پی ٹی آئی۔۔۔ حکومت ہر جگہ مگر جماعت کہاں ہے؟

  • ایک ٹاسک فورس بدلے ہوئے حالات میں حکومتی پارٹی کے کردار کے یقین کے لئے ناگزیر ہے
  • سیاسی جماعتوں میں تھنک ٹینک اور سٹڈی سرکل کارکنوں کی تربیت کا بہترین ذریعہ
  • کامیاب حکومت حکم اور حکمت کے خوشگوار امتزاج کا نام ہے۔
    اے سیاہ عمران، ذرا سنبھل ذرا تحمل کچھ رواداری تھوڑی سی برداشت تیری کامیابی نوشتہ دیوار

gulzar-afaqi-logo

اللہ کریم نے ہمیں کتاب دی اور ساتھ حکمت بھی
کتاب حق اور سچ ہے تو حکمت اس کے نفاذ کی تکنیک اور تدبیر۔
گاڑی تو ہر کوئی چلا سکتا ہے، کھوبے میں مگر پھنس جائے تو اسے کیسے نکالنا ہے۔ یہ ہے حکمت، تکنیک اور تدبیر۔
سپاہ عمران تیری کامیابی نوشتہ دیوار ذرا سنبھل ذرا تحمل کچھ رواداری تھوڑی سی برداشت۔ تم جان چکو کہ اب تم حکمران بن چکے ہو۔ ایک جداگانہ اسلوب کے حکمران ریت روائت سے ہٹ کر۔ ایسے حکمران جو محض حکم چلانا ہی نہیں جانتے بلکہ حکم اور حکمت کو شیرو شکر بنا کر چلتے ہیں ۔ جو مطالبے کرتے نہیں مطالبے تسلیم کرتے ہیں۔ جو اپنے لئے نہیں دوسروں کے لئے جیتے ہیں۔ یہ بہت خوش قسمتی کا مقام ہے جو نہیں تمہاری بائیس سالہ مشقت مزدوری کے صلے میں تمہیں تمہارے رب کی طرف سے ملا ہے۔ یہ ایک بڑی تعمت ہے، اور تیرا مولاجیسے نعمت دیتا ہے جسے انعام کے لئے چنتا ہے اسے ساتھ ہی امتحان اور آزمائش میں بھی ڈال دیتا ہے۔جیسا کہ وہ اپنی کتاب میں کہتا ہے میں تمہیں نعمتیں دیتا ہوں دھن دولت اور اولاد سے نوازتا ہوں اور دیکھتا ہوں تم ان نعمتوں کو کس طرح برتتے ہو، یاد رکھنا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تم سے ان نعمتوں کا حساب لیا جائے گا۔
سو اے سپاہ عمران پہلے حکمرانوں اور گزری حکومتوں کے چلن پر تم لوگوں پر ظلم شروع نہ کر دینا، بلکہ انہیں اپنے اچھے ہونے کا احساس ہی نہیں یقین بھی دلانا ہے، ان کی زندگیوں میں آسانیاں فراہم کرنا ہے، ذاتی سطح پر پارٹی کی سطح پر ، اداروں کے ذریعے حکومت کے توسط ہے۔
میری پی ٹی آئی کی قیادت سے بھی درخواست ہے کہ فی الوقت جہاں حکومتی اور نیم حکومتی سطحو پر مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دے رہی ہے اور ایک اطلاع کے مطابق ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ بنائی گئی ایسی ٹاسک فورسز نے اپنا کام شروع بھی کر دیا ہے۔ اسی مثل پر ایک ٹاسک فورس اپنے کارکنوں کی سیاسی و فکری تعلیم و تربیت کے ل ئے بھی بنائی جائے۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی ماہرین علوم بشریات، عمرانیات، سیاسیات اورت اقتصادیات کی خدمات حاصل کر سکتی ہے۔ ضروری ہوتو تقابلی جائزے اور مطالعے کے لئے ان ماہرین کو ہم عصرممالک کے ماڈلز سے بھی مختلف چینلز کے ذریعے روشناس کرایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلی حکومتوں نے اس اہم سیاسی و جماعتی ضروریات پر ہرگز توجہ نہیں دی اور یوں پارٹی ورکزکارکنان اور دیگر وابستگان کی انتہائی قیمتی قوت منتشر یا ضائع ہو جاتی رہی ، عمران خان صاحب اور ان کے رفقا پر لازم ہے کہ وہ وقت کی نبض کو پہنچانیں اور اس اہم ضرورت کی کفالت کا بندوبست ترجیحی بنیادوں پر کریں۔
میں اس اہم سیاسی و جماعتی پہلو کی جانب توجہ اس لئے بھی مبذول کر ارہا ہوں کہ فی الوقت قومی منظر نامے پر پی ٹی آئی کی حکومت تو موجود ہے مگر خود پی ٹی آئی بطور پارٹی اور جماعت کہاں ہیں، کہیں نظر نہیں آتی۔ یہ ایک بہت بڑا خلا اور کمی ہے جسے اگر یونہی نظر انداز کیا گیا تو اس کے ناقابل تلافی نقصانات بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں ہر مہذب جمہوری ملک اور معاشرے میں اسی حقیقت کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ جونہی ایک جماعت یا پارٹی برسراقتدار آتی ہے۔ ایسے اقدامات کئے جاتے ہیں جن کے توسط سے پارٹی کی توانائی اور قوت کو واضح طور پر حکومت اور جماعت کی سطح پر دوحصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ مگر اس طرح کہ یہ دونوں حصے باہمدگر موافق سمت میں برسرکار ہوتے ہیں۔ اور بیشتر معاملات میں پارٹی یا جماعت ، حکومت پر عقابی نظر رکھتی ہے، تنقیدی رویہ اپناتی ہے اور جہاں کہیں عمال حکومت پارٹی منشور، ایجنڈے پروگرام ، وعدوں اور دعوو¿ں سے رتی بھر انحراف کرتی نظر آتی ہے اسے وہیں روک اور ٹوک دیا جاتا ہے ۔ پارٹی کی اندرونی سطح پر اس احتسابی و تنقیدی رویے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اپوزیشن کمزور ہو جاتی ہے اور ہو بلا ضرورت حکومت کو بلیک میل اور دباو¿ میں نہیں لاسکتی۔ بھارت میں کسی دور میں جب نہرو حکومت قائم تھی، وہاں کانگرس کے طاقتور صدر کا مراج ہواکرتے تھے۔ ان کی قیادت میں کانگریس پارٹی اس قدر مضبوط ، مربور، موثر اور فعال ہوتی تھی کہ نہرو حکومت اور اس سے وابستہ وزرا، عمال اور حکام کسی لمحے بھی تساہل سستی اور بے راہ روی کا شکار نہ ہوتے تھے۔ یہ وجہ ہے کہ بھارتی تاریخ میں نہرو سے بڑھ کر آج تک کوئی ایسا حکمران یا وزیر اعظم نہیں گزرا جس نے تادیر حکومت کی ہو۔
یہاں ایک اور ضرورت کی نشاندہی ناگزیر ہے اور اس کا تعلق بھی پارٹی کی سطح پر کارکنوں اور کیڈر کی جمع بندی، تعلیم اور تربیت سے ہی ہے۔ اس کے لئے لازم ہے کہ پی ٹی آئی میں مرکز، صوبوں اور تحصیلوں کی سطح پر تھنک ٹینکس اور سٹڈی سرکلز قائم کئے جائیں۔ جہاں شرکاءکو پاکستان اور قوم کو درپیش ٹھوس معاشرتی و معاشی ایشوز، مسائل اور معاملات پر تعلیم دی جائے۔متعلقہ موضوعات کے ماہرین سے لیکچرز دلوا ئے جائیں جن کی روشنی میں یہ کارکنان اپنی حکومت اور اپوزیشن کی صبح انتہائی کرنے کے قابل ہوں گے۔
پاکستان کی سطح پر میری یہ تجاویز یقینا قدرے اجنبیت کی حامل ہو سکتی ہیں۔ مگر خلاف حقیقت ہرگز نہیں ۔ مجھے یاد ہے جب عشرہ ستر میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی میں ہم فقیروں نے پروفیسر مبارک حیدر صاحب کی قیادت میں پارٹی کے مرکزی دفتر 4منزنگ روڈ لاہور میں جناب امان اللہ خان جیسے دلیر، ذہین اور انتہائی فعال پارٹی رہنما کی رفاقت میں ایسے سٹڈی سرکل کا آغاز کیا تو اس سے کارکنوں کو بہت فائدہ ہوا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک موقع پر پارٹی کی جاگیردار قیادت نے بھٹو صاحب کے کان بھر کر اس سلسلے کو منقطع کروا دیا تھا مگر بعدازاں جب میرے ممدوح محترم ڈاکٹر مبشر حسن پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہوتے تھے تو انہوں نے روزنامہ مساوات کے پلیٹ فارم سے سٹڈی سرکل کی طرز پر ہی اس اخبار کا ایک ہفتہ وار ایڈیشن شائع کرنا شروع کیا تھا۔
میرے پیارے انصافیو، کارکنوں اور ساتھیوں میں نے یہ سطریں انتہائی عجلت میں سپرد قلم کی ہیں، مجھے علم ہے ان میں بعض سقم بھی ہوں گے مگر ہمیں ان کی روح کا مطالعہ کرنا ہوگا۔کارکن کسی بھی پارٹی کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اس اثاثے کی تعلیم و تربیت جماعت کی ضرورت ہوتی ہے اور ضرورت کی تکمیل سے ہی پارٹی اور حکومت کو عوامی بہبود کے منصوبوں کے لئے زیادہ متحرک اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔

Scroll To Top