چند روز میں تیسرا خطاب۔ وزیر اعظم عمران خان کا وعدہ پورا ہوا۔

gulzar-afaqi
اہم اور سنگین مسائل پر قوم کو اعتماد میں لے کر درپیش سلگتے مسائل سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے کا عمل۔
جناب عمران کا کہنا تھا کہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فرد کش ہونے کے بعد سے اب تک وہ متعلقہ وزارتوں سے اوپر تلے بریفننگ لے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فی الوقت قوم کو پانی کی کمی بلکہ قحط کا شدید خطرہ ہے اور اگر ہم نے آج ہی سے اس سنگین عذاب کے تدارک کے لئے درست سمت میں فوری ایکشن نہ لیا تو خدا نہ کرے آئندہ پانچ سال بعد ہم کسی خطرناک قحط سالی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
جانکاہ سانحہ، حادثہ، المیہ
لوگو خدا کے لئے ایک خوفناک قحط کی دستک سنو اور اپنے عمل سے اسے دھتکار دو
حادثہ مگر ایک دن یک بیک رونما نہیں ہو جاتا، اس کی پرورش میں ماہ و سال کے دورانیے کھپ جاتے ہیں۔ ذمہ داران اور کار پردا ران حکمرانوں اور حکومتوں کی مجرمانہ، غفلت ، چشم پوشی، نا اہلی اور نالائقی کے سارے عناصر اور عوام اس حادثے کو زہر ناک بنا کر قوم کے منہ پر دے مارتے ہیں۔
آبی ذخائر یعنی ڈیمز کی عدم تعمیر اسی نوعیت کا ایک المیہ ہے، جسے ہامرے بیرونی دشمن بھارت نے اپنے مقامی ایجنٹوں اور گماشتوں کے ذریعے پروان چڑھایا۔ اور نوشہرہ سمیت سندھ کے بعض علاقوں کے سیلاب میں ڈوب جانے یا قحط سے تباہ ہو جانے کی فرضی کہانیوں کے ذریعے مخالفانہ پروپیگنڈے کی فضا قائم کی گئی اور کوئی مائی کا لعل ڈیم نہیں بنا سکتا بنائے گا تو اسے میری لاش پر سے گزرنا ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ اس کے ساتھ ہی ایک آدھ صوبائی اسمبلی میںڈیم بنانے کی مخالفت میں قرار داد منظور کروالی گئی۔ جنرل مشرف نے ہمت دکھانے کی کوشش کی مگر نیم دلی سے سو یہ کام دھرنے کا دھرا رہ گیا۔
ادھر بھارت نے ہمارے ساتھ محب ہاتھ کر دیا۔ 60کے عشرے میں صدر ایوب اور بھارتی وزیر اعظم نہرو کے مابین سندھ طاس معاہدہ طے پایا جس کا ضامن عالمی بنک بنا۔
اس کی رو سے بیاس ستلج راوی بھارت کے قبضے میں چلے گئے جبکہ چناب جہلم سندھ پر ہمارا تصرف تسلیم کیا گیا۔ یہ تینوں دریا چونکہ بالائی سطح پر ہیں چنانچہ انہیں بھارت کے تصرف میں چلے جانے والے تینوں زیریں دریاو¿ں کے ساتھ رابطہ نہرو یعنی لنک کینال پروجیکٹ کے ذریعے ملا دیا گیا۔
اب یہاں تک معاملہ معمول کے مطابق رہا۔ تا ہم کچھ ہی عرصہ بعد بھارت نے اپنی دیرنہ مکاری اور عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے حصے کے تینوں دریاو¿ں پر چپ چاپ چھوٹے بڑے ڈیمز تعمیر کر لئے۔ اس ضمن میں جب کبھی پاکستان عالمی اداروں میں اپنامقدمہ لے کر گیا بھارتی ماہرین مختلف تکنیکی عذر داریوں کی آر میں وقت خریدتے رہے انہوں نے محض وقت ہی نہیں خریدا ہمارا بندہ بھی خرید لیا۔ واٹر بورڈ کا سربراہ جماعت علی شاہ ایک عرصے تک مبینہ طور پر بھارتی مفادات کے لئے کام کرتے ہوئے اپنی حکومت اور قوم کو ماموں بناتا رہا۔ اس کے جرائم کا عالم یہ ہے کہ آج یہ قومی مجرم کسی نامعلوم ملک، اغلباً بھارت میں مفرور اور روپوش ہے۔
