جیب کفن میں کچھ بچی کچھی سانسیں

  • یوٹیلیٹی سروسز والے اپنے بلوں کی لمبائی چوڑائی کچھ اور بڑھا دیں تا کہ ان کی ادائیگی کے بعد صارفین انہیں کے پیرہین سے اپنی ستر پوشی کر سکیں۔
  • ذاتی طور پر تھور کے جنگل میں آبلہ پائی کے باوجود میرے سامنے بہتر اور بھلائی کا گلاب کھلا رہتا ہے۔

gulzar-afaqi-logo
میں میتیں اور جنازے ڈھوتے ڈھوتے تھگ گیا ہوں۔ میں یوٹیلٹی بل بھیجنے والوں کی منت کرتا ہوں کہ وہ آزمائش کی اس گھڑی میں میری مد د کریں۔ وہ جس کاغذ پر بل بھیجتے ہیں خدا کے لئے اس کی لمبائی چوڑائی میں اتنا اضافہ کر دیں کہ ہر مہینے کی ”ٹھگی“ کے بعد صارفین اپنی ستر پوشی کے لئے ان کاغذی پیر ھنوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا سکیں
میں میتیں اور جنازے ڈھوتے ڈھوتے تھک ہوں، ہف چکا ہوں۔چکنا چور ہو چکا ہوں ۔ اس دوہرے بوجھ سے میں اس قدر ڈگمگاجاتا ہوں کہ بعض اوقات تو جنازے کو کندھا دیتے ہوئے ایک طرف لڑھک کر رہ جاتا ہوں
میں بنیادی طور پر امید اور رجائیت کی کو نپلیںخشک نہیں ہونے دیتا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ گلاس آدھا خالی ہونے پر میں غمزدہ یا مایوس نہیں ہونے دیتا ، بلکہ گلاس آدھا بھرے ہونے پر مطمئن رہتا ہوں۔ ذاتی طور پر تھور کے جنگل میں آبلا پائی کے باوجو د میری نظروں کے سامنے بہتری اور بھلائی کا گلاب کھلا رہتا ہے۔
مگر اس ساری امید پرستی کے باوجود پچھلے چند روز سے اٹھنے والی میتوں اور جنازوں کا دکھ کنڈلی مار کر میرے دل میں جم گیا ہے۔
میر دکھڑا یہ بھی ہے کہ میں جن میتوں اور جنازوں کا ذکر رہا ہوں وہ سب کے سب میرے اپنے وجود سے پھوٹ رہے ہیں۔ ہر روز اٹھنے والی نئی میتیں اور نئے جنازے مجھے اندر سے کھوکھلا کرتے چلے جاتے ہیں۔ میرا وجود ایک لڑکھڑاتا ہوا کھوکھابن کر رہ گیا ہے۔
پہلے یہ ہوا کہ میرے وجود کی ایک ویران سی کھوہ میں چپ چاپ پڑے رہنے والے ولی محمد نے پستول سے گولی داغ دی۔ ظالم نے ایسے زاویے سے خود پر وار کیا کہ ابلتے کھولتے لہو کے فوارے میں بھیگا ہوا بھیجا تڑپ کر سامنے فرش پر آرہا ہے۔ ولی محمد بہت تھڑولا نکلا۔ اوپر کی آمدنی والے محکمے میں کلرک ہونے کے باوجود ”ہذا من فضل ربی“ کا گرنہ پا سکا۔ البتہ یہ گن سن پا گیا کہ تھوڑی تنخواہ میں نو بچوں سمیت گیارہ افراد کا چولہا گرم نہیں رہ سکتا۔بیو قوف نے یہ نہ سوچا کہ اس کے بعد اس کے کنبے کے دس افراد کیا اس کی یاد میں بہنے والے آنسوو¿ں اور نوحوں سے چولہا گرم کریں گے اور اپنی اوجھڑیوں کی اندھی غاروں کو بھرنے کے لئے کیا اس کی قبر کی مٹی چائیں گے قبضہ گروپوں نے تو قبرستان کی مٹی کا ریٹ بھی تیس چالیس ہزار روپے فی قبر تک پہنچا دیا۔ جس کو یقین نہ آئے مر کر دیکھ لے۔میرا مطلب ہے وہ مرنے سے پہلے قبرستان جا کر دیکھ لے وہاں موت بھی اس قدر مہنگی لگے گی کہ آدمی کا جو خواہ مخواہ جئی جانے کو چاہئے گا۔
