ہمارے سقراط ’ ارسطو اور افلاطون نئی فوجی قیادت کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ؟ 29-11-2013

kal-ki-baat

کیا فوجی قیادت کی تبدیلی سے ملک میں سرگرم عمل اس ” مختصر “ مگر مضبوط ” لابی “ کے رویے میں کوئی بڑا فرق پڑے گا جس کی پہچان” امریکہ نوازی “ کی خصوصیت کی وجہ سے بھی ہوتی ہے اور ” بھارت دوستی “ کے سبب بھی۔؟
اس سوال پر آپ کے ذہن میں فوراً ” امن کی آشا “ کی ترکیب ابھرے گی۔ ساتھ ہی جناب نجم سیٹھی ‘ جناب سلیم صافی ‘ جناب رﺅف کلاسرا اور اس قبیل کے دیگر تجزیہ کاروں ’قلم کاروں اور دانشوروں کے چہرے بھی گھومیں گے۔ ان تمام اصحاب نے میڈیا کی دنیا میں بڑا نام کمایا ہے ۔ ان کی ” ناموری “ کے پیچھے بہت سارے عوامل ہیں جن میں سے ایک دو کا ذکر میں یہاں کردیتا ہوں۔ یہ سب کے سب اس سوچ کے مشعل بردار ہیں کہ امریکہ نے دنیا کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے اپنی معیشت اور خوشحالی کوداﺅ پر لگا رکھا ہے۔ اور اگر پاکستان اس امریکی مشن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے س اجتناب برتے گا تو اس کا مطلب صرف اور صرف یہ ہوگا کہ وہ یعنی پاکستان دہشت گردوں کا سرپرست اور دہشت گردی کی پرورش گاہ ہے۔
اِن سب کو اس بات کی بھی شدید خواہش ہے کہ پاکستان ہر قیمت پر بھارت کے ساتھ دوستی قائم کرے اور ان تمام ” اسباب “ کو نذر آتش کردے جو دونوں ملکوں کے درمیان محاذ آرائی کی وجہ بنے رہے ہیں۔
تادم تحریر یہ ” لابی “ بڑی استقامت اور جاں فشانی کے ساتھ ” پاک فوج “ پر الزامات کی گو لہ باری کرتی رہی ہے۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہماری تاریخ کا وہ باب ختم ہوگیا ہے جس کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے ” یوٹرن “ سے ہوا تھا۔
جنرل راحیل شریف کا عزم سفر کسی سمت میں ہوگا اس کا اندازہ چند ماہ کے بعد ہی ہوسکے گا۔
دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے متذکرہ امریکہ نواز ’ اور بھارت دوست دانشور نئی فوجی قیادت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top