وزیر اعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنانے وعدے کی تکمیل کا وقت آن پہنچا

  • پنجاب ہاوس راولپنڈی اور گورنر ہاوس کو بھی تعلیمی ادارے کی شکل دے دی جائیگی
  • عمران خان کو کفایت شعاری کے علاوہ ٹیکس نیٹ ورک میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدمات کرنا ہونگے
  • وزیر اعظم پاکستان کی خوبی یہ بھی ہے جو وہ کہتے ہیں اکثر وبشیتر وہ کر گزرتے ہیں

zaheer-babar-logo

پاکستان تحریک انصاف اگر تبدیلی لانے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئی ہے بظاہر یہ ناممکنات میں سے نہیں کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی روایت سے ہٹ کر کچھ کردکھائے۔ اس میں کیا شک ہے کہ ملک کا ہر باخبر شخص آگاہ ہے کہ عمران خان کو حکومت کو قومی مسائل کے حل کے لیے انتھک جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی نے جو مسائل ورثہ میں چھوڈے ان سے عہدہ براءہونا قطعی طور پر آسان نہیں لہذا اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے انقلابی اقدمات کی توقع رکھنے والے بھی سامنے آرہے۔
ادھر عمران خان نے وزیر اعظم ہاوس ،گورنر ہاوسز سمیت وسیع وعریض عالی شان سرکاری عمارات کو عوام کے لیے استمال میں لانے کے لیے ٹھوس پیش رفت سامنے آگی۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے اعلان کیا کہ جلد ہی وزیر اعظم ہاوس کو اعلی معیار کی پوسٹ گریجوٹ یونیورسٹی میں بدل دیا جائیگا۔ ان کاکہنا تھاکہ ایوان وزیر اعظم 1096کنال پر محیط ہے اور اس اس پرسالانہ 47کروڈ روپے خرچ آتا ہے۔شفقت محمود کے بعقول مری میںواقع گورنمنٹ ہاوس کو بھی ہیرٹیج بوتیک ہوٹل کی شکل دی جارہی ہے۔ وفاقی وزیر نے یہ بھی کیا کہ پنجاب ہاوس روالپنڈی اور گورنر ہاوس کو بھی تعلیمی ادارے کی شکل دے دی جائیگی ۔“
اہل وطن کی بدقسمتی یہ رہی کہ انگریز سرکار تو رخصت ہوئی مگر اس کے جگہ لینے والے کالے صاحب نے اپنے طورطریقے نہ بدلے۔ کہنے کو ملک میں جمہوریت بھی آتی جاتی رہی مگر ایسا نظام نہ لایا گیا جس میں عوام اور صرف عوام کے مفاد کو عزیر رکھا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کو جو کچھ بھی کہا جائے سچ یہ ہے کہ عمران خان نے اس روایتی سیاسی طبقے کو مشکلات سے دوچار کردیا جو سالوں سے نہیں دہائیوں سے عوام کے خون پیسنے کی کمائی سے عیاشی کرتا رہا۔سمجھ لینا چاہے کہ یہ جمہوریت میں انقلاب نہیں آیا کرتے چنانچہ اسے ہی غنیمت سمجھنا چاہے کہ جو جماعت حقیقی معنوں میں عوام کی حالت زار بدلنے کے لیے کچھ کرگزرے۔
پاکستان تحرک انصاف کی اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے جس طرح بھرپور مخالفت کی جارہی وہ بلاوجہ نہیں۔عام خیال یہی ہے کہ عمران خان جس طرح روایتی طور طریقوں سے ہٹ کر ملک کے مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے اس کے نتیجے میں بعض بااثر عناصر کے مفادات کو نقصان پہنچ رہا چنانچہ کوشش کی جارہی کہ پی ٹی آئی حکومت کے درست اقدمات کو بھی غلط ثابت کرنے لءلیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا جائے۔
حال ہی میں عمران خان کی جانب سے ڈیم کی تکمیل کے لیے جس طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے مدد کی اپیل کو غلط رنگ دیا گیا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ عمران خان کی مخالف جماعتوں کی کوشش یہی ہے کہ کسی طور پر عمران خان شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کی تعمیر کی طرح ڈیم بنانے میں بھی کامیاب نہ ہوجائے۔ادھر سچائی یہ ہے کہ عمران خان اس بات کو باخوبی جانتے ہیںکہ اب تک ان کی سیاسی کامیابی کی بنیادی وجہ یہی رہی کہ انھوں نے روایتی سیاسی شخصیات کے برخلاف موقف اپنایا۔ کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف عمران خان نے اس وقت آواز بلند کی تھی جب کسی کو بھی ان کی کامیابی کا یقین نہ تھا۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ بہتری کے لیے عمران خان کو اپنی کاوش جاری رکھنا ہوگی آج نہیں تو کل ایسا وقت ضرور آسکتا ہے جب وزیر اعظم پاکستان اپنے بہت سارے وعدے پایہ تکمیل کو پہچانے میں سرخرو ہوجائیں۔
ایک نقطہ نظریہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو حکومت کے ابتدائی سو دنون میں اپنی سمت کی وضاحت کرنا ہونگی ۔ کسی کو غلط فہمی نہیںہونی چاہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان سے دودہ اور شہد کی نہریںبہانے کا مطالبہ نہیں کررہی بلکہ ان کی درخواست ہے کہ ان کروڈوں پاکستانیون کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کے حوالے سے پی ٹی آئی کچھ کر گزرے۔ ملک کی مشکلات میں ڈرامائی تبدیلی کا امکان نہیں۔ اس کی ایک وجہ تویہ کہی جارہی کہ عمران خان نے اہم عہدوں پر تعنیات کرنے گریز کیا جو واقعی اس کے مستحق تھے۔پی ٹی آئی کے مخالفین کا الزام ہے کہ ایک طرف عمران خان نے تبدیلی کی خواہش رکھنے والوں کو مایوس کیا تو دوسری جانب بدعنوان عناصر کے خلاف ایسا بھرپور کریک ڈاون بھی سامنے نہیںآسکا جس کے نتیجے میں حکومت کے سیاسی عزم کی تعریف کی جاسکے،
وزیر اعظم پاکستان کی جا نب سے کفایت شعاری مہم انہتائی مثبت پیش رفت ہے مگر اس کے ساتھ ضروری ہے کہ وسائل بڑھائے جائیں۔ ملک کے ان بااثر کرپٹ عناصر پر ہاتھ ڈالنے ہرگز گریز نہ کیا جائے جو سالوں نہیں دہائیوں سے قومی دولت بیرون ملک منتقل کرنے کے بدترین دھندے میںملوث ہیں´
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بدعنوان عناصر کے خلاف کاروئیوں میں تیزی لانا ہوگی ۔ اس ضمن میں زیادہ انتظار پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عمران خان کی جانب سے بڑی بڑی سرکار ر ہائش گاہوں کی نیلامی یا انھیں عوام کی تفریح کے مراکز میں بدلنے کا سلسلہ کسی طور پر رکنا نہیں چاہے۔وزیر اعظم پاکستان بارے خیال یہی ہے کہ آج سے نہیں سالوں سے عمران خان صرف ملک کا مفاد عزیز رکھتے ہیں وہ درحقیقت یہی خواہش لے کر وہ دنیا سے رخصت ہونے چاہتے ہیںکہ انھوں نے اپنے فرائض منصبی انتہائی جانفشانی سے ادا کیے۔

Scroll To Top