پھر وہ نوجوان بھی تو میرے ہی باطن کی کسی کال کو ٹھڑی سے برآمد ہوا تھا۔ کہنے کو تو جس نے ساہیوال کی مٹی سے جنم لیا۔ بڑا ہوا تو غربت اور ذلت نے اس سے جینے کے سارے حوصلے چھین چھین لئے۔آخر ایک روز اس نے اپنے ہاتھوں سے خود کو جنم دینے والی میاں اور تین سگی بہنوں کو ذبح کر ڈالا۔
اور وہ مجتبیٰ اختر میرے قلم قبیلے کا ایک ” راندہ درگاہ“ شخص بھی تو سائیوال سے ہی خوابوں کے علم تھامے دارالحکومت میں وارد ہوا تھا۔ مگر پھر ایک روز ایسا ہوا کہ وہ علمبردار اختر بھی بھوک اور احتیاج کے آگے شکست کھا کر بجھ گیا۔ مجتبیٰ اختر کو بجھے کئی سال بیت گئے ہیں۔ مگر اس جوان رعنا کی جدائی کا غم اور زخم اس قدر تازہ ہے کہ یوں لگتا ہے اس دنیا سے اس کا گزر نا کل ہی کی بات ہو۔ اور پچھلے دنوں جب میں نے اس کے خوبرو اور ذہین بیٹے حسن کو گلے لگایا تو میرا پورا وجود مجتبیٰ اختر کی خوشبو میں بھیگ گیا۔ میں اس ابھرتے ہوئے ذہین صحافی اس کی ہمیشہ اور والد محترم ( بھابھی صاحبہ) کی صحت اور سلامتی والی زندگی کے لئے دعا گو ہوں۔
اور میں اس پاگل شخص کو کیسے بھول سکتا ہوں۔ جس نے چھرے کے پے درپے واردوں سے اپنی دو بیٹیوں کو غریبی کی ذلت سے نجات دلا دی۔ اور آخر میں خود اپنی زندگی کو بھی نگل لیا۔
اور ہاں ۔۔ اُف میرے مولا میں اس ماں کا ذکرکس طرح کروں کہ اس کے ذکر سے میرا جگر و دلت ہو جاتا ہے۔ ہوا یہ کہ اس ماں پر یہ گمان گزرا کہ اب وہ اور اس کی دونوں بچیاں غریبی اور محرومی کا مزید بوجھ نہیں سہار سکتیں۔ اس نے دونوں بیٹیوں کو اپنے وجود کے ساتھ باندھ لیا تا کہ پانی کی تہہ میں چپھی موت یقینی طور پر انہیں دبوچ لے۔
میں نہیں جانتا کہ بھوک ، محرومی اور ذلتوں کے مارے ابھی کتنے اور لوگ مایوسی کے انتہائی دباو¿ کا شکار ہو کر اپنی اپنی زندگی کا شکار کرتے ہیں اور قبرستانوں کی رونق بنتے ہیں اور میرے وجود میں کنڈلی مارے دکھڑے کو اور پھیلاتے جاتے ہیں، ویرانے میں اندھیرے کی طرح۔
کئی بار میرے ذہن کے کسی گوشے میں سے ایک سہما سہما سا سوال ادھر ادھر جھاتیاں مارنے لگتا ہے۔
روپیہ سستا ہوتا جا رہا ہے اور اس سے بھی زیادہ انسانی زندگی سستی ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں میتیں اور جنازے تو اور بڑھیں گے۔ تم انہیں ڈھوتے ڈھوتے چکے ہو تھک کر چور چور ہو چکے ہو۔
جھاتیاں مارتا ہو ا سوال تندی اختیار کر جاتا ہے۔ شعلے کی طرح پھڑکنے لگتا ہے۔ میرے اردگرد میتیں ہی میتیں جنازے ہی جنازے پھیل رہے ہیں۔ امید کی کرن اور تند سوالوں کے شعلے آپس میں گڈ مڈ ہو رہے ہیں۔
میں بیک وقت روشنی اور اندھیرے میں تقسیم ہو رہا ہوں۔ ذہنی سطح پر ایک ٹرانس (TRANS) کی کیفیت سے دوچار ہوں۔
ایک مہربان طعنہ زن ہیں۔
تم یہ کیا جھک مارنے لگے ہو۔ سر کار دوبار اور گورننگ کلب سے آس امید جوڑ بیٹھے ہو ۔ بھلا کبھی بھیڑیوں نے بھیڑیوں کی رکھوالی کی ہے۔ تم نرے غبی ہو خود فریبی کا شکار ہو گئے ہو۔ گھاس چر گئے ہو۔
ایک دوسرے کرم فرما شاکی ہیں۔ تم کبھی زرعی اصطلاحات سے امیدیں باندھتے تھے وڈیروں لیٹروں کو پسپا ہوئے دیکھتے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے تیرے سارے خواب سراب ثابت ہوئے۔ سب کچھ ٹیں ٹیں فش ہو گیا۔ سب کچھ خوش فہمی، خود گمانی ، بلکہ خود فریبی ۔ پر لے درجے کی روحانیت پرستی۔
ایک چاہنے والے کہتے ہیں۔ ” یہ دیکوھ بجلی ، پانی ، گیس اور ٹیلی فون کے ماہانہ بل ، ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑی کا سالانہ ٹیکس، اوپر سے بچوں کی فیسیں، سکیورٹی چارجز، ایگزامز سر چارج، لائبریری فنڈ، ٹرانسپورٹ کا بل وغیرہ وغیرہ۔ ان سب کو جمع کرو تو پورے مہینے کی تنخواہ کا بڑا حصہ تو صرف انہیں بلوں سے غارت ہو جاتا ہے۔اب بتاو¿ کچن کا خرچہ، دوا دارو، کپڑا لتہ ، کیسے چلے گی۔
میں چپ ہوں۔ میری زبان گنگ ہے۔ میر حلق خشک ہے۔ میری آنکھوں میں اندھیرا پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے میں مر رہا ہوں ۔
لہذا میں یہ کالم یہیں ختم کرتا ہوں۔ کہ مجھے ایک اور میت اور جنازہ ڈھونا ہے۔
شہر کے مرکزی چوک پر جنازہ رک جاتا ہے۔ یہاں سے کئی سڑکیں پھوٹتی ہیں۔ ہسپتالوں، لاری اڈوں اور بنکوں کی طرف جانے والی سڑکیں۔ہجوم جنازے کو قبرستان کی طرف لے جانے کو بڑھتا ہے۔
اچانک جنازہ اٹھائے لوگوں میں ایک ہلچل سی بپا ہوگئی، ایک غلغلہ سا اٹھا کچھ لوگ چیخ و پکار کرتے ادھر ادھر بھاگ نکلے۔
یہ کیا ہوا۔ کیا ہوگیا، کیسے ہوا، اچانک میت نے کروٹ لی پھولوں کی چادر کو ایک طرف سرکاکر دائیں بائیں دیکھا اور پھر ایک نحیف ونزار بازو علم کی طرح بلند ہوا۔ اس بازو کی انگلیاں قلم بنی ہوئی تھیں۔ ایک نحیف سی آواز نے سب لوگوں کو چونکا کر رکھ دیا۔
”قبرستان نہیں ہسپتال“۔
جنازے کے جلوس میں بھگڈر مچ چکی تھی۔ مردہ زندگہ ہو چکا تھا۔ ابھی اس کے پگھلتے ہوئے وجود میں کچھ سانسیں باقی ہیں۔ ابھی جینے کی کونپل سوکھی نہیں۔ ابھی جیب کفن کے کونے کھدرے میں زندگی کی کچھ بچی کچھی سانسیں ، کچھ بچی کچھی آسیں باقی ہیں۔

Scroll To Top