عمران خان ڈیم بنانے میں کامیاب ہونگے !

zaheer-babar-logo

عمران خان سے بجا طور پر امید ہے کہ وہ ملک کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس میں شک نہیں کہ آج سب سے بڑا چیلنج ملک کی معاشی صورت حال ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پی پی پی اور پی ایم ایل این نے اپنے اپنے دور حکومت میں جس طرح سے بین الاقوامی اداروں سے قرض لیا وہ اب ملکی معیشت پر ایسا بوجھ بن چکا جسے اٹھائے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا ۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے لیے عوام کا معیار زندگی بلند کرنا تو ایک طرف روزمرہ اخراجات پورے کرنے بھی مشکل ہورہے۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے لیے کم ہوتی ضروریات ایسا چیلنج ہے جس سے کسی طور پر نظریں نہی چرائی جاسکتیں۔ مثلا پانی کا بحران 2025 میں اس طرح پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے کہ کروڈوں پاکستانیوںکی زندگی اجیرن ہوجائے۔ افسوس اس پر ہے کہ حال ہی میں اپنی آئینی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے والی مسلم لیگ ن حکومت نے میڑو اور اورینج ٹرین پر کروڈوں نہیں اربوں روپے