سپریم کورٹ : پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیس 9لاکھ 50 ہزار روپے مقرر

  • فیس سے متعلق ریگولیشنز کا معاملہ آئندہ پیر تک طے کرکے عدالت کو آگاہ کر نے کا حکم
  • میڈیکل کالجوں کے ذریعے غیر معیاری ڈاکٹر بنیں گے تو ہمارا علاج کون کرے گا ، چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹاسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیس 9لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کرتے ہوئے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی داخلہ فیس سے متعلق ریگولیشنز کا معاملہ آئندہ پیر تک طے کرکے عدالت کوآگاہ کر نے کاحکم دیا ہے ۔ بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی جانب سے زائد فیسوں کی وصولی سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ اس موقع پرچیف جسٹس نے کہا کہ اگرمیڈیکل کالجوں کے ذریعے غیر معیاری ڈاکٹر بنیں گے تو ہمارا علاج کون کرے گا، حد تویہ ہے کہ غیر معیاری میڈیل کالجوں سے پڑھ کر آنے والے ڈاکٹرز کو بلڈ پریشر تک چیک کرنا نہیں آتا ، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ کم لاگت میں اچھے ڈاکٹر سامنے آئیں، تاہم یہ بھی درست ہے کہ نجی کالجز کے بغیر میڈیکل کا شعبہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔لیکن عدالتی کارروائی کا مقصد یہی ہے کہ میڈیکل کے شعبہ میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نجی کالجز میں فیس کا معاملہ طے کردیاگیا ہے جہاں داخلہ فیس نو لاکھ پچاس ہزار روپے مقرر ہوئی ہے تاہم اگریہ فیس مزید کم کرکے نولاکھ مقرر کی جائے تو بہترہوگا جس پرنجی میڈیکل کالجوں کے وکیل نے پیش ہوکر عدالت کو بتایا کہ فیس نو لاکھ پچاس ہزارروپے طے ہوچکی ہے جس میں کمی ممکن نہیں۔ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ چلیں فیس نو لاکھ پچاس ہزار ہی طے کرلیتے ہیں کیونکہ میڈیکل کالجز میں داخلے بھی شروع ہیں، اس لئے عدالت ہدایت کرتی ہے کہ میڈیکل کالجوں میں داخلہ سے متعلق ریگولیشنز کا معاملہ آئندہ پیر تک طے کرلیا جائے ،بعدازاں مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ۔

Scroll To Top