(تین برس قبل لکھا گیا کالم آج کے حالات کی روشنی میں پڑھیے) ادارے اپنی طاقت کے لئے شخصیات کے محتاج ہوتے ہیں !

aaj-ki-baat-new

اُس وقت کو گزرے ابھی تین دہائیوں کا عرصہ بھی نہیں ہوا جب پاکستان پیپلزپارٹی کے خوف نے مخالف قوتوں کو اسلامی جمہوری اتحاد کے جھنڈے تلے جمع ہونے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن آج کیا صورتحال ہے ؟ آج وہی پی پی پی اپنے وجود کو قائم رکھنے کے چیلنج کا سامنا کررہی ہے۔ اور باتیں مسلم لیگ (ن)کی قوت کو زیر کرنے کے لئے ایک نیا اتحاد قائم کرنے کی ہو رہی ہیں۔
یہ درست ہے کہ تحریک انصاف کے گراف نے حالیہ برسوں میں اوپر کی طرف جو چھلانگ لگائی ہے اس نے ملک کے سیاسی نقشے کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیاہے۔ لیکن پی پی پی کی عمارت کا یوں ” زمین بوس“ ہوتا چلے جانا ایک بہت بڑا سبق ہے جو تمام سیاسی جماعتوں کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ سبق یہ ہے کہ سیاست میں بھی صرف تغیر کو دوام حاصل ہے۔ کل جو ” کوہِ گراں “ دکھائی دیتے تھے،آج ریت کے ٹیلوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پی پی پی کو اس صورتحال کا سامنا ایسے عناصر کی وجہ سے کرنا پڑا ہے جو اسے ایک کامیاب برانڈ سمجھ کر اس میں شامل ہوئے تھے اور جنہوں نے اسے بالآخر اپنے رنگ میں رنگ لیا، وہ شاید غلط نہیں۔
اگر پی پی پی جیسی نظریاتی پارٹی کے ساتھ یہ ہوسکتا ہے تو مسلم لیگ (ن)بدلتے حالات میں اپنا وجود کیسے برقرار رکھ سکے گی؟ اس جماعت کا (ن)اگر اِدھر سے اُدھر ہوا تو اس کے تمام ” حروف “ سوکھے پتوں کی طرح جھڑجائیں گے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ حالات واقعی بدل رہے ہیں۔ بدلتے حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عمران خان جیسے مقبول لیڈر یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ملک کی مقبول ترین شخصیت آج کے دور میں جنرل راحیل شریف ہیں۔ اپنے اس اعتراف کی وضاحت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا۔
” جو کام سیاست دانوں کو کرنا چاہئے تھا وہ فوج کے ہاتھوں انجام پا رہا ہے۔ اور یہی جنرل راحیل شریف کی بڑھتی مقبولیت کا رازہے۔“
میں شروع سے ہی اس نظریہ کا حامی رہا ہوں کہ ادارے اپنی طاقت افراد کے کردار سے حاصل کرتے ہیں۔ آج پاک فوج کا مطلب جنرل راحیل شریف ہے۔ جیسے تحریک انصاف کا مطلب عمران خان ہے۔جیسے پی پی پی کا مطلب آصف علی زرداری ہے۔ اور جیسے نون لیگ کا مطلب میاں نوازشریف ہے۔
میاں صاحب درحقیقت The Devilاور The Deep Seaکے درمیان معلق ہیں۔آپ اُردو میں اس صورتحال کو کھائی اور سمندر کے درمیان معلق ہونا کہہ سکتے ہیں۔ اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے وہ بھرپور اشتہار بازی کررہے ہیں لیکن کیا وہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ عوام جنرل راحیل شریف کی کارکردگی کو ان کا یعنی میاں صاحب کا کارنامہ تسلیم کرلیں گے ؟

Scroll To Top