چیف جسٹس کا قابل تحسین عزم

zaheer-babar-logo

یہ افسوسناک ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے عوام سے اپیل کو غلط رنگ دیا جارہا ہے۔ ملک میں آبی زخائر کی تکمیل کے لیے عوام کے تعاون کو زکوتہ ، صدقات اور خیرات کا نام دینا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس کی کھل کر مذمت بھی کی جانی چاہے۔ پاکستان میں تیز سے کم ہوتے آبی زخائر کے معاملہ پر بہت پہلے توجہ دینے کی ضرورت تھی مگر بدقستمی کے ساتھ گذشتہ دس سالہ جمہوری دور میں بدترین لاپرواہی برتی گی۔ یہ بات درست ہے کہ ڈیم بنانا عدالتوں کا کام نہیں مگر پاکستان ان دنوں جس بحران کا شکار ہے اس کا بجا طور پر تقاضا ہے کہ اس ضمن میں ریاست کا ہر ستون اپنی زمہ داری ادا کرے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ٹھیک کہا کہ دیا میر بھاشا ڈیم بنانے کی مخالفت کرنے والے عملاکسی اور کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔چیف جسٹس جناب ثاقب نثار واضح کیا ہے کہ ڈیم کی تعمیر کے معاملے پر کسی قسم کو کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے اس کی بھی مذمت کی کہ ایک سیاست دان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو اپنی سیاسی جماعت بنا لینی چاہے۔ “
ہمارے اہل سیاست کا المیہ یہ ہے کہ وہ تو خود ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے سکے نہ ہی وہ کسی اور کو یہ کریڈٹ دینے کو تیار ہیں۔ہم جانتے ہیںکہ 2008سے 2013تک اور پھر 2013سے 2018 تک باترتیب پی پی پی اور مسلم لیگ ن آبی زخائر کی تکمیل کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کا معاملہ تو یہ رہا کہ وہ آئینی ترامیم کے علاوہ کسی بھی قومی مسلہ کو حل کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہ دی۔ پی پی پی کی ناکامی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ وفاق اور سندھ کے علاوہ بلوچستان میں بھی حکومت ہونے کے باوجود بی بی کے قاتل تک گرفتار نہ کیے جاسکے۔ آج بھی صورت حال یہ ہے کہ پی پی پی دس سال تواتر سے سندھ پر حکومت کررہی مگر کراچی کے مسائل اور اندرون سندھ کے رہنے والون کی مشکلات جوں کی توںہیں۔ ادھر مسلم لیگ ن نے بھی امید لگانے والوںکو مایوس کیا۔ 2013 میں میاں نوازشریف کے وزارت عظمی کے حلف اٹھانے کے بعد امید کی جارہی تھی کہ ”تجربہ کار قیادت “ اس انداز میں بہتری لائے گی کہ لو گ عش عش کر اٹھیں گے۔ ریکارڈ پر ہے کہ میاں نوازشریف بطور اپوزیشن لیڈر اعلانیہ جلسے جلوسوں میں کہتے رہے کہ ان کے پاس تجربہ کار ٹیم ہے جو قومی مسائل کو تیزی سے حل کرنے میںمہارت رکھتی ہے مگر پھر کیا ہوا، چشم فلک نے دیکھا کہ پنجاب میں ان کے بھائی شہباز شریف دس سال تک ”خادم اعلی “کی حثیثت سے براجمان رہے مگر صوبے کے کسی ایک شہر میں بھی پینے کا صاف پانی تک میسر نہ آسکا۔ میڑو ٹرین اور اورینج ٹرین جیسے منصوبوں پر اربوں نہیں کھربوں روپے خرچ کردئیے مگر پانچ دریاوں کی سرزمین کے باسیوں کے ٹرانسپورٹ کے مسائل حل نہ ہوئے۔ ٹھیک کہا گیا کہ سیاست دان وہ کہلاتا ہے جس کی نظر آنے والے عام انتخابات میں کامیابی پر ہو جبکہ رہنمائی اس کو زیبا ہے جو آنے والی نسلوں کا مسقبل مدنظر رکھے۔اس معیار کی روشنی میں پورے یقین کے ساتھ کہا جاسکتا کہ یہاں کئی دہائیوں سے الیکشن میںکامیابی حاصل کرنے والے سیاست دان ہی نہیں بونے سیاست دان کہے جاسکتے ہیں۔
کھلے دل سے تسلیم کرلینا چاہے کہ آج کے پاکستان میںمحض پانی کا بحران ہی نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور ان کی دیگر بنیادی ضروریات بھی تیزی سے کم ہورہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبہ اہل اقتدار کی ترجٰیحات میں کہیں جگہ نہیں پاتے رہے نتیجہ یہ نکلا کہ مذکورہ دونوں شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر اقدمات اٹھانے کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی۔
کسی کو نہیں بھولنا چاہے کہ حالیہ سالوں میں ملک میں جو بڑے بڑے کام ہوئے اس میں عدلیہ نے ہی بنیادی کردار ادا کیا ۔مثلا مردم شماری اورمقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد سیاسی حکومتوں کا اقدام نہیں تھا بلکہ اس کے لیے عدالت عظمی نے انھیں مجبور کیا۔ملکی سیاسی قیادت کوسمجھ لینا چاہے کہ ان کی قانونی اور اخلاقی اتھارٹی اسی وقت تسلیم کی جائے گی جب وہ خود کو اس کا اہل ثابت کریں۔ مقام شکر ہے کہ پاکستان میں تیزی کے ساتھ بہتری کے مناظر دیکھنے کو مل رہے۔ آج کا پاکستان ماضی کے پاکستان سے بہت حد تک بدل گیا۔ اب پاکستان کا عام شہری حکومتوں سے یہ توقع لگائے ہوئے ہے کہ اس کے منتخب نمائندے موجودہ مسائل حل کرنے کے علاوہ مسقبل کی مشکلات کے سدباب کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔
حوصلہ افزاءہے کہ ایک طر ف سپریم کورٹ کو ڈیم بنانے کے حوالے سے پورے عزم کے ساتھ میدان میں موجود ہے تو دوسری جانب عمران خان بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے مدد کی اپیل کرچکے۔ پاکستان ہم سب کا ہے لہذا اس کے مسائل پر اسی وقت قابو پایا جاسکتا ہے کہ جب عام وخواص کے امتیاز سے قطع نظر ہر کوئی اپنا کردار ادا کرے۔ ملک میں دیا میر بھاشا ڈیم ہی نہیں دیگر آبی زخائر بھی بنانے ہونگے ۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں کیا جاچکا جو موسیماتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے جارہے یقینا ایسے میں آبی زخائر بنانے میں تیزی لانا آنے والے ماہ وسال میں ہماری مشکلات میں خاطر خواہ کمی لا سکتا ہے۔

Scroll To Top