نئے صدر وزیر اعظم کے مددگار ثابت ہونگے

zaheer-babar-logo

ڈاکڑ عارف علوی پاکستان کے 13ویں آئینی صدر منتخب ہوچکے۔ دراصل پاکستان تحریک انصاف میں ڈاکڑ عارف علوی ایسی معتبر شخصیت کے طور پرجانے اور ماننے جاتے ہیں جن سے اختلاف کرنے والے کم اور حمایت کرنے والے زیادہ ہیں ۔ ڈاکڑ عارف علوی کا خاندان تقسیم ہند کے وقت بھارت سے ہجرت کر کراچی آیا۔ ڈاکڑ عارف علوی کی پیدائش 1949 کراچی میں ہوئی۔ عارف علوی پیشے کے لحاظ سے ڈینٹسٹ ہیں اور ان کا شمار ملک کے معروف ڈینٹسٹ میں کیا جاتا ہے۔ ڈاکڑ عارف علوی نے 1969میں صدر ایوب خان کے خلاف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس کے دوران انھیں دائیں بازو میں گولی لی جسے وہ آج بھی پاکستان میں جمہوریت کی بقا کی جدوجہد کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ڈاکڑ عارف علوی کو شمار پاکستان تحریک انصاف کے بانی اراکین میں کیا جاتا ہے ۔ ان کی سیاسی جدوجہد کا سفر کم وبیش پانچ دہائیوں پر محیط ہے۔
ڈاکڑعارف علوی کی شخصیت اور ان کے منصب کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ کسی طور پر روایتی صدر نہیں ہونگے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے انھیں صدر نامزد کر کروانے کے اعلان پر ان کا پہلا درعمل یہی تھا کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ وطن عزیز میں عمران خان کے وزیر اعظم پاکستان بننے کے بعد جو تبدیلی آئی ہے بظاہر لگتا ہے کہ بہتری کا عمل تاحال نہیں رکا۔ مثلا سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے جس طرح گورنر ہاوس کے دروازے عام شہریوں کے لیے کھول دئیے ۔ امکان ہے کہ ڈاکڑعارف علوی بھی اس سے ملتی جلتی ہوئی حکمت عملی اختیارکرسکتے ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بڑے عہدیداروں کی جانب سے عوام کو قریب لانے کی پالیسی سوچی سمجھی ہے وجہ یہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ وہ جس قدر عام آدمی کو اپنے ساتھ رکھے گی کہ اس کی حمایت میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔
عمران خان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ تبدیلی کے علمبردار بن کر ابھرے ۔کپتان کا پوری قوت سے اہل پاکستان کو یہ باور کروانے میں کامیاب رہے کہ روایتی سیاست دان ان کی مشکلات حل کرنے کی نہ اہلیت رکھتے ہیں نہ ہی اخلاص ۔چنانچہ اگر پاکستان کے باشعور شہریوں نے اپنے حال اور مسقبل کو بہتر بنانا ہے تو اس کے لیے انھیں برسر اقتدار طبقہ کو تبدیل کرنا ہوگا۔عمران خان کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کے پڑھے لکھے طبقے نے ہی نہیں بلکہ دیہاتوں میں رہنے والے نسبتا ناخواندہ لوگ بھی اس نظام سے مایوس ہوگے جو سالوں سے ان کے خوابوں کو چکنا چور کرنے کا کام کررہا تھا۔
ڈاکڑعارف علوی کے منصب صدارت پر فائز ہونا اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ایوان صدر میں مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی شخصیت بھی آسکتی ہے۔ اگرچہ سابق صدر ممنون حسین بھی جاگیردار یا سرمایہ دار نہیں کہلاسکتے مگر نئے صدر حقیقی معنوں میں اہل کراچی کے پڑھے لکھے لوگوں کے نمائند ہیں۔ کہتے ہیںکہ اقتدار نمک کی ایسی کان ہے جس میں جو بھی گیا نمک ہوگیا۔ ڈاکڑ عارف علوی اس دعوی کو کب اور کیسے ناکام بناتے ہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
ایوان صدر میں ڈاکڑ عارف علوی کی آمد کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بڑی حد تک استحکام نصیب ہوچکا۔ سمجھ لینا چاہے کہ جس بھی پارٹی کی حکومت ہو مگر اس کی سیاسی پوزیشن مضبوط بنائے بغیر بات نہیں بنا کرتی۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ نئے صدر کے انتخاب کے بعد وزیر اعظم پاکستان کے لیے سنہری موقعہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ لوگوں کو رییلف دینے کے حوالے سے مبذول کر ڈالیں۔
عمران خان کہہ چکے کہ وہ اپنی حکومت کے پہلے سو دنوںمیں ہی ممکن حد تک کوشش کریں گے کہ لوگوں کو ریلیف دیا جائے ۔ اب تک وفاقی کابینہ کے ہر اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان اپنے ساتھیوں کو یہ عہد یاد کرواتے ہوئے نظر آئے کہ عوام کی مشکلات کم کرنے میں کسی قسم کی کوئی کسر نہ چھوڈی جائے۔ وزیر اعظم پاکستان پنجاب، خبیرپختونخوہ اور بلوچستان میں پوری طرح کوشاں ہیںکہ وہاں کے باسیوں سے وہ وعدہ پورا کیا جائے جو پاکستان تحریک انصاف نے ان سے کیا ۔
صدر پاکستان ڈاکڑ عارف علوی باخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف سے سندھ ہی دیگر صوبوں کے لوگ کیا توقع رکھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ پی ٹی آئی سے لگائی جانے والی بعض توقعات کو خلاف حقیقت بھی قرار دے دیا جائے مگر سچ یہی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان سے لوگوںکو بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں۔
وطن عزیز کا المیہ یہ ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے کسی طور پر یہ کوشش نہ کی کہ عام آدمی کی ناامیدی میںکمی لائے۔ پی پی پی اور پی ایم ایل این جس طرزحکمرانی کو فروغ دیتی رہیں دراصل اس نے لوگوں کے مصائب میں کمی کی بجائے اضافہ کیا۔ جمہوریت کے نام ہر جو ظلم مذکورہ دونوں سیاسی جماعتوں اور ان کی ہم خیال پارٹیوںنے روا رکھا اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ مثلا لوکل باڈیز نظام کے نہ ہونے سے عام آدمی کے مسائل سالوں سے نہیںدہائیوں سے التواءکا شکار ہیں۔ خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم پاکستان لوکل باڈیز نظام جلد ازجلد لاگو کرنے کی خواہش کا برملا اظہار کرچکے جس کی تکمیل میں نئے صدر پاکستان ڈاکڑ عارف علوی بھی اپنا حصہ ڈالنے کے لیے کسی طور پر پچھے نہیں ہٹیں گے۔

Scroll To Top