سرورکائنات ﷺ کی طلب کا نام عمر ؓ تھا!

aaj-ki-baat-new

یکم محرم اسلام کے اُس رجل ِعظیم کا یوم شہادت ہے جس کے بارے میں ” ایک سو عظیم رجال“ (The 100)کے مصنف مائیکل ایچ ہارٹ نے لکھا : ”اگر پیغمبر اسلام ﷺ کے بعد (حضرت)عمر بن خطابؓ جیسی کرشمہ ساز شخصیت مسلمانوں کو قیادت کے لئے نہ ملتی تو شاید کرہ ءارض پر ہلالی حکمرانی کو وہ وسعتیں نہ ملتیں جو ملیں۔۔۔“
فاروق اعظم ؓ کے بارے میں کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے ۔ مگر ان کے دو اقوال یا ارشادات کا ذکر میں ضرور کروں گا۔ ایک مرتبہ انہوں نے حجرہءاسود سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ ”محمد ﷺ کے رب کی قسم تُو محض ایک پتھر ہے ۔ تمہارا بوسہ اس لئے لے رہا ہوں کہ میں نے اپنے آقا ﷺ کو تمہیں چومتے دیکھا تھا۔۔۔“
اس ارشاد کا واحد مقصد مسلمانوں پر واضح کرنا تھاکہ کہیں وہ ایک پتھر کو خواہ وہ کسی قدر مقدّس کیوں نہ ہو اللہ کا شریک نہ بنالیں۔۔۔
ان کا دوسرا ارشاد ایک دعا کی صورت میں ہے جو جنگ قادسیہ میں فتح کی خوشخبری سننے کے بعد انہوں نے کی تھی۔ ” میرے رب تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تُو نے ہمیں فتح بخشی لیکن کاش میں عرب اور عجم کے درمیان آگ کے پہاڑ کھڑے کرسکتا۔۔۔!“
اس دعائیہ ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ حضرت عمر ؓ کو ڈر تھا کہ کہیں عجم کی تہذیب اس عرب تہذیب کو ہڑپ نہ کرلے جس نے ظہور ِ اسلام کے ساتھ جنم لیا تھا۔۔۔ تاریخ شاہد ہے کہ اُن کا یہ ڈر درست ثابت ہوا۔ دورِ فاروقی میں جتنے بھی علاقے لشاکر اسلام نے فتح کئے وہ سب کے سب ” عربی “ بن گئے۔ یہاں میں شام ` فلسطین ` مصر اور عراق کی مثال بالخصوص دوں گا۔ بعد میں تونس الجزائر مراکش اور لیبیا وغیرہ میں ہونے والی فتوحات کے نتیجے میں بھی ” عربی “ کو فروغ ملا۔ آج بھی یہ سارے ممالک عرب دنیا کا حصہ شمار ہوتے ہیں ۔ مگر دورِ فاروقی میں فتح ہونے والا ایران نہ صرف یہ کہ اپنی جداگانہ حیثیت واپس لینے میں کامیاب ہوا بلکہ یہ بھی کہ اس کی بدولت امت میں تفرقے کی بنیاد بھی پڑی۔
حضرت عمر فاروق ؓ کی عظمت کو تاریخی خراج تحسین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے پیش کیا جب ان کی تدفین کے وقت انہوں نے کہا ۔۔۔ ” خوش نصیب ہوںگا میں اگر میرا جنازہ بھی اِن جیسے اعمال کے ساتھ اٹھے۔۔۔“
حضرت علی ؓ کا یہ ارشاد میں نے فقیر سید وحید الدین کی ایک تصنیف میں سے لیا ہے۔
حضرت عمر فاروق ؓ کا دورِ خلافت 634میں شروع ہوا اور ان کی شہادت 644میں ہوئی۔ شہادت سے پہلے ان کے اور حضرت عمر و العاص ؓ کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی اس کا مطالعہ کم ازکم عمران خان کو ضرور کرنا چاہئے۔ یہ خط و کتابت میں نے یونیورسٹی کے ایام میں پڑھی تھی۔ بعد میں اپنی لائبریری کے لئے وہ کتابچہ مجھے دستیاب نہ ہوسکا۔
حضرت عمروالعاصؓ مصر اور فلسطین فتح کرنے کے بعدان صوبوں کے گورنر بن گئے تھے۔ان کے بارے میں امیر المومنین حضرت عمر ؓ کو جو اطلاعات ملیں ان کی روشنی میں انہوں نے حضرت عمرو العاص ؓ سے استفسار کیا کہ ” میر ے بھائی کیا یہ درست ہے کہ تم نے گورنری میں بڑا مال بنایا ہے اور تم ایک محل میں بڑی شان و شوکت کی زندگی بسر کررہے ہو۔۔۔؟“
جوابی خطوط میں حضرت عمر و العاص ؓ نے اپنے مالی معاملات کے بارے میں تمام وضاحتیں تفصیل سے بھیجیں۔ اپنے محل میں رہنے کے حوالے سے انہوں نے یہ جواز پیش کیا کہ ” ایسا میں اپنی حفاظت کی خاطر کرنے پر مجبور ہوں۔“
چھ سات خطوط اور جوابی خطوط کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ نے لکھا۔۔۔ ” عاص کے بیٹے تمہاری وضاحتوں اور تمہارے دلائل میں بڑا وزن ہے مگر میرا دل نہیں مانتا کہ کوئی مسلمان حاکم اس قدر امیر ہوسکتا ہے۔ تمہارے حق میں بہتر یہ ہے کہ اپنی ضرورتوں سے زیادہ جتنا بھی مال تمہارے پاس ہے اسے بیت المال میں جمع کرادو ` ورنہ تمہیں پابہ زنجیر مدینہ لانے پر مجبور ہوجاﺅں گا۔۔۔“
اس خط سے ہر اس شخص کو ایک واضح پیغام ملتا ہے جس کے ہاتھوں میں ” اختیار “ ہے۔۔۔
بدقسمتی یہ ہوئی کہ فوراً ہی بعد حضرت عمر ؓ شہید ہوگئے اور یہ معاملہ اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچ سکا۔۔۔
شہادت کے وقت حضرت عمر فاروق ؓ ابھی ساٹھ برس کے بھی نہیں ہوئے تھے ۔ اگر ایک بدبخت ایرانی غلام موقع سے فائدہ اٹھا کر ان پر تلوار کا کاری وار نہ کرتا تو شاید آج اسلامی نظام کے بارے میں جو ابہام پیدا کیا جاتا ہے اس کی گنجائش ہی نہ رہتی۔
اس حقیقت سے کون انکار کرے گا کہ آنحضرت ﷺ کی طلب کا نام عمر ؓ تھا۔ آپ ﷺ نے عمر ؓ کو اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لیا تھا۔۔۔

Scroll To Top