ایون فیلڈ ریفرنس:سزا معطلی پر نواز شریف، مریم اور صفدر کے وکیلوں کے دلائل مکمل

  • مریم نوازکا کردار تب سامنے آئے گا جب نوازشریف کا اس پراپرٹی سے تعلق ثابت ہو گا ، بار ثبوت نیب پر آتا ہے ،جسٹس اطہر من اللہ
  • ٹرائل کورٹ نے مفروضے پر یہ بات کہی کہ عمومی طور پر بچے والد کے ہی زیر کفالت ہوتے ہیں، مریم نوازکو بینیفشل اونرقراردیاگیا، سزا والد کی پراپرٹی چھپانے پر ہوئی

نواز مریم صفدراسلام آباد(این این آئی) احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی قید کی سزا کے خلاف سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل مکمل کرلیے۔ جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے احتساب عدالت سے سزا یافتہ تینوں افراد کی درخواستوں پر سماعت کی ۔احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے مجموعی طور پر 11 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے سزا معطلی کے حق میں دلائل دینا شروع کئے ۔نواز شریف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءکا بیان نہیں دیکھا جس میں ایون فیلڈ کی ملکیت بتائی گئی ہو جس پر جسٹس میاں گل حسن نے سوال کیا کہ اگر ملکیت نہ بتائی گئی ہو تو پھر نتائج کیا ہونگے؟خواجہ حارث نے کہا کہ معلوم ذرائع کا ہی معلوم نہ ہو تو تضادات معلوم نہیں کیا جاسکتا اور جب معلوم ذرائع نہیں بتائے جائیں گے توعدم مطابقت کا نہیں معلوم ہوسکتا اور یہ بہت بنیادی نکتہ ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کا موقف یہ ہے کہ میاں شریف نے جائیداد تقسیم کی ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کا موقف ہے کہ ان کا جائیدادوں اور سرمایہ کاری سے کوئی تعلق نہیں ،عدالت کے سامنے موقف یہ ہے کہ ان کا ان جائیدادواں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جسٹس میاں گل حسن نے سوال کیا کہ عدالتی فیصلے میں بے نامی دار کی بات آئی ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا فیصلے میں صرف زیر کفالت کا ذکر ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا کبھی زیر کفالت کو سزا ہوئی ہے، نیب کا موقف تھا کہ بچے زیر کفالت تھے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ بچے نواز شریف کے زیر کفالت نہیں تھے اور ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت بھی موجود نہیں ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا 1993 میں بچے کس کے زیر کفالت تھے جس پر خواجہ حارث نے کہا اس وقت بچوں کا دادا زندہ تھا، فاضل جج نے استفسار کیا میاں شریف کی حیات میں یہ کاروبار مشترکہ خاندانی تھا جس پر وکیل نے کہا شیئر ہولڈنگ سب کی تھی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا فرد جرم میں بے نامی کا ذکر ہے خواجہ حارث نے جواب دیا، فرد جرم اور سزا میں واضح تضاد ہے ،پراپرٹیز کا جہاں بھی ذکر ہے وہاں بیٹوں کا نام ہے نواز شریف کا کہیں نہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ عموماً بچے والدین کی زیر کفالت ہوتے ہیں، بچے زیر کفالت ہیں اس لیے نواز شریف مالک ہیں۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بچے زیر کفالت تو دادا کے بھی ہو سکتے ہیں، کوئی ایسا ثبوت پیش کیا گیا کہ بچے نواز شریف کے زیر کفالت تھے؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت یا دستاویز موجود نہیں ہے اور واجد ضیا بھی اس طرح کہتے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نواز شریف خود بھی میاں شریف کے زیر کفالت ہو سکتے تھے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں ایک سے زیادہ چیزیں مفروضوں پر مبنی ہیں۔جسٹس میاں گل حسن نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ آپ نے پہلے کہا تھا کہ واجد ضیاءنے بتایا انہوں نے جائیداد کی اصل قیمت کہیں نہیں دیکھی ،اگر کچھ دستاویزات میں قیمت نہیں لکھی گئی تو اس کا اثر کیا پڑےگا۔خواجہ حارث نے کہاکہ اگر جائیداد کی قیمت نہیں لکھی گئی تو نتیجہ کیسے نکالا جا سکتا ہے ،معلوم ذرائع آمدن اور فلیٹس کی قیمت بتائے بغیر کہا گیا اثاثے آمدن سے زائد ہیں، گواہوں کے بیانات موجود ہیں تاہم کسی نے اصل قیمت سے متعلق نہیں بتایا۔خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ واجد ضیاءنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بچوں کا زیر کفالت ہونے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام میں بچے کس کے زیر کفالت تھے، بار ثبوت نیب پر آتا ہے ، جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے پرنیب کو بتانا ہوگا کہ بچے کس کے زیر کفالت تھے اور یہ سوال اہم ہے کہ بچے دادا کے زیر کفالت تھے یا والد کے، ٹرائل کورٹ نے تو مفروضے پر یہ بات کہی کہ عمومی طور پر بچے والد کے زیر کفالت ہوتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا تمام درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ پراپرٹی سیٹلمنٹ میاں شریف نے کی اور کوئی ایسا دستاویز ہے جو نواز شریف کی فلیٹس کی ملکیت ظاہر کرے۔خواجہ حارث نے جواب دیا پراسیکیوشن، گواہوں، تفتیشی میں سے کسی نے ایسی کوئی دستاویز پیش نہیں کی۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سوال کیا کہ ‘کیا نواز شریف نے اپنی تقاریر میں قطری کا کوئی ذکر کیا تھا جس پر خواجہ حارث نے کہا ‘نواز شریف کی تقاریر اور قوم سے خطاب میں اس طرح کا کوئی ذکر موجود نہیں تھا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سزا بے نامی دارپرہوئی، زیرکفالت کے معاملے پرنہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ مریم نوازکوٹرائل کورٹ نے بینیفشل اونرقراردیااوروالد کی پراپرٹی چھپانے پرسزا سنائی۔ امجد پرویز نے کہا کہ فرد جرم سے نیب آرڈیننس شیڈول تھری اے کوحذف کردیا گیا تھا۔امجد پرویز نے کہاکہ سپریم کورٹ نے کہا تھا اگرجعلی دستاویزجمع کرانا ثابت ہوتومعاملہ متعلقہ فورم کو بھجوایا جائے۔امجد پرویز نے کہا کہ گواہ رابرٹ ریڈلے فونٹ کی شناخت کا ماہرنہیں تھا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہ اکہ مریم نوازکا کردارتوتب سامنے آئے گا جب نوازشریف کا اس پراپرٹی سے تعلق ثابت ہو گا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کودیکھنا ہے جوخود کہتا ہے کہ وہ مفروضے پرمبنی ہے۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ مفروضے کی بنیاد پرکریمنل سزا برقرارنہیں رہ سکتی ۔ نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے کہاکہ ابھی آپ نے صرف ایک سائیڈ کے دلائل سنے ہیں، ہم اپنے دلائل میں عدالت کو مطمئن کریں گے۔

Scroll To Top