ایک تہائی صدی کے بعد ایک ایسی پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہے جس میں ” را“ کا کوئی ایجنٹ نہیں

aaj-ki-baat-new

چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے بڑے واشگاف الفاظ اور انداز میں کہا ہے کہ جو لوگ ڈیموں کی تعمیر اوربھاشا ڈیم فنڈ کے خلاف تحقیر و تمسخربھری مہم چلا رہے ہیں وہ ایسا شوقیہ نہیں کررہے بلکہ کسی ” اور “ کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ یہ کوئی ” اور“ کون ہے یہ جاننے کے لئے سقراط بقراط یا افلاطون ہونا ضروری نہیں۔ یہ کوئی ” اور “ کوئی اور نہیں وہی خفیہ ہاتھ ہے جو کالا باغ ڈیم کی تعمیر رکوانے کے لئے ہمارے اپنے آدمیوں کے ہاتھوں میں خفیہ خزانوں کی چابیاں پکڑاتا رہا ہے۔ پاکستان کو ایک سرسبز و شاداب ملک سے ایک ویران بیابان میں تبدیل کرنے کی سازش تبھی تیار ہوگئی تھی جب فضل رازق واپڈا کے چیئرمین تھے۔ ان کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی تھی یا بٹھا دی گئی تھی کہ اگر پنجاب کے پاس بجلی کا اپنا بٹن آگیا اور پانی کی تقسیم میں پنجاب کو عملی اہمیت دے دی گئی تو پاکستان پنجابستان بن جائے گا۔
جب جنرل ضیاءالحق نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی ایک سنجیدہ کوشش کی تو فضل رازق کے بھائی جنرل فضل حق نے اس کوشش کو نشانہ باندھ کر گولی ماردی۔۔۔
اس کے بعد ” را“ نے کالا باغ ڈیم کے خلاف ایک نعرہ بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ہے ۔
” کالا باغ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا۔۔۔“
ویسے ہرج تو کوئی نہیں۔۔۔
پاکستانے بھی تو بننے کے لئے لاکھوں جانوں کا خراج لیا تھا۔ کتنے لاکھ خاندان کتنی بے شمار لاشیں پیچھے چھوڑ کر پاکستان کی مٹی کو چومنے کے لئے پہنچے تھے۔۔۔؟
بھاشا ڈیم فنڈ کی مخالفت کے پیچھے بھی وہی مائنڈ سیٹ ہے۔ ویسی ہی سازش ہے۔۔۔
خوش قسمتی کی بات یہاں یہ ہے کہ پاکستان میں ایک تہائی صدی کے بعد ایک ایسی پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہے جس میں ” را “ کا کوئی ایجنٹ نہیں۔۔۔
بڑے بڑے برج الٹے ہیں
محمود خان اچکزئی گئے۔۔۔
مولانا فضل الرحمان گئے۔۔۔
اسفند یار ولی خان گئے۔۔۔
پہلی مرتبہ لگ رہا ہے کہ پاکستان جیت رہا ہے۔۔۔

Scroll To Top