افریقی ڈیویلپمنٹ میں چین۔افریقہ تعاون فورم کا کلیدی کردار:رپورٹ

رواں سال2018میں چین افریقہ تعاون فورم کے قیام کے 18برس مکمل ہوچکے ہیں اور ان گزشتہ اٹھارہ سالوں میں چین اور افریقی ممالک نے باہمی دو طرفہ عملی تعاون کے حوالے سے اہم سنگِ میل عبور کیئے ہیں اور باہمی تعاون کے بیشتر منصوبوں پر کام تکمیل تک پہنچا ہے اور دوطرفہ مفادات کے حوالے سے اہم عوامل یقینی بنائے گے ہیں ۔ چین اور افریقی ممالک کے مابین باہمی اور دو طرفہ تجارت کے حوالے سے چین کی وزارتِ کامرس کی جانب سے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق چین اور افریقی ممالک کے مابین 2000میں تجارتی حجم 10بلین ڈالر تک محدود تھا جو گزشتہ اٹھارہ سالوں میں باہمی تعاون اور عملی دع طرفہ تعلقات کی مضبوطی سے170بلین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ چین افریقہ باہمی تعلقات کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے ایک بار برکینافاسو کے صدر روچ مارک کرسٹن نے کہا تھا کہ چین افریقہ تعلقات کے حوالے سے ڈیویلپمنٹ ہر گزرتے دن کیساتھ مستحکم ہو رہی ہے۔ مونی نے اپنے بچپن کی یادداشتین بانٹتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب لیپیا کاﺅنٹی ، کینیا کے گاﺅں میں وہ اپنے گھر کے دیگر لوگوں کیساتھ بیٹھ کر ایک چودہ انچ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کرایک مجمعے کی صورت ٹی وی دیکھتے۔ اور پہلی بار جب پہلا ڈیجیٹل ٹی وی انکے گاﺅں پہنچا تو وہ گاﺅں کے لوگوں کے ہمراہ بہت خوش اور پر جوش تھے۔ اس طرح مونی اور انکے گاﺅں کے لوگ انکے علاقے میں سیٹلائیٹ ڈیجیٹل ٹیلیویژن پراجیکٹ سے فاہدہ اٹھانے والے لوگوں میں شامل ہوئے، اس پراجیکٹ کا آغاز2015 جوہانسبرگ میں منعقدہ چین افریقہ تعاون فورم کے اہداف کے طور پر ہو اتھا، جب 2015میں چین افریقہ تعاون فورم کے حوالے سے چین نے افریقہ کے مختلف ممالک کے10,000 گاﺅں میں ڈیجیٹل سیٹلائیٹ ٹی وی پراجیکٹ لگانے سے متعلق کام کا آغاز کیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ 2000زائد افریقی گاﺅں چینی ساختہ سیٹلائٹ ڈیجیٹل ٹی وی کی سہولت حاصل ہے۔ اور اس پراجیکٹ کی تکمیل کے بعدافریقہ کے پچیس ممالک کے دس ہزار سے زائد دیہاتوں میں یہ سہولت میہسر ہوگی۔ اس حوالے سے سٹار تائمز کے نائب صدر نے کہا کہ اس پراجیکٹ کی تکمیل کے حوالے سے سب لوگ بہت پوجوش ہیں ۔اسی طرح چین کے تعاون سے افریقہ میں ریلوے کے حوالے سے جو نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے اس سے افریقہ کے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں اور گزشتہ تین سالوں میں چین کے تعاون سے افریقی ممالک میں بڑے ریلوے پراجیکٹس پر تکمیل یقینی بنائی گئی ہے۔ اس ضمن میں اجوبہ۔کدونہ ریلوے، نائیجیریا میں تعمیر کردہ یاجی ریلوے، اسی طرح سے افریقہ کی پہلی الیکٹرک ٹرین کا آغاز ایتھوپیا اور جبوتی کے مابین ہو چکا ہے۔ اسی طرح ممباسہ نیروبی ریلوے سٹینڈرڈ پر بھی ریلوے نیٹ ورک لاکھوں لوگوں کو سفری سہولیات اور لاجسٹکس کی سہولیات فراہم کر رہی ہیں ۔ گزشتہ اٹھارہ سالوں میں جب سے چین اور افریقہ تعاون فورم کا قیام عمل میں آیا ہے۔ چین نے ہمیشہ سے ترجیع بنیادوں پرافریقی ممالک میں ڈیویلپمنٹ کو یقینی بنایا ہے۔ اور اس وقت میں چین نے نہ صرف انفراسٹرکچر منصوبوں پر عمل درامد یقنی بنایا ہے بلکہ زراعت کے شعبوں میں اپنے تجربات سے افریقی ممالک کو مستفید کیا ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی اور سائینسی شعبوں میں چین بھر پور انداز میں افریقی ممالک میں مستحکم اداروں کو استوار کر رہا ہے۔ اسی طرح 2015میں جوہانسبرگ کانفرنس کے موقع پر چینی صدر شی جنپگ نے جن دس نمایاں شعبوں میں چین اور افریقی ممالک کے مابین باہمی تعاون کے حوالے سے عوامل اعلان کیا تھا ان پر تیزی سے عمل درامد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ چین نے ساﺅبر ہائیڈرو الیکٹرک پاور اسٹیشن کی تعمیر سے نہ صرف کﺅٹیاﺅر کو شفاف توانائی کی فراہمی یقینی بنائی ہے بلکہ اس پاور پراجیکٹ سے ملک کی انرجی کی 14فیصد ضروریات حاصل ہو رہی ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ اضافی توانائی پڑوسی ممالک گھانا، ٹوگو اوربینین کو بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ ہﺅمن ویل فارماکیوٹیکل افریقہ مالی میں چینی ہیومل ویل گروپ کے تعاون سے مشترکہ طور پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جو اس علاقے میں فارما کیوٹیکل کے شعبے میں پہلی انڈسٹری ہے۔ واضح رہے کہ یہ فارما سیوٹیکل کمپنی افریقہ میں کم قیمت ادویات کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جس سے مغربی افریقہ کے ممالک میں ادویات کی کمی سے متعلق مسائل کا خاتمہ یقینی بنایا گیا ہے۔ ۔ اسی طرح چین۔کانگولیز بینک برائے افریقہ جو کانگولیزگورنمنٹ اورزرعی بینک آف چائینہ کا ایک مشترکہ پراجیکٹ ہے، ان کی جانب سے افریقہ کے لیے پہلی سیلف سروس بینکنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یوں یونین پے کی مدد سے چین میں مقامی کرنسیRMBکے متبادل کرنسی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہیے، جہاں پر مجموعی آبادی کے کل دس فیصد لوگ بینک اکاﺅنٹس کی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں ۔۔

Scroll To Top