ایک بڑا مجرم اپنے انجام کو پہنچ گیا ! 04-12-2013

kal-ki-baat
اکثر بڑے جرم رات کے اندھیرے میں ہوتے ہیں۔ اس بات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ دن کے اجالے میں جِن جرائم کاارتکاب ہوتا ہے ان کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی۔ دراصل ہر جرم کی اپنی نوعیت ہوتی ہے۔ اور ہر جرم اپنی نوعیت کے مطابق خود اپنے ارتکاب کے وقت کا تعین کرتا ہے۔
نادرا کے چیئرمین طارق ملک کی برطرفی کو درحقیقت ایک بڑا جرم سمجھا جائے یا اسے ملکی سیاست کے روز مرہ کے معمولات کا ایک حصہ قرار دیا جائے ` اس سوال کا صحیح جواب تب تک سامنے نہیں آسکے گا جب تک اس واقعے سے منسلک تمام حقائق سامنے نہیں آجاتے۔فی الحال بادی النظر میں یہ واقعہ اپنے اندر تمام ایسے لوازمات و عوامل سموئے ہوئے ہے جن کے مرکبّ سے ”یادگار “ جرائم جنم لیتے ہیں۔
یوں تو قوم کے خلاف ہونے والے جرائم کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو انگشتِ الزام زیادہ تر فوجی حکمرانوں کی طرف اٹھتی ہے جو اپنی بے لگام مطلق العنانی کی بدولت بڑے سے بڑا اور برُے سے برُا کام پلک جھپکتے میں کر گزرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ مگر ہمارے سِوِل حکمران اس شعبے میں دوچار قدم آگے ہی نظرآتے رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوا کرتا ہے کہ فوجی آمر اپنی غیر معمولی ” طاقت “ کے لئے اپنی وردی کے مرہون منت ہوا کرتے ہیں اورسِوِل حکمرانوں کو یہ زعم ہوا کرتا ہے کہ عوام کے ووٹوں کے تقّدس نے انہیں بڑے سے بڑا جرم کرنے کا اختیار دے دیا ہوتا ہے۔
نادرا کے چیئرمین کی برطرفی ہوسکتا ہے کہ ریاست کے خلاف کوئی جرم ثابت نہ ہو ` اور عوام کو یہ باور کرا دیا جائے کہ درحقیقت ایک ” مجرم“ کواس کے جرم کی سزا دی گئی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو کچھ سنکی لوگ یہ ضرور پوچھیں گے کہ طارق ملک کاجرم کیا تھا۔ تو اس کا جواب تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ جس ملک میں انتخابی دھاندلیا ںایک ” مرغوب “ روایت کا درجہ رکھتی ہوں وہاں اس کھیل کے کھلاڑیوں کے لئے خطرناک مشکلات پیدا کرنا کوئی چھوٹا جرم نہیں۔

Scroll To Top