کرپٹ عناصر دنیا کے کسی بھی گوشے میں چلے جائیں، پیچھا کریں گے ،چیئرمین نیب

  • ہر سفارش اور بڑے آدمی کا اثر و رسوخ نیب کے گیٹ کے باہر ختم ہوجاتا ہے ،10 ماہ میں کسی فیس کو نہیں کیس کو دیکھا
  • غلطی درگزر ہوگی لیکن جرم نہیں ،غلطی اور جرم میں فرق ہے ، تاجروں کا چھوٹا جرم بھی ملکی مفاد کیلئے مضر ثابت ہوتا ہے ،تاجروں سے خطاب
اسلا م آباد:۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال چیمبر آف کامرس و انڈسٹری کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

اسلا م آباد:۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال چیمبر آف کامرس و انڈسٹری کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ہر اثر اور سفارش نیب کے گیٹ کے باہر ختم ہو جاتا ہے اور کرپٹ عناصر دنیا کے کسی گوشے میں چلے جائیں پیچھا کریں گے ، غلطی درگزر ہوگی لیکن جرم درگزر نہیں ہوسکتا ،غلطی اور جرم میں فرق ہے ، تاجروں کا چھوٹا جرم بھی ملکی مفاد پر مضر ہوتا ہے ،ہر سفارش اور بڑے آدمی کا اثر و رسوخ نیب کے گیٹ کے باہر ختم ہوجاتا ہے ،10 ماہ میں کسی فیس کو نہیں کیس کو دیکھا۔تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب میں آج تک کسی کی عزت نفس کی تذلیل نہیں کی گئی جن کے پاس موٹر سائیکل تھیں ان کے دبئی میں جو ٹاور کھڑے ہیں اس کے بارے میں پوچھ لیا تو کیا برا کیا ،مجھے بتایا گیا کہ تاجر برادری میں خوف اور ہراسمنٹ ہے، یقین دلاتا ہوں ہر وہ تاجر جو ضمیر کے مطابق ملکی مفاد اور معیشت کی بہتری کےلئے کام کررہا ہے کبھی ایسا نہیں ہوگا ان میں سے کسی کے لیے ہراسمنٹ کا ذہن میں تصور بھی آجائے۔انہوں نے کہا کہ نیب میں تاجر برادری کے لیے اسپیشل ڈیسک بنارہے ہیں، ڈائریکٹر یا ڈپٹی ڈائریکٹر لیول کا افسر وہاں وہاں موجود رہے گا جو تاجروں کی جائز شکایات کے ازالے کے لیے ہر وقت تیار ہوگا، تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ کےلئے نیب موجود ہے ،اگر آپ کا ہر قدم ملکی مفاد کےلئے ہے تو نیب آپ کے ساتھ ہے۔چیئرمین نیب نے کہاکہ ہمیشہ کوشش کی کہ کیا کوئی مقدمہ بنتا ہے اور بلانے کا جواز موجود ہے، غلطی اور جرم میں فرق ہے، غلطی درگزر ہوگی لیکن جرم درگزر نہیں ہوسکتا اور تاجروں کا چھوٹا جرم بھی ملکی مفاد پر مضر ہوتا ہے۔جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے خلاف ایکشن لیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ غریب کے منہ سے نوالہ چھینا، سالہا سال گزرنے کے باوجود جو خواب انہوں نے دیکھا تھا وہ پورا نہیں ہوا، وہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے، ایسے لوگوں میں سے چند لوگوں کو بلاکر کہا گیا کہ غریبوں کے پیسے دیں یا پھر پلاٹ دیں، اس میں کوئی دھونس دھمکی نہیں ہوئی۔چیئرمین نیب نے کہا کہ زندگی میں اپنی اننگز کامیابی سے مکمل کی، نیب میں صرف کرسی کےلئے نہیں بیٹھا ،چاہتا ہوں کہ یہ آخری اننگز یادگار رہے ،یقین دلاتا ہوں کرپٹ عناصر دنیا کے کسی گوشے میں چلے جائیں نیب ان کا پیچھا کرے گا، لوگوں کی لوٹ ہوئی دولت ان تک پہنچائی جائےگی ، یہ کوئی مہربانی نہیں میرے فرائض میں شامل ہے۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ مجھے خریدنے کی باتیں کی گئیں میں کوئی پلازہ نہیں ، ایسی چیزیں ناممکنات میں سے ہیں، ہر اثر، ہر سفارش اور بڑے آدمی کا اثر و رسوخ نیب کے گیٹ کے باہر ختم ہوجاتا ہے، گیٹ کے اندر صرف قانون ہے جس کے آپ سب اور میں بھی پابند ہوں۔چیئرمین نیب نے کہاکہ اس وقت پاکستان نوے ارب ڈالر سے زیادہ کا مقروض ہے، کیا نیب کا قانون کے تحت کوئی حق نہیں کہ جن لوگوں نے یہ قرض لیا ان سے پوچھے، زمین پر کوئی قرض نظر نہیں آرہا، قرض کا مقصد یہ تھا کہ عوام اور ملک کےلئے لیے جائیں لیکن ایسا نہیں ہوا، ان لوگوں سے جواب طلبی کرنا میرے فرائض میں شامل ہے۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہاکہ 10 ماہ میں کسی فیس کو نہیں کیس کو دیکھا، طے پایا تھا کہ سب کا احتساب ہوگا، جو کرے گا وہ بھرے گا، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا، نیب کا کسی گروپ اور کسی شخص یا مفاد سے کوئی تعلق نہیں، ہر قدم اور تمام وفاداریاں صرف پاکستان اور عوام سے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب کمزور معیشت کو بہتر بنانے کے لیے سب کچھ کررہا ہے، وہ جو ملک کے اربوں ڈالر باہر لے کر گئے وہ واپس آسکے ، حکومت اور نیب اس کے لیے پوری کوشش کررہی ہے لیکن کوئی غلط سپنا نہیں دکھاو¿ں گا کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، جب ہمارے ایک ہاتھ میں کشکول ہوگا تو دوسرے ملک کو کیسے مجبور کرسکتے ہیں۔

Scroll To Top