نئی فوجی قیادت کا اصل چیلنج 01-12-2013

kal-ki-baat
آج کچھ ناقابلِ تردید حقائق میں اپنے عظیم الشان ماضی کی روشنی میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اس سلسلے میں کچھ استفادہ میں فلسفہ ءتاریخ کے عظیم مفکر ابن خلدون کے افکار سے بھی کروں گا۔ یہاں اپنے عظیم الشان ماضی سے میری مراد مسلمانوں کا عظیم الشان ماضی ہے۔ یہ بات میرے بس میں نہیں کہ میں اپنی پہچان ملت ِ اسلامیہ کے قائم کردہ حصار سے نکل کر کسی اورانداز میں کراﺅں۔ اور مجھے یقین ہے کہ مملکت ِ خداد پاکستان میں بسنے والا کوئی بھی حقیقی کلمہ گو اپنی پہچان اس نظریہ سے ہٹ کر نہیں کرائے گا جس نے چودہ صدیوں سے ہمیں ایک ملی بندھن میں جکڑ رکھاہے۔ اس حقیقت کا اطلاق صرف مملکتِ خداداد پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں پر ہی نہیں ` روئے زمین پر آباد ہر اس کلمہ گو پر ہوتا ہے جس کے پورے وجود میں اذان کی آواز پر یہ پیغام گونج اٹھتا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر ہمیں اپنی بار گاہ میں سجدہ ریز ہونے کے لئے بلا رہا ہے۔
اگرچہ ہماری صفوں میں ایسے کلمہ گوﺅں کی تعداد بھی بے حساب ہوگی۔ جن کی جبینیں ” سجدہ ریزی “ کی لذت سے محروم رہتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے ملی تشخص کے بارے میں دو آراءہوسکتی ہیں۔ ہمارا ملی تشخص وہی ہے جس کا پرچم اٹھا کر قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنا وہ تاریخی سفر شروع کیا تھا جس کی منزل 14اگست1947ءکو قائم ہونے والا پاکستا ن تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو نا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کا قیام ہمارے ملی تشخص کے بھرپور اظہار اور اثبات کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ وطنِ عزیز میں میڈیا پر آج کل یہ بحث بڑے زور سے چھڑی ہوئی ہے کہ ہماری قومی سیاست میں مذہب یعنی دین یعنی اسلام کا کوئی عمل دخل ہوناچاہئے یا نہیں۔ اس بحث کو ایسے دانشوروں اور تجزیہ کاروں نے چھیڑ رکھاہے جو اپنی شناخت لبرلزم ` سیکولرزم روشن خیالی اور کشادہ نظری جیسی اصطلاحوں کے حوالے سے کراتے ہیں۔ بادی النظر میں یہ اصطلاحیں جس قدر پرُ کشش اور بے ضرر نظر آتی ہیں ` حقیقت میں ان کے اندر مملکتِ خداداد پاکستان کی فکری اساس کو ” اڑانے “ کا بارود اسی افراط سے بھرا ہوا ہے۔
اگر ملتِ پاک کو اس کے ملی تشخص یعنی اس کی دینی شناخت سے الگ کردیا جائے تو پھر نہ تو اس ملک کے عالم ِ وجود میں آنے اور نہ ہی اس کے قائم رہنے کا کوئی جواز باقی رہتا ہے۔
اپنی اسی دلیل کی بنیاد پر میں پورے اعتماد اور تیّقن کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ پاکستان میں دین اور سیاست کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی بات کرتے ہیں یا اس مقصد کے حصول کے لئے کوئی فکری یا عملی مہم چلا رہے ہیںوہ درحقیقت خود پاکستان کے وجود کو قائم ودائم دیکھنا ہی نہیںچاہتے۔
میرے نزدیک سیاست کو اسلام سے دور کردینا یا اسلام کو سیاست سے الگ رکھنا ایسی ہی بات ہے کہ جیسے روح اور جسم کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے ۔اسلام کے بغیر پاکستان خطہ ءزمین اور جغرافیائی لکیروں کے سوا اور کچھ نہیں۔ پاکستان کا قیام اسلام کی وجہ سے عمل میں آیا اور اس کا وجود بھی اسلام کے ساتھ اس کے ” طبعی “ رشتے کے قائم رہنے کامرہون منت ہے اور رہے گا۔
جو ” صاحبانِ دانش “ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قائداعظم ؒ پاکستان کو سیکولر بناناچاہتے تھے ان کے اس دعوے کو جھٹلانے کے لئے میں یہاں بابائے قوم کے متعدد ارشادات پیش کرسکتا ہوں لیکن اس ضمن میں یہ سوال پوچھنا ہی کافی ہوگا کہ کیا ہمیں اپنی شناخت کا معاملہ طے کرنے اور اپنے وطن کے ساتھ اپنے رشتے کا تعین کرنے کے لئے صرف اس بطلِ جلیل اور اس ہادیءبرحق کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہئے جس نے ساتویںصدی میں دنیاکی پہلی اسلامی ریاست قائم کی تھی ؟
اگرچہ ہم صدقِ دل کے ساتھ محمد علی جناح ؒ کو اپنا قائداعظم اور اپنے پاکستان کا بانی مانتے ہیں لیکن ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ ہم اسی امت کا تسلسل ہیں جو آنحضرت کی رہنمائی میں حجازِ مقدس سے اٹھی تھی ` اور ہمارا پاکستان ایک مملکت کے طور پر اسی عظیم قلمرو کا تسلسل ہے جسے ایک نبی ایک سپہ سالار اور ایک سٹیٹسمین کی حیثیت سے آپ نے ریاست مدینہ کے نام سے قائم کیا تھا۔
آنحضرت ہمارے لئے صرف ایک نبی کا مقام نہیں رکھتے ` آپ ایک عظیم سپہ سالار ایک عظیم فاتح اور ایک عظیم مملکت ساز بھی تھے۔ آپ نے ہی ہمیںسکھایا کہ روئے زمین پرخدا کی بندگی کیسے کی جاتی ہے۔ آدمیوں کے ریوڑ کو ایک قوم کیسے بنایا جاتا ہے ` مختلف قبیلوں اور نسلوں کو ایک ملی تشخص کے سانچے میں کیسے ڈھالا جاتا ہے `خدا کی زمین پر خدا کی حاکمیت کیسے قائم کی جاتی ہے اور اس حاکمیت کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک کیسے پھیلایا جاتا ہے۔
آپ ہی پاکستان کے حقیقی بانی تھے۔ اگر ہم اس تاریخی حقیقت کی باریکیوں کو اپنی سوچ کا حصہ بنالیں تو ہمارے لئے حق و باطل خیر و شر اور دوست و دشمن کے درمیان فرق سمجھنا آسان ہوجائے گا۔
اور اگر ہم صدقِ دل سے مان لیں کہ پاکستان کے حقیقی بانی پیغمبر اسلام تھے تو پھر ہم پر لازم ہوجائے گا کہ ہم اپنی ذاتی زندگی سے لے کر اپنی معاشرتی اور ریاستی زندگی تک تمام بنیادی معاملات میں رہنمائی آپ کی ذات مبارکہ سے حاصل کریں۔
آج سے پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہے۔ ایک نئی فوجی قیادت نے وطنِ عزیز کے دفاع اور تحفظ کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ وطنِ عزیز سے یہاں میری مراد صرف وہ جغرافیائی لکیریں نہیں جو نقشے میں ایک خاص خطہ ءزمین کو پاکستان کا نام دیتی ہیں ۔ روح کے بغیر جسم کی کوئی حیثیت نہیںہوتی۔ ہماری نئی فوجی قیادت کے سامنے چیلنج صرف ” جسم “ کے تحفظ اوردفاع کا نہیں اِس جسم کو ” جان “ بخشنے والی اُس روح کے تحفظ اوردفاع کا بھی ہے جس کے بغیر یہ ملک قائم نہیں رہ سکتا۔
جس ریاست سے ہمارا روحانی اور تاریخی رشتہ ہے اُس کا بانی اس کا حاکمِ اعلیٰ بھی تھا ` اور اس کا سپہ سالار بھی ۔
ہماری تاریخ کے بہترین ادوار وہی تھے جن میں حاکمیتِ اعلیٰ اور ” سپہ سالاری “ کے فرائض اور مناصب ایک ہی فرد کے ہاتھ رہے۔ مثال میں یہاں آپ کی ذات مبارکہ کی دوں گا۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ ` حضرت عمر فاروق ؓ ` حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت علی ؓ کا کوئی بھی سپہ سالار نہیں تھا۔ وہ ہر فوجی مشن کے لئے ایک موزوں کمانڈر کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ آپ نے تقریباً ہر فوجی مشن کی کمانداری خود کی۔
آج ہم ایک مختلف دور میں رہ رہے ہیں ۔ اس دور میں مملکت سازی کے تقاضے وہ نہیں جو آپ کے دور میں تھے۔ لیکن جو بات یاد رکھی جانے والی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے دین میں ” سِول“ اور ” فوجی “ بنیادوں پرقوم کی تقسیم کی کوئی گنجائش نہیں۔
اگر ہم خدا کی حاکمیت اعلیٰ کا تصور دل کی گہرائیوں سے قبول کرلیں تو متذکرہ بالا حقیقت واضح طور پر ہماری سمجھ میں آجائے گی۔ میں نے ابتداءمیں ابن خلدون کا ذکر کیا ہے۔ ان کا فرمانا یہی تھا کہ اسلام میں حاکمِ اعلیٰ ہی مملکت کا حقیقی سپہ سالار ہوتا ہے۔ اور ان کا فرمانا یہ بھی تھا کہ وہ قوم حرفِ غلط کی طرح مٹ جاتی ہے جس میں دوست اوردشمن کے درمیان فرق کی پہچان نہ رہے تاریخ میں قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنے دشمن کو پہچانتی ہوں۔اور ان پر غالب آنے کی امنگ سے مالا مال ہوں۔

Scroll To Top