بیگم کلثوم نواز کا انتقال شریف فیملی کے لیے بڑا دہچکہ

zaheer-babar-logo

بیگم کلثوم نواز کا انتقال پر ملک کے مختلف حلقوں کی جانب افسوس کا اظہار کیا گیا ۔ سابق خاتون اول لندن میں کئی ماہ سے علیل تھیں۔ سابق وزیر اعظم سے بیگم کلثوم نواز کی ملاقات الیکشن سے چند روز قبل ہوئی ۔ یاد رہے کہ میاں نوازشریف اور مریم نواز کو پاکستان اس لیے آنا پڑا کہ پانامہ لیکس کے مقدمہ میںاحتساب عدالت نے انھیں سزا سنا دی تھی چنانچہ بعض مبصرین کے خیال میں سابق وزیر اعظم اس لیے وطن واپس لوٹے کہ یہ بڑی حد تک ان کی سیاسی بقا کا مسلہ تھا۔ مگر الیکشن میں توقعات کے برعکس مسلم لیگ ن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکی اور یوں میاں نوازشریف اور مریم نواز اپنی پاکستان آمد کا فورا فائدہ نہ اٹھا سکے ۔
بیگم کلثوم نواز گھریلوخاتون تھیں مگر سابق صدر پرویز مشرف کے اقتدار سنھبالنے اور میاں نوازشریف کے جیل جانے پر انھیں پارٹی قیادت سنبھالنی پڑی۔ بعض حلقوں کا دعوی ہے کہ وہ جس انداز میںاپنے شوہر کے حق میں سڑکوں پر نکلیں اس سے سابق وزیر اعظم کی جلاوطنی کی راہ ہموار ہوئی۔ میاںنوازشریف کی نااہلی کے بعد بیگم کلثوم نواز لاہور کے حلقہ این اے 120سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں مگر وہ بیماری کے باعث ایک دن بھی اسمبلی اجلاس میںشریک نہ ہوسکیں۔
حوصلہ افزاءہے کہ بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر وزیر اعظم پاکستان نے فوری طور پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھیں بہادر خاتون قرار دے ڈالا۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی تدفین کے لیے شریف خاندان جس قسم کے انتظامات چاہتا ہے وہ کیے جائیں گے۔ سابق وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی کو پیرول پر رہائی کے حوالے سے بھی حکومت نے شریف خاندان کی درخواست سے پہلے ہی رضامندی ظاہر کردی گی ۔
اس میں شک نہیں کہ موت ایک دکھ ہے۔ جن حالات میں میںکلثوم نواز کا انتقال ہوا وہ افسوسناک ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملکی عدالتوں میںان کے شوہر، بیٹی اور بیٹوں کے خلاف جو فیصلہ آیا وہ اس طویل تحقیقات کے بعد سامنے آیا جس میں سابق وزیر اعظم قصور وار پائے گے۔ میاں نوازشریف کا دکھ اپنی جگہ مگر شائد انھیں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی موقعہ پر یہ خیال ضرور آئے کہ آخر وہ حالات ہی کیوںپیدا ہوئے جس کے نتیجے میں انھیں آخری دنوں میں اپنی بیمار اہلیہ سے دور جانا پڑا۔
شریف فیملی کی جانب کہا جاچکا کہ بیگم کلثوم نواز کی تدفین لاہور میںمیاں شریف کی قبر کے ساتھ کی جائیگی ۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آچکیں کہ ان کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین اپنے والدہ کی میت کے ساتھ پاکستان نہیں آئیں گے۔ یقینا اس کی وجہ ان کے خلاف ہونے والے وہ فیصلے ہیں جس میں انھیں گرفتار کرنے کے احکامات صادر کیے جاچکے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ اب بیگم کلثوم نواز کے انتقال کے بع مسلم لیگ ن کیا حکمت عملی اختیار کرنے جارہی۔ ان کے مخالفین کے بعقول میاں نوازشریف اور مریم نواز کی ممکن حد تک یہ کوشش ہوگی کہ المناک واقعہ کے بعد ضمانت کا کوئی نہ کوئی بندوبست ہوجائے۔ ادھر قانونی حلقوں کا خیال ہے کہ سابق وزیر اعظم کچھ بھی کرلیں جس انداز میں ان کے خلاف بدعنوانی کے مذید مقدمات زیر سماعت ہیں ان میںایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ وہ عدالتوں سے کوئی بڑا ریلیف حاصل کرنے میںکامیاب ہوجائیں۔
یقینا مسلم لیگ ن کے لیے نادر موقعہ ہے کہ وہ عارضی ریلیف حاصل کرنے کی بجائے اپنے طرزسیاست کو اس طرح تبدیل کرے کہ اس کے نتیجے میں جہاں بطور جماعت اسے فائدہ حاصل ہو وہی ملک قوم کے لیے بھی بہتر نتائج سامنے آئیں۔ پاکستان یقینا بدل رہا ہے ۔ ملکی سیاست اورسماج میں جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہیں قوی امکان ہے کہ آنے والے چند سالوں میں حیران کن واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے پاکستان میںلوگ اپنی بنیادی ضروریات زندگی کا حصول چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ حکومتیں اس انداز میں ان کی مسائل حل کریں جس سے جمہوریت پر ان کا اعتماد مذید بحال ہو۔ دراصل پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایسی مغربی جمہوریت کا تصور کرنا مشکل ہے جو ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرے۔ ایسے سیاست دانوں کی بھی امیدنہیں کرنی چاہے جن کی ترجیح اول صرف اور صرف پاکستان اور اس کے عوام کہلائیں۔
میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے لیے بیگم کلثوم نوازکا انتقال معمولی واقعہ نہیں۔اس کے نتیجے میں جو پہلا تاثر پیدا ہوا وہ یہ کہ سابق وزیر اعظم کے چاروں بچوں کے لیے باپ کی اہمیت بڑھ چکی۔ مریم نواز، حسن ، حسین اور اسماء کی یقینا خواہش ہوگی کہ کس طرح ان کا باپ جیل سے نکل کر لندن مقیم ہوجائے تاکہ ایک آرام دہ زندگی ان کا مقدر بن سکے۔ مگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بظاہر ایسے کسی بھی اقدام کے لیے تیار نظر نہیںآتی۔ عمران خان کہہ چکے کہ وہ کسی طور پر احتساب کے عمل سے پچھے نہیں ہٹیں گے۔ وزیر اعظم پاکستان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان عوام کی نظروںمیں اسی وقت سرخرو ہونگے جب وہ اپنے ان وعدوں کی تکمیل کرڈالیں جو وہ سالوں سے پاکستانیوں کے ساتھ کرتے چلے آرہے۔ عمران خان کا عوام کی نظروں میں سرخرو ہونا اس طرح ممکن بنایا جاسکتا ہے جب بدعنوانی کے خلاف وزیر اعظم پاکستان کسی طور پر پسپائی اختیارنہ کریں چاہے حالات جیسے بھی ہوجائیں۔

Scroll To Top