وزیراعظم کے لئے تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے 30-11-2013

kal-ki-baat
ذہانت بصیرت قوتِ متخیّلہ ` ویژن رکھنے کی صلاحیت اور تخلیقی استعداد ۔۔۔ تمام کی تمام خوبیاں قادرِ مطلق انسان میں پیدائش کے وقت ڈال دیتا ہے۔ تعلیم مطالعہ اور تجربہ ان خوبیوں اور خصوصیات کونکھار عطا کرتاہے۔ اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر علامہ اقبال ؒ یا کارل مارکس ` یا بسمارک یا ابن خلدون نہ ہو تو اسے دولت وغیرہ کے زور پر متذکرہ رجالِ عظیم کی صف میں نہیںکھڑا کیا جاسکتا۔
میں نے یہ حقیقت صرف وزیراعظم میاں نوازشریف کی ہی رہنمائی کے لئے نہیں تمام ایسے اصحاب کی فہم میں کشادگی کے لئے بھی بیان کی ہے جنہیں قدرت بڑی بڑی ذمہ داریوں پر فائز ہونے کا موقع عطا کرتی ہے۔بڑے سے بڑے آدمی کو بھی اپنے قد سے بڑا نظر آنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔
میاں صاحب بہت اچھے آدمی ہیں۔ اگر وہ دولت کمانے کی دوڑ میں شریک نہ ہوتے اور تجارت کرنا ان کی فطرتِ ثانیہ نہ بنی ہوتی تو وہ بھارت کے ساتھ دوستی کرنے کے شوق میں جنون کی حد تک گرفتار نہ ہوتے۔
دوستی بہت اچھی چیز ہے مگر اژدھاہے یا بھیڑیئے کے ساتھ دوستی نہیں کی جاتی اس کی ہلاکت خیزی سے بچنے کی ترکیبیں سوچی جاتی ہیں۔ میاں صاحب کو کسی سقراط ارسطو یا افلاطون نے بتا دیا ہے کہ ہمسائے تبدیل نہیں کئے جاسکتے۔ اور بھارت کے ساتھ دوستی کرنے میں ہی ہماری بھلائی ہے۔
کاش کہ اُن کے علم میں تاریخ کی یہ تلخ اور تابندہ حقیقت بھی لائی گئی ہوتی کہ دو ہمسایہ ممالک کے درمیان صرف مخاصمت اوررقابت کا رشتہ انمٹ رہا ہے۔ قدیم زمانے کے ٹرائے اور یونان پر نظر ڈالیں یا روم اور فارس پر۔ دورِ جدید کے جاپان اور چین پر نظر ڈالیں یا ترکی اورروس پر۔۔۔ یہ تلخ حقیقت کُھل کر سامنے آجائے گی کہ ہمسایہ ممالک کے مقّدر میں دوستی نام کی چیز لکھی ہی نہیں ہوتی۔ اُن کے درمیان کوئی نہ کوئی ” کشمیر “ وجہ نزاع ضرور بنا رہتا ہے۔
اگر کسی بڑے گھر والے اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنے پڑوسی کی لڑکی کو اغواءکرکے اپنے پاس رکھ لیں تو کیا صرف اس دلیل کی بناءپر دونوں گھروں میں دوستی قائم کی جاسکتی ہے کہ ہمسائے تبدیل نہیں کئے جاسکتے۔۔۔؟

Scroll To Top