lead

  • عمر 68 برس تھی،میت جمعہ کو پاکستان لائی جائے گی، تدفین جاتی امرا رائے ونڈ میں ہوگی، کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں ،لندن کے ایک نجی ہسپتال ہارلے اسٹریٹ کلینک میں زیرِ علاج تھیں
  • صدر مملکت،وزیراعظم ،آرمی چیف ، چیف جسٹس ،سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ، آصف زرداری ، بلاول بھٹو، اعتزاز احسن، ،قمر زمان کائرہ ،شجاعت حسین ،پرویزالٰہی،مولانا فضل الرحمن ، سراج الحق و دیگر سیاسی ، مذہبی و سماجی شخصیات کا اظہار تعزیت

لندن/ اسلام آباد(آن لائن)سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی اہلیہ سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز طویل علالت کے بعد 68 برس کی عمر میں لندن میں انتقال کرگئیں، شہبازشریف سمیت شریف خاندان نے انتقال کی تصدیق کردی،کلثوم نواز کی میت کو جمعہ کے روز پاکستان لایا جائے گا اور ان کی تدفین جاتی امرارائیونڈ میں کی جائے گی،نواز شریف کی اہلیہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور لندن کے ایک نجی ہسپتال ہارلے اسٹریٹ کلینک میں زیرِ علاج تھیں، میاں شہبازشریف بیگم کلثوم نواز کی جسد خاکی لینے کیلئے لندن روانہ ہورہے ہیں ۔وزیراعظم ،آرمی چیف ،آصف علی زرداری ، مولانا فضل الرحمن سمیت سیاسی و مذہبی شخصیات کا اظہار تعزیت۔تفصیلات کے مطابق لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں زیر علاج سابق وزیراعظم کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت گزشتہ رات ایک مرتبہ پھر انتہائی تشویشناک ہوگئی تھی جس پر انہیں آج برطانوی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ ڈاکٹرز ان کی صحت کے حوالے سے کچھ نہیں بتا رہے تھے تاہم اب حسن نواز شریف نے تصدیق کی ہے کہ ان کی والدہ انتقال کر گئی ہیں۔ہارلے سٹریٹ کلینک کے ذرائع کے مطابق بیگم کلثوم نواز کے پھیپھڑوں کا مسئلہ سنگین ہو گیا تھا جس کے باعث انہیں وینٹی لیٹر پر ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ بیگم کلثوم نواز اس وقت لائف سپورٹ اور گردوں کے ڈائلسز پر جبکہ ان کے اہل خانہ نے صحت کی خرابی کی تصدیق کرتے ہوئے دعا کی اپیل کی تھی تاہم اب وہ ہم میں نہیں رہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خاندان کے ساتھ تعزیت کی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اپنے تعزیتی پیغام میں بیگم کلثوم نواز کی وفات پر اظہارِ افسوس کیا اور مرحومہ کے غمزدہ خاندان کیساتھ بھی تعزیت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔ حسین نواز کا کہنا ہے کہ جب سے ان کو ہوش آئی تھی اور اشاروں سے بات کرنے کے قابل ہوئی تھیں، وہ اکثر مریم نواز اور نواز شریف کے بارے میں پوچھتی تھیں اور کافی فکرمند تھیں، گزشتہ روز بھی جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز شریف کے بارے میں پوچھا تھا۔حسین نواز نے مزید کہا کہ انہیں اس بات کا بھی صدمہ تھا کہ ان کے شوہر نواز شریف اور بیٹی مریم نواز ان کیساتھ نہیں ہیں اور انہیں یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ وہ دونوں جیل میں ہیں جبکہ جیل میں ہونے کے بعد دونوں کی ان کیساتھ زیادہ بات چیت بھی نہیں ہوتی تھی اور یہ صدمہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ بھی بنا۔کینسر کے مرض میں مبتلا بیگم کلثوم نواز کو گزشتہ رات طبیعت بگڑنے پر دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا وہ تقریبا ایک سال 25 دن تک لندن میں زیر علاج رہیں۔نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف اور اور ان کے صاحبزادے حسین نواز نے بیگم کلثوم نواز کی وفات کی تصدیق کی۔شہبازشریف نے کہا کہ میری بھابھی اور میاں نواز شریف صاحب کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز اب ہم میں نہیں رہیں، اللہ تعالی انکی مغفرت فرمائے۔شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وہ پہلی دستیاب فلائٹ سے لندن روانہ ہوں گے۔ ِ ِ ِخاندانی ذرائع کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی تدفین پاکستان میں ہی ہوگی اور جیسے ہی لندن میں مجسٹریٹ سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ ملے گا، میت کو وطن لانے کے انتظامات کیے جائیں گے۔دوسری جانب ذرائع کاکہنا ہے کہ میاں نوازشریف کو ان کی اہلیہ کے انتقال سے اڈیالہ جیل میں آگاہ کیا گیا جس کے بعد نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کو ایک ہی روم میں منتقل کردیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کے انتقال کی خبر پر نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر آبدیدہ ہوگئے۔ بیگم کلثوم نواز کافی عرصے سے علیل تھیں اور انہیں علاج کے لیے لندن منتقل کیا گیا تھا۔