس کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیمز فنڈ کی رقم انکم ٹیکس ودہولڈنگ سے مستثنیٰ ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 5سال میں وزیراعظم آفس نے 2.3ارب روپے خرچ کئے ، وزیراعلی آفس میں 2.9 ارب روپے خرچ کئے گئے ،گورنر پنجاب نے ایک 1.29 ارب روپے خرچ کئے جبکہ گورنر سندھ نے 5سال کے دوران 1.4ارب روپے خرچ کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہسپتالوں کی حالت بہت خراب ہے ،پاکستان قرضوں پر سود کی مد میں روزانہ 500ارب روپے ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آفس کے ہیلی کاپٹرز ایئر ایمبولینس کیلئے این ڈی ایم اے کو فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

اسلام آباد (این این آئی)حکومت نے وزیراعظم ہاو¿س کو پوسٹ گریجویٹ تعلیمی ادارے(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر2
میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتوں کے شاہانہ طرز طریقے سے لوگ پریشان ہیں ، ضروری ہے کہ حکمرانوں کا رہن سہن ایسا ہو کہ عوام کا پیسہ ضائع نہ ہو۔ جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ حکومتوں کے شاہانہ طرز طریقے سے لوگ پریشان ہیں ، ضروری ہے کہ حکمرانوں کا رہن سہن ایسا ہو کہ عوام کا پیسہ ضائع نہ ہو، اس کےلئے وزیراعظم نے خود فیصلہ کیا کہ وہ وزیراعظم ہاو¿س میں نہیں رہیں گے اور گورنرز گورنر ہاو¿سز میں نہیں رہیں گے۔شفقت محمود نے کہا کہ وزیراعظم ہاو¿س اس وقت ایک ہزار 96 کنال پر مشتمل ہے اور اس کا سالانہ خرچہ 47 کروڑ سالانہ ہے ، مجموعی طورپر وزیراعظم اور گورنر ہاو¿سز پر 115 کروڑ روپے سالانہ خرچ آتا ہے لہٰذا اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم ہاو¿س کو اعلیٰ درجے کا پوسٹ گریجویٹ تعلیمی ادارہ بنایا جائے گا، اس کے پیچھے زمین پر مزید تعمیر بھی کی جائے گی۔وزیر تعلیم نے کہا کہ پی سی ون بنے گا اور پلان تشکیل دیں گے، یہ ادارہ پاکستان میں تعلیمی لحاظ سے منفرد ہوگا۔شفت محمود نے بتایا کہ گورنرہاو¿س مری کو ہیریٹیج یونیک ہوٹل اور پنجاب ہاو¿س مری کو ٹورسٹ کمپلیکس بنایا جائے گا ، راولپنڈی پنجاب ہاو¿س اور گورنر ہاو¿س کی عمارت کو تعلیمی ادارہ بنایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ گورنر ہاو¿س لاہور کو ایک میوزیم اور آرٹ گیلری بنایا جائے گا، گورنر ہاو¿س میں پارک کو عوام کے لیے کھولا جائے گا، 90 شاہراہ کو کرافٹ میوزیم میں تبدیل کیا جائے گا اور شاہراہ پر موجود ہال کو کنونشن سینٹر میں تبدیل کیا جائے گا ، چنبا ہاو¿س کو گورنر آفس میں تبدیل کیا جائے گا،اسٹیٹ گیسٹ ہاو¿س مال روڈ میں فائیو اسٹار ہوٹل بنایا جائے گا۔شفقت محمود نے کہا کہ گورنر ہاو¿س بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو میوزیم میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ کراچی کے گورنر ہاو¿س کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے، حکومت کے ساتھ مل کر گورنر ہاو¿س پر فیصلہ کیا جائے گا۔وفاقی وزیر تعلیم نے بتایا کہ نتھیا گلی کے گورنر ہاو¿س کو اعلیٰ درجے کا رزارٹ بنا دیا جائے گا، باقی دیگر اہم سرکاری عمارتوں سے متعلق بھی فیصلے کیے جائیں گے، ایوان صدر سے متعلق فیصلہ بھی دوسرے مرحلے میں کیا جائے گا۔

Scroll To Top