بھیک اور خیرات میں زمین آسمان کا فرق، خیر والے ڈیمز بن کر رہیں گے

  • اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنا بھیک مانگنا نہیں ، چیف جسٹس آف پاکستان
  • قومی مفادات کی مخالفت سمت جانے والوں کو عوام نے مسترد کر دیا
  • پاکستان کا بچہ بچہ دامے درمے سخنے اہم قومی منصوبے کا ساجھے دار بن گیا
  • اندرون و بیرون ملک پوشیدہ ناجائز دولت کی برآمدگی کی کوششیں تیز کر دی گئیں
  • بھیک اور خیرات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

gulzar-afaqi

بھیک بھوک سے ہے ۔ اور خیرات خیر سے۔ ہر وہ کام جو دوسروں کو خیر کے مقصد سے جڑا ہو خیرات کیلائے گا۔

ہمارا ملک اس وقت دوسنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایک تباہ حال معیشت دوسرا مستقبل قریب میں آبی قحط کا خطرہ ہے۔
پاکستان کی سابقہ حکومتیں بالعموم اور ابھی گزرنے والی نون لیگ حکومت بالخصوص قومی معیشت کو تباہی کے دہانے پر چھوڑ گئی ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی بہتات۔ آمدنی کے مقابلے میں قرضوں کے کوہ حمالیہ کو دیکھ کر اب کوئی ملک ، کوئی عالمی مالیاتی ادارہ ہمیں آبرو مندانہ طریقے سے قرضہ دینے کو تیار نہیں۔
دوسری طرف قومی و عالمی ماہرین آب نے ہمیں وارننگ دی ہے کہ اگر ہم نے آج ہی سے آبی ذخائر یعنی ڈیمز کی تعمیر کے لئے کسی بھی درجے کی منصوبہ بندی اور عملی اقدامات نہ اٹھائے تو آنے والے برسوں میں ملک و قوم کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو 2025تک خدانخواستہ ہمارا ملک تاریخ کے بد ترین قحط کا شکار بھی ہو سکتا ہے ۔ جس سے ہمیں نہ صرف پینے کا پانی بھی پوری مقدار میں میسر نہ آئے گا بلکہ ہمارے لہلہاتے کھیت بھی بنجر ہو کر رہ جائیں گے۔اب کہ ملکی معیشت تباہ حالی کے دہانے پر ہے۔ اور پانی کا قحط سر پر منڈھلا رہا ہے۔ کیا کہا جائے۔ وہی جو زندہ قوموں کا وطیرہ ہوتا ہے قائد اعظم نے کہا تھا مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا۔ ہماری اپنی تہذیبی تاریخ بھی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ مسلمانوں نے ہر مشکل چیلنج کو خندہ پریشانی سے قبول کیا ہے اور دستیاب وسائل اور قومی شراکت کے ذریعے ایسے چیلنجوں کا بڑی خوشدلی اور شجاعت سے مقابلہ کیا ہے اور نتیجہً اللہ کی نصرت سے ہمیشہ سرخرو بھی ہوئے ہیں۔
اپنے تاریخی ورثے اور تہذیبی تاریخ کے اسی روشن وصف کے پیش نظر کچھ عرصہ پہلے پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عزت مآب ثاقب نثار صاحب نے اپنے طور پر پیش قدمی کرتے ہوئے ڈیمز تعمیر کرنے کی غرض سے ایک فنڈ قائم کیا تھا جس میں عوام کے ہر طبقے نے دل کھول کے عطیات دیئے۔ ا
اب چند روز پہلے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی اسی منصوبے کو سامنے رکھتے ہوئے پرائم منسٹر ڈیمز فنڈ قائم کر دیا ہے۔ایک معین مفہوم میں ہم بالائی سطح پر دونوں فنڈز ایک ہی مقام پر جمع کئے جا رہے ہیں۔ اور اب تک ان فنڈز میں آنے والی رقوم اور عطیات کی رقوم کروڑوں نہیں اربوں و پہنچ چکی ہیں۔ اور معاشرے کے ہر طبقے کے لوگ اور بطور خاص سمندر پار پاکستانیوں کی غالب تعداد ڈیمز فنڈ میں دل کھول کر عطیات اور چندہ جمع کر ا رہی ہے۔
کیا کبھی چندوں سے بھی ڈیمز بنتے ہیں ۔ چند وں اور بھیک سے عظیم الشان آبی و برقی منصوبے پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچا کرتے۔ وغیرہ وغیرہ ہماری عاقبت نا اندیش اپوزیشن اور اس کے زرخرید بعض اخبار نویس، اینکرز اور بھاڑے کے ٹاو¿ٹ اس سطح کے مخالفانہ پروپیگنڈے سے عامتہ الناس کو ور غلانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر مقام شکر ہے کہ عوام نے اس گھٹیا سوچ اور اس سے پیدا شدہ مخالفت کو بری طرح مسترد کر دیا۔
بادی النظر میں مخالفین کے پروپیگنڈے میں کچھ وزن محسوس ہوتا ہے
ایک ڈیم بنانے میں تقریباً900ارب روپے درکار ہیں۔ اور اسے 8/7سال کی مدت میں مکمیل ہوتا ہے۔ اس خطیر رقم کے مقابلے میں جب چندوں اور عطیات کو دیکھا جائے تو ان میں ایک سکیم کے تحت دس روپے بھی چندہ وصول کیا جارہا ہے اور لاکھوں کروڑوں روپے بھی۔
اب جہاں تک تو دس روپے چندے کی مالی اہمیت کا تعلق ہے تع بلاشبہ یہ نہ ہونے کے برابر ہے مگر اس چھوٹے سے چند کی علامتی اہمیت بہت ہے ۔ اور وہ یہ کہ قوم کو جس شدید آبی قحط کا خطرہ ہے اس سے عہدہ برآہونے کے لئے ہر کسی و ناکس ، بوڑھا جوان اور بچہ تک اپنی اپنی حیثیت کے مطابق قومی سطح کے ایک عذاب سے بچنے کے لئے کوشاں ہے۔
ایک طرف تو عوامی شرکت اور سانجھے داری سے جو رقوم آرہی ہیں ان کی تعداد خواہ کتنی ہی کم اہم ہو مگر مجموعی مالی وسائل میں شامل ہو کر وہ ایک موثر کردار ادا کرنے والا عامل ضرور بن جائیں گے۔
ادھر دوسری طرف حکومت نے ملک کے اندر اور باہر ایسے دو سے تین سو بڑے مگر مچھوں اور گرگوں کا کھوج لگا لیا ہے جنہوں نے پاکستان اور بیرون ملک میں کروڑوں اربوں روپے ناجائز کمائی سے جائیدادیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ ایک تازہ ترین سروے کے مطابق صرف یو اے ای کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں پچھلے ایک سال میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والوں میں پاکستانی گرگے اور ٹائیکونز شامل ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق یو اے ای حکومت ڈیڑھ سو ارب ڈالر مالیت کی ”مشکوک“ جائیدادیں یا ان کی مالیتی رقوم پاکستان حکومت کے حوالے کرنے کے لئے آمادگی کا اظہار کر چکی ہے ذرائع کے مطابق متعلقہ ادارے اس ضمن میں جلد ہی عملی کارروائی کرنے والے ہیں۔
اسی طرح سپریم کورٹ نے متعلقہ اداروں کی ہدایت کی ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں کم از کم ایک سو افراد کی فہرست عدالت میں پیش کریں تا کہ ان سے ناجائز دولت واپس لے کر ڈیمز فنڈ میں جمع کرائی جاسکے۔
مالی وسائل کی ایک ممکنہ یا فت زرداری اور نواز شریف کی بیرون ملک چھپائی گئی ناجائز اور غیر قانونی دولت کے خفیہ خزینوں سے ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ اس ضمن میں باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت کے متعلقہ ادارے عالمی قوانین کے تناظر اور ممالک کے مابین قانونی امداد کے دو طرفہ معاہدوں کی روشنی میں ابتدائی پیش رفت کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ آزاد مالیاتی ماہرین پر امید ہیں کہ عمران حکومت اس باب میں بہت جلد اہم کامیابیاں حاصل کر لے گی۔
ڈیمز تعمیرات کے ضمن میں اب تک جو معاملات سامنے آئے ہیں۔ ان میں ایک سب سے اچلا پہلو یہ ہے کہ تہی دامن ہونے کے باوجود انسان پختہ ارادہ کرلے اور اپنے اللہ کے ساتھ تقویٰ کی راہ اپنا لے تو اسے کامیابی ضرور میسر آتی ہے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال ، نمل یونیورسٹی میانوالی کے سلسلے میں عمران خان صاحب اور اب ڈیمز تعمیرات کے سلسلے میں عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار صاحب اور وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کی پیش قدمی انتہائی قابل تحسین ہیں۔ اندرون و بیرون ملک سے اب تک عوام الناس کی طرف سے جو عطیات دیئے جا رہے ہیں وہ انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ اور عوام مخالفین کے اس پر و پیگنڈے کو یکسر مسترد کر رہے ہیں کہ چندوں اور بھیک سے ڈیمز نہیں بنا کرتے۔ یہاں چیف جسٹس صاحب کی ایک تنیبہہ ریکارڈ پر لانا ضروری ہے انہوں نے پچھلے روز ہی فرمایا کہ مخالفین کو کچھ نہ ملا تو انہوں نے ڈیمز پر مخالفت شروع کر دی۔ جناب ثاقب نثار نے واضح کر دیا کہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنا بھیک مانگنا نہیں ۔ اور اسی مفہوم کو ایک وسیع تر پیرائے میں ہم کہہ رہے ہیںکہ خیر کا ہر کام خیرات ہوتا ہے اور خیرات بھک نہیں ہوتی۔ خیرات سے دوسروں کے لئے آسانیاں فراہم کرتی ہے۔ ڈیمز کی تعمیرات کے لئے بھی پوری قوم خیرات کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اور قوم کو پورا یقین ہے کہ موجودہ قومی قیادت کے دور میں پاکستان میں ڈیمز اور آبی ذخائر کی تعمیر مکمل ہو جائے گی اور پاکستان کے کھیت کھلیان ہمیشہ سرسبز و شاداب آباد رہیں گے۔ انشا ءاللہ

Scroll To Top