مقام اطمینان ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایک ایسا سٹسمین لیڈر برسرا قتدار ہے جو حکومت اور حکمت کو ساتھ لے کر چلنے والا ہے۔ جو آج کی سیاسی ضرورتوں کا اسیر نہیں بلکہ قوم کے مستقبل سے جڑی حقیقتوں سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ، جذبہ اور ولولہ رکھتا ہے چنانچہ آج کچھ دیر پہلے انہوں نے چند روز میں قوم سے اپنے تیسرے غیر رسمی مکالمے کے ذریعے درپیش اہم مسئلے یعنی ہماری طرف بڑھنے والے قحط اور آبی قلت کی نشاندہی کی۔ انہوں نے قوم کو جھنجھوڑا اور بتایا کہ کس طرح ماضی سے اب تک آبی ذخائر کی تعمیر سے مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جو نقصان ہو چکا اس کا ماتم کرتے رہنے کی بجائے اس کا ازالہ کرنا ہے اور فوری اقدام لینے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے چیف جسٹس کے ڈیمز فنڈ کے قیام کو بے حد سراہا اور بتایا کہ آئندہ سے حکومت اور ان کا فنڈ یکجا کر دیئے جائیں گے اور قوم سے اپیل کی کہ پہلے سے غیر معمولی قرضوں میں جکڑے ہونے کی وجہ سے ہم مزید قرضے لینے کی پوزیشن میں نہیں لہٰذا اب قوم کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ اس سلسلے میں انہوں نے بطور خاص اور اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ کم از کم ایک ہزار ڈالر ڈیمز فنڈ میں جمع کرائیں۔ عمران خان صاحب نے انہیں یقین دلایا کہ جس طرح ماضی میں انہوں نے شوکت خاتم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میںان کے ساتھ مالی تعاون کیا تھا اور انہوں ( عمران خان صاحب) نے ان کے روپے پیسے کی خود حفاظت کی تھی بعینہ اب بھی وہ ایسا ہی کریں گے اور ان کے عطیات کی پائی پائی ڈیمز کی تعمیر پر خرچ کی جائے گی۔
عمران خان قوم کے ساتھ غیر رسمی تیسرا مکالمہ بہت مختصر یعنی پانچ چھ منٹ سے زیادہ نہ تھا۔ بہتر ہوتا کہ وہ اس موقع پر نیکی کا آغاز گھر سے کرنے کی روائت پر عمل کرتے ، اپنی اور بیگم صاحبہ اور کابینہ کے رائیس وزرا ءاور ایم این ایز کی طرف سے بھی عطیات کا اعلان کرتے۔ کاش عمران خان صاحب اپنی تقریر پر زیادہ توجہ اور محنت صرف کیا کریں اور اہم نکات لکھ کر اپنے سامنے رکھ لیا کریں۔اب بھی وقت ہے وزیر اعظم آفس کی طرف سے ان کے عطیات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قوم میں مزید تحریک اور ولولہ پیدا ہوگا۔
ڈیمز، ڈالر، ڈونر، اٹھو جاگو بڑھو ، قحط کی دستک سنو اور اپنے عمل سے اسے دھتکار دو۔
ماضی کی مجرمانہ غفلت اور چشم پوشی، فوری تلافی، ابھی یا کبھی نہیں
واٹر بورڈ کا پاکستانی عہدیدار مبینہ طور پر بھارتی ایجنٹ بن گیا
نیکی کا آغاز وزیر اعظم اور کابینہ کو اپنے گھر سے کرنا چاہئے تھا۔

Scroll To Top