22 اگست 2017 کو لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کے گلے میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔بعد ازاں یکم ستمبر 2017 کو لندن میں کلثوم نواز کے گلے کی کامیاب سرجری مکمل ہوئی تھی۔جس کے بعد 20 ستمبر کو سابق وزیر اعظم کی اہلیہ کی لندن میں کینسر کے مرض کی تیسری سرجری ہوئی تھی۔اس کے بعد کلثوم نواز کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی تھی تاہم رواں سال میں ان کی طبیعت ایک مرتبہ پھر خراب ہوگئی تھی۔رواں سال جون کے مہینے میں کلثوم نواز کو اچانک دل کا دورہ پڑا تھا، جس کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم بیگم کلثوم نواز کی عیادت کرنے اور ان کے ساتھ عید منانے لندن پہنچے تھے۔ابتدائی طور پر کلثوم نواز کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا تھا کہ ان کی والدہ کی طبیعت میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم بعدازاں ان کی حالت پھر سے بگڑ گئی تھی اور وہ وینٹی لیٹر پر ہی زیر علاج تھیں۔دوسری جانب صدر مملکت عارف علوی نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر اظہار تعزیت کیا اور ان کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی ۔ وزیراعظم عمران خان نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت محترمہ کلثوم نواز کی فیملی اور لواحقین کو قانون کےمطابق تمام سہولیات فراہم کرے گی اپنے ایک تعزیتی بیان میں وزیراعظم نے لواحقین سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بیگم کلثوم نواز ایک بہادر خاتون تھیں انہوں نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو مرحومہ کے لواحقین کو تمام ضروری سہولیات کی فراہمی میں معاونت کی ہدایت کی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اللہ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے بتایا کہ شہباز شریف ہی کلثوم نواز کی میت کو وصول کرنے کے لیے لندن راونہ ہوں گے۔کلثوم نواز کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ایک اعلی شخصیت کی مالک اور کسی بھی سیاسی نقطہ نظر سے ہٹ کر ایک رول ماڈل تھیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی ساری دعائیں نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔پاکستان مسلم لیگ(ن)کی رہنما مائزہ حمید نے کلثوم نواز کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال پورے ملک کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی تدفین کے حوالے سے ان کا خاندان ہی فیصلہ کرے گا، اور اسی کے لیے شہباز شریف روالپنڈی روانہ ہوچکے ہیں۔کلثوم نواز کے سیاسی کردار پر بات کرتے ہوئے مائزہ حمید نے بتایا کہ لوگوں نے نواز شریف کے خلاف تو بات کی لیکن ان کی اہلیہ کے خلاف کسی نے کبھی بھی کوئی بات نہیں کی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری اورشریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر اظہارافسوس کیا ہے ۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بیگم کلثوم نواز ایک بہادر خاتون تھیں انہوں نے جمہوریت کے لئے بہت جدوجہد کی جبکہ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اللہ بیگم کلثوم نواز کو جوار رحمت میں جگہ دے۔پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے بھی بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے شریف خاندان کی دل آزاری کی جس پر شریف خاندان سے معذرت کا طلب گار ہوں ۔اللہ تعالیٰ بیگم کلثوم نواز کو جوار رحمت میں جگہ دے ۔سید خورشید شاہ نے بھی بیگم کلثوم نوا ز کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لئے دعا مغفرت کی ۔ سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ، صوبائی گورنر ز ، صوبائی وزراءاعلیٰ، صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر،مسلم لیگ (ن) کے چھوٹے بڑے تمام رہنماﺅں ، جمعیت علماءاسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن، سراج الحق سمیت تمام سیاسی و مذہبی شخصیات نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر افسوس کا اظہارکیا اور ان کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انہوں نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو مرحومہ کے خاندان کو تمام سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان کے ناراض رہنما علی رضا عابدی نے بھی کلثوم نواز کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضمانت دیئے جانے کی امید کا اظہار کیا۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے کہا کہ ‘کلثوم نواز سیاسی بصیرت رکھنے والی اور مدبر خاتون تھیں اور وہ واحد خاتون تھیں جنہوں نے پرویز مشرف کی آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔۔

Scroll To Top