‘شمالی کوریا کو جوہری پروگرام سے باز رکھنے کا منصوبہ ناکام’

شمالی کوریا جوہری پورگرامز

امریکی قومی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو جوہری پروگرام ترک کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی امریکی پالیسی ‘شاید ایک ناکام کوشش ہے‘۔

ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے نیویارک میں ایک تقریر کے دوران کہا کہ امریکہ اگر اس ضمن میں کچھ کر سکتا ہے تو وہ ہے کہ شمالی کوریا کے پروگرام کو اس سطح پر روکنے کی امید۔

شمالی کوریا کو غیر جوہری بنانے کے طویل مدتی مقصد کے پیش نظر یہ واشنگٹن کی جانب سے ایک غیر معمولی اعتراف ہے۔

تاہم امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ ان کی پالیسی میں کوئي تبدیلی نہیں آئی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ بین الاقوامی مخالفت اور سخت پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا نے اپنے جوہری اور راکٹ پروگرامز میں حالیہ برسوں کے دوران تیزی سے ترقی کی ہے۔

قومی سلامتی پر صدر اوباما کے مشیر کی حیثیت سے کلیپر نے سنہ 2014 میں شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا۔

کم جونگ ان

منگل کو کونسل آن فورن ریلیشنز میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے شمالی کوریا کی حکومتکے بارے میں کہا کہ شمالی کوریا ‘جوہری صلاحیت کو اپنی بقا کا ٹکٹ’ سمجھتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ‘اس لیے جوہری صلاحیت کے پروگرام سے دست بردار ہونے کے لیے انھیں تیار کرنے مشکل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری اسلحے کو محدود کرنے کے لیے اس کے رہنما کم جونگ ان کو معاشی لالچ دینی زیادہ بہتر پالیسی ہو سکتی ہے۔

کلیپر کے بیان کے جواب میں امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ اب بھی چھ ملکی بات چیت کے دوبارہ شروع ہونے کے لیے کوشاں ہے جو کہ سنہ 2009 سے تعطل کا شکار ہے۔

Scroll To Top