وہ آیا اور چھا گیا، ناممکن کو ممکن بنانے والا، عزم و ہمت کا نشان

  • گھٹیا کردار مخالفین کا پٹ سیاپا گروپ عوام کو گمراہ کرنے میں ناکام
  • اندرون و بیرون ملک سے ڈیمز عطیات کی بارش، قومی جوش وخروش دیدنی
  • سابقہ حکمران ایک ہی منصوبے کا بار بار افتتاح کر کے قوم کو ماموں بناتے رہے
  • نیک کام شروع ہو چکا، اب اللہ پاک کی نصرت بھی شامل حال ہوتی چلی جائے گی

gulzar-afaqi

وہ آیا، اس نے دیکھا بولا اور فاتح ٹھہرا۔
اس سے پہلے یہ محاورہ شائد ہی کسی شخصیت پر سو فیصد فٹ بیٹھا ہوجتنا اس روز ٹی وی پر اپنے لوگوں سے بے ساختہ مکالمہ کرتے ہوئے عمران خان صاحب پر ٹھیک ٹھیک منبطق ہوا۔
نہایت مختصر مکالمہ، واحد مسئلہ، پانی اور خدانخواستہ ممکنہ قحط سالی، افسوس صد افوس ، ماضی کے حکمرانوں نے ، جنرل ایوب خان کے استثنیٰ کے ساتھ اس اہم قومی ضرورت بابت کوئی سنجیدہ اقدام نہ اٹھائے۔ مگر یہ عزت قدرت نے عمران خان کے حصے میں رکھ اور لکھ رکھی تھی کہ انہوں نے سوئی ہوئی قوم کو جھنجھوڑا، اور ماضی کے حکمرانوں کی کوتاہیوں پر ماتم کرنے کی بجائے فقط اس حقیقت حال پر اکتفا کیا کہ اگر ہم نے آج ہی سے آبی ذخائر اور ڈیمز تعمیر کرنے کا آغاز نہ کیا تو آنے والے سات آٹھ سال میں اللہ نہ کرے ہم کسی قحط سالی میں مبتلا ہو کر رہ جائیں ۔ چنانچہ انہوں نے اہل پاکستان سے بالعموم اور 90/80لاکھ اوورسیز پاکستانیوں سے بالخصوص اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور آزمائش کی اس گھڑی میں بڑھ چڑھ کر مالی اعانت ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی کی حکومتوں نے ہم پر قرضوں کا جو غیر معمولی بوجھ لاد رکھا ہے اس کے تناظر میں ہمیں آسانی سے بیرونی قرضہ نہیں مل سکتا۔ یہی وقت ہے کہ ہم سب پاکستانی اپنے مستقبل کو سرسبز و شاداب بنانے کے لئے ڈیمز اور آبی ذخائر کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔
عمران خان کی گفتگو کا کیا عجب خوشگوار انجام ہوا۔ ادھر مکالمہ تمام ہوا ادھرملک کے اندر اور بیرونی ملک سے عام و خاص نے ڈیمز فنڈ میں عطیات جمع کرانے شروع کر دیئے۔ اس ضمن میں ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے بھی زبردست کردار ادا کیا۔ اور اپنی میراتھن ٹرانسمیشن کے ذریعے کروڑوں روپے کے عطیات جمع کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
عمران خان صاحب کی اپیل پر اس قدر غیر معمولی عوامی ردِ عمل اور پذیرائی کی کیفیت بھانپ کر اپوزیشن حلقوں پر تو گویا بجلی گر گئی۔ انہوں نے خود تو اس قومی فریضے میں کسی قسم کی مالی معاونت کا عندیہ نہ دیا البتہ اپنے بھاڑے کے ٹٹوو¿ں اور لفافیئے منشیوں کے ذریعے اخباری بھاشنوں اور بالخصوص سوشل میڈیا پر ایک عجب تماشائے ہاو¿ہو اور پٹ سیاپے کا تھیٹر لگا دیا۔خواجہ سراو¿ں جیسے طعنے اور کوسنے دیئے جانے لگے۔ ایک آدھ نمونہ دیکھئے۔
چندے سے مسجد تو بن سکتی ہے ڈیمز نہیں۔
پی ٹی آئی بھیک منگتی بن گئی۔
چندے سے تو ایک مسجد بیس برس میں مکمل ہوتی ہے اس حوالے سے تو ایک ڈیم کی تعمیر ایک سو سال میں بھی مکمل نہ ہوگی۔
سستی شہرت کا گھٹیا طریقہ یا یہ کہ عمران خان تو ہے ہی پیشہ ور بھیک منگا۔ وغیرہ وغیرہ۔ بعض ایسے جملے جو کسی اعتبار سے بھی ضبط تحریر میں نہیں لائے جاسکتے۔ مگر اپوزیشن کے گماشتوں نون غنوں اور ان کے کرایے کے لفافیوں نے انہیں گھڑنے اور سوشل میڈیا پر پھیلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپوزیشن کے مخالفانہ نعروں کی روشنی میں کیا واقعی ان کے خدشات میں کوئی وزن ہے یا ان کا سارا کہا محض مخالفانہ ڈھکوسلہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔
آیئے ہم ایک ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں کچھ بنیادی نکات پر بات کرتے ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق پاکستان ضرورت کے ایک ڈیم پر تقربیاً 900(نوسو) ارب روپے کی لاگت آئے گی اور یہ پانچ سے سات سال میں مکمل ہوگا۔تا ہم یہاں ایک تکنیکی پہلو کی نشاندہی ضرورت ہے مذکورہ ساری رقم یکبارگی درکار نہیں ہوگی۔ اور تب اسی نسبت سے اللہ نے چاہا تو ہمارے پاس وسال بھی جمع ہوتے رہیں گے۔
اب ہم وسائل کے ذرائع کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ پہلے نمبر پر تو بائیس کروڑ عوام اور 90/80لاکھ اوورسیز پاکستانی ہیں جو اپنی خوشددلانہ رغبت سے عطیات حکومت کے حوالے کریں گے اور یہ سلسلہ ابھی سے شروع بھی ہو چکا ہے اور آنے والے ایام میں اس کی حدت اور شدت میں انشاءاللہ اضافے کا یقین ہے۔
غیر ممالک میں چھپایا گیا پاکستانیوں کا کالا دھن جس کی ایک مقدار یعنی200ارب ڈالر کی نشاندہی تو ستمبر2013میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے فلور آف دی ہاو¿س پر کی تھی۔
ایک باو ثوق ذریعے سے موصولہ اطلاع ہے کہ یو اے ای حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے ہاں پاکستانیوں کی بلیک منی سے بنائی گئی ڈیڑھ سو ارب ڈالر مالیت کی پراپرٹی یا اس کی قیمت پاکستان کے حوالے کرنے پر سوچ بچار کر رہی ہے
اس وقت ملک کے دو بڑے گرگے سیاسی خاندان یعنی زرداری اور نواز شریف کرپشن ، منی لانڈرنگ اور دیگر فوجداری مقدمات میں ملوث ہیں۔ رائے عامہ میں یہ رائے زور پکڑ رہی ہے کہ ان لوگوں کو ترغیب اور قانونی شکنجے کے ذریعے مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی لوٹی ہوئی دولت کا نوے فیصد حصہ بحق پاکستان واپس کر دیں تو انہیں بقیہ دس فیصد مال و متاع کے ساتھ بیرون ملک ارسال کیا جا سکتا ہے۔اس طرح امکان غالب ہے کہ ہمارے خزانے میں ڈیمز کی تعمیراتی ضرورتوں کی کفالت ممکن ہو جائے گی۔
مالی وسائل کی دستیابی کا ایک نیا امکان بھی پیدا ہو گیا۔ اور اگر یہ بیل منڈے چڑھ گئی تو ہمیں کم از کم ایک سو کروڑ ڈالر کی خطیر رقم میسر آسکتی ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ اقوام کے ایک اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ(UNAMLU)نے حال ہی میں اپنی تحقیات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے نواز شریف کی منی لانڈرنگ کے ایک سلسلے کو پکڑا ہے جس کی رُو سے سعودی عرب، لندن، اورپاکستان سمیت تین دوسرے ممالک سے نواز شریف نے ایک سو کروڑ ڈالر کی منی لانڈرنگ کی۔ اس ضمن میں منشیات اور متعلقہ جرائم سے تعلق اقوام متحدہ کے ایک دوسرے ادارے ( UNODC) کی رپورٹ کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ ان دونوں رپورٹوں کے مندرجات سے انکشاف ہوتا ہے کہ نواز شریف نے مذکورہ رقم ہنڈی اور حوالے کے ذریعے نیویارک سٹی کے پوش علاقے مین ہیٹن میں واقع حبیب بنک برانچ میں جمع کرائی۔ جہاں سے اسے الرضی بنک میں منتقل کر دیا گیا اور پھر وہاں سے سٹینڈرڈ چارٹر بنک لاہور میں واپس لے آیا گیا۔ مالیاتی مبصرین پر امید ہیں کہ یہ رقم سرکار کے ہتھے چڑھ گئی تو ہمارے بہت سارے دلدر دور ہو جائیں گے۔
وسائل جمع کرنے کا ایک ذریعے موبائل فون، بجلی کے بل اور پٹرول پر ڈیم تعمیر کے لئے معمول کا وہ ٹیکس لگا دیا جائے جو کچھ عرصے پہلے تک موجود تھا مگر چیف جسٹس کے ایک حکم پر انہیں جزی یا کلی طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔
حرف آخر، ایک اطلاع کے مطابق زرداری اور نواز شریف بھاشا ڈیم کے حوالے سے مختلف ادوار میں مختلف مقامت پر بار بار ”افتتاحی“ تختیاں نصب کرواتے رہے اور ایسے موقع پر اٹھنے والے کروڑوں روپے کے اخراجات کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ معلوم ہوا ہے جلدہی اس سلسلے میں مذکورہ دونوں شخصیات کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا جائے۔

Scroll To Top