ٹوئیٹر کالم

twitter-logoٹویٹر لوگو ٹویٹ لوگو

موت زندگی کی وہ شکل ہے جس میںسارے انسان بالآخر برابری پالیتے ہیں۔ہم سب قطار میں کھڑے ہیں۔جانا وہیں ہے جہاں مرحومہ گئیں۔اللہ ان کی مغفرت کرے اور جوار رحمت میں جگہ دے
۔۔۔۔۔۔۔۔
احسن اقبال سی پیک منصوبے پر حق ملکیت اس طرح جتاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اس کی بشارت انہیں خواب میں ہوئی تھی۔یہ بات خارج از امکان نہیں کہ وہ کسی روز بانگ درا اور ضرب کلیم کا مصنف ہونے کا بھی اعلان کر دیں۔ اس بنا پر کہ ان کے نام میں بھی اقبال شامل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت ساری گردنیں اس لئے موٹی ہوتی جا رہی ہیں کہ ان کے لئے پھندے تیار نہیں ہوئے۔پھندے اس لئے تیار نہیں ہوئے کہ موٹی گردنوں نے حکومتی نظام کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔عمران خان تنہا یہ شکنجہ نہیں توڑ سکتے۔یہ شکنجہ تب ٹوٹے گا جب چندگردنوں کو پھندے مل جائیں گے۔پھر ہی تبدیلی آئے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگست۲کو چلتے چلتے میں نے کپتان سے کہا کہ میں۵۵ برس سے نظام کی تبدیلی کے خوابکاتعاقب کر رہا ہوں مجھے ناکامی ہوئی ہے مگر آپ نے نہایت نا مساعد حالات میں ایک پارٹی بنائی اور اسے۲۲برس میں یہاں تک لے آئے۔کپتان نے جواب دیا”یہ کرکٹ کی ٹریننگ کا کمال ہے مگر ناکام آپ بھی نہیں ہونگے”ڈیم بنے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
تایخ بتاتی ہے کہ نصرت خداوندی پر اندھے ایمان کے ساتھ غیر متزلزل ارادہ شامل ہو جائے تو ناممکن کا لفظ ڈکشنری سے غائب ہو جاتاہے۔انشااللہ اب ڈیم بھی بنیں گے اور وہ نظام بھی آئے گا جس سے ہمارے دشمن خوفزدہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مٹا کر رہیں گے غریبی کو ہم
غریبی– ہمارا مقدر نہیں. !!!
1993 کی انتخابی مہم میں یہ پیپلز پارٹی کے لئے میرا تھیم سانگ تھا۔آج کا پاکستان بھی یہی صدا بلند کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہد خاقان عباسی کو دیکھ کر مجھے یوں لگا کہ اگلے الیکشن میں وہ خود بھی اپنے آپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔کہا انہوں نے یہی کہ وہ دوبارہ حکومت میں آئیں گے لیکن کہا کچھ اس انداز میں کہ لگا کہہ رہے ہوں “ہمیں ووٹ دینا نہ دینامگر داتا دربار جا کر ہمارے لئے دعا ضرور کرنا”
۔۔۔۔۔۔۔۔
اووووف ف ف ف برادرم مالک آپ نے اس بدبو دار صافی(ح بھی شامل کرلیں)کو تعفن پھیلانے کے لئے کیوں مدعو کیا ہے؟اس کا بس چلے تو پوری پاک فوج کو بھارتی وردیاں پہنا کر نعرہ لگائے بندے ماترم!!
۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان سب کے لئے ہے۔مسلمانوں کے لئے بھی اور غیرمسلموں کے لئے بھی۔غیر مسلموں میں عیسائی سکھ ہندو یہودی اسماعیلی اور قادیانی سب شامل ہیں۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ سب کے سب اپنی پہچان دیانتداری سے کرائیں۔مثال کے طور پر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میںمسیحی یا قادیانی یا ہندو مسلمان ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔
فرد کے حقوق پر معاشرے کے مفادات قربان نہیں کئے جا سکتے
۔۔۔۔۔۔۔۔

Scroll To Top