سی پیک پاکستانیوں کے مفادات کا تحفظ کریگا ؟

  • قوموں کے تعلقات میں مفادات کی اہم ہیں ،دوستی و دشمنی کے جذبات عارضی سمجھنا ہونگے
  • وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت اس بیان کی تردید کرچکے کہ دہائی قبل چینی کمپنیوں کو رعایت دی گی
  • کچھ حلقوں کے مطابق سی پیک کو ختم کرنے کی بات نہیں کی گی بلکہ بعض تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جارہا

zaheer-babar-logoپاک چین اقتصادی راہداری منصوبے بارے جس طرح علاقائی اور عالمی قوتیں ریشہ دوانیاںکررہیں وہ اب کھلا راز ہے۔ادھر یہ بھی سچ ہے کہ سی پیک کو جادو کا چراغ سمجھنے والے بھی غلطی پر ہیں ۔ جبوبی ایشیاءہی نہیں عالمی سطح پر تیزی سے ابھرتا چین کسی طور پر اپنے مفادات سے دستبردار ہوکر پاکستان سے تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہونے والا۔ تازہ پیش رفت میں وزیر اعظم کے مشیر برائے عبدالرزاق داود نے فنانشل ٹائم میں دئیے گے اپنے اس انٹرویو کی تردید کر ڈالی جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک دہائی قبل کیے گے معاہدوں میں چینی کمپنیوں کو غیر ضروری رعایت دی گی۔ اب مشیر تجارت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے پاکستان کا عزم غیر متزل ہے، سی پیک قومی ترجیح ہے، چینی وزیر خارجہ کے دورے میں اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت الیکشن جیت کر آئی ۔ عام آدمی اس سے بے تحاشا توقعات رکھتا ہے لہذا اسے بجا طور پر حق ہے کہ وہ فلاحی اقدمات اٹھانے کی کوشش جاری رکھے جس کا وعدہ عمران خان پاکستانیوں سے کرچکے۔ گذشتہ پانچ سالوں میں اگر مسلم لیگ ن برسراقتدار رہی تو اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی حکمران جماعت کے طور پر نمایاں رہی۔ مذکورہ دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت کے بارے خیال یہی ہے کہ قومی تقاضوں سے کہیں بڑھ کر ذاتی مفادات کی اسیر ثابت ہوئیں۔ اس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف پانامہ لیکس میں سزا پانے کے بعد ان دنوں اڈیالہ جیل میں بند ہیں تو پی پی پی کے شریک چیرمین کے خلاف منی لائنڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی بن چکی۔ ملک حالات سے باخبر حلقے اس پر متفق ہیں کہ اگر گذشتہ دس سالوں میں جمہوری ہونے کی دعویدار دونوں سیاسی جماعتیں درست طرزعمل کا مظاہرہ کرتٰیں تو ان ملک کے حالات کسی طور پر اتینے خراب نہ ہوتے۔
وطن عزیز کا المیہ ہے کہ یہاں سالوں سے نہیںدہائیوں سے سیاست تجارت بن چکی۔ ملک کا شائد ہی کوئی قابل زکر کاروباری خاندان ایسا ہو جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر سیاست میں متحرک نظر نہ آئے۔ یہی سبب ہے کہ گذشتہ سالوں میں دولت مند طبقہ امیر سے امیر تر ہوتا گیا جب غربت کی شرح میںکسی طور پر کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابن خلدون نے اپنی مشہور تصنیف مقدمہ میں برملا کہا کہ تاجروں کو امور حکومت سے دور رکھا جائے ورنہ یہ صرف اور صرف اپنے مفاد کو ترجیح دے کر قومی تقاضوں کو پامال کرتے آئیں گے۔ “
عمران خان کی حکومت کو زیادہ دن نہیں ہوئے۔ بڑا چیلنج یہی ہے کہ کب اور کیسے اس طاقتورطبقہ کو کمزور کرے جس کے لیے موجودہ نظام کسی نعمت سے کم نہیں۔ میاں نوازشریف ہوں یاآصف علی زراری مذکورہ دونوں شخصیات ایک طرف ملک کے نمایاں سیاسی رہنما سمجھے جاتے تو دوسری جانب ان کے قریبی لوگ اربوں نہیں کھربوں روپے کا کاروبار چلا رہے۔ یاد رہے کہ ملک میں اس قدر تیزی سے بہتری آنے کا امکان نہیں جس کی بجا طور پر بعض حلقوں کی جانب سے امید کی جارہی۔ سمجھ لینا چاہے کہ مسائل بتدریج حل ہونگے چاہے اس کے لیے سال ہی کیوںنہ لگ جائے۔ اب تو حالت یہ ہے کہ پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا ہر گزرتے دن کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا احتساب کرنے کو تیار ہے ۔ شائد اسی کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان نے عام پاکستانی کی امید اس قدر بڑھا چکے کہ وہ اب دنوں میں تبدیلی دیکھنے کا خواہشمند ہے۔
درپیش عوامل عمران خان کو ہر قدم پھونک پھونک کراٹھانے پر مجبور کررہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیںکہ دباو کے باوجود ممکن حد تک ہر فیصلے کا سوچ سمجھ کیا جارہا۔سی پیک میںہونے والے پاک چین معاہدوں سے متعلق جن خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے انھیں اسی پس منظر میںسمجھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں میں مسقبل قریب میں تعلقات کو مذید مضبوط بنانے کے لیے لازم ہے کہ اختلافی مسائل کو بیٹھ کر حل کیا جائے´۔ یہاں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سی پیک کو ختم کرنے کی بات نہیں کی جارہی بلکہ اس میں ایسی تبدیلیوں کا مبینہ طور پر مطالبہ کیا گیا جو پاکستان کے مفادات کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنا سکیں۔
اقوام عالم میں تعلقات خالصتا مفادات کے تابع ہوا کرتے ہیں۔ عصر حاضر میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کل کے دشمن آج کے دوست بن گے اور کل کے دوست ممالک آج ایک دوسرے کے حریف نظر آئے۔ مقام شکر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنی زمہ داریوں سے باخوبی آگاہ نظر آتی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر داخلہ اور خارجہ محاذ پر ان چیلنجز کا باغور جائزہ لیا جارہا جو ارض وطن کو درپیش ہیں۔ اگرچہ عمران خان پہلی بار وزارت عظم کے منصب پرفائز ہوئے مگر ان کی طویل سیاسی جدوجہد انھیں اس پر آمادہ کرچکی کہ وہ پاکستان اور صرف پاکستان کا مفاد مقدم رکھیں۔
سی پیک کے حوالے سے اگر نئی حکومت کسی بھی قسم کے شکوک وشبہات کا شکار ہے تو انھیں بہرکیف دور کرنا ہوگا۔ون بیلٹ اور ون روڈ کے منصوبے میں پاکستان کے تجارتی حلقوںکو اطمنیان دلانا چاہے تاکہ وہ چینی حکام کے ساتھ اپنے تعاون کو مذید فروغ دے کر پاکستان کی تعمیر وترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈال سکیں۔ سمجھ لیا جائے کہ سی پیک جیسا اربوں ڈالر کا پراجیکٹ روز روز نہیں سامنے آنے والا چنانچہ اس منصوبے کو پاکستانی عوام کی زندگیوں میںزیادہ سے زیادہ سہولیات بہم پہنچانے کا باعث بننا چاہے۔

Scroll To Top