ذکراس جنگ کا جو ہونے والی ہے ! 06-12-2013

kal-ki-baat
رہن سہن اور بول چال کے جن طور طریقوںکو ہمارے ٹی وی چینل فروغ دے رہے ہیں ` لباس کو مختصر سے مختصر تر کرنے کے جس رحجان کو ہماری صنف نازک میں مقبولیت حاصل ہورہی ہے ` اور اخلاقی اقدار و روایات کو جس تحقیر کے ساتھ ہمارا پورا معاشرہ الوداع کہتا چلا جارہا ہے ` اس کے پیش نظر یہ پیشگوئی کرنا ذرا بھی مشکل نہیں کہ بہت جلد ہم مغرب کے آزاد ترین اور سب سے لبرل معاشروںکو بھی پیچھے چھوڑ جائیں گے۔
” قدرے اطمینان “ کی بات البتہ یہ ضرور ہے کہ جتنی تیزی کے ساتھ اخلاق باختگی کا سیلاب ٹی وی سکرین سے اتر کر ہمارے گھروںمیں داخل ہور ہا ہے اتنی ہی تیزی کے ساتھ ہماری نوجوان نسل کے ایک بڑے حصے کو اسلام کی کشش اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ اخلاقی اقدار سے بغاوت کرنے والوں کے لئے اب میدان پوری طرح خالی نہیں۔ یہ میری امید بھی ہے اور میرا دعویٰ بھی کہ ہمارے ٹی وی چینل جس کلچر کو فروغ دے رہے ہیں اسے ایک پوری نسل کی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مغربیت کو یہاں”واک اوور “ نہیں ملے گا یہاںمساجد کی جگہ نائٹ کلب نہیں لے پائیں گے۔
اسلام دینِ فطرت ہے ۔ اس میں تھیوکریسی رہبانیت اور پاپا ئیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن اس کے نام لیوا اسے ” اخلاق باختگی “ کی جنت بھی بننے نہیں دیں گے۔
اس سے پہلے کہ ہمارا معاشرہ اخلاق باختگی کی قوتوںاور اخلاقی قدروں کے مشعل برداروں کے درمیان میدانِ جنگ بن جائے ` ہمارے میڈیاکو ایک ایسے مستقبل کی طرف اپنی پیش قدمی روک دینی چاہئے جس میں خود اس کا اپنا وجود بھی خطرات میںگھرا نظر آئے گا۔۔۔

Scroll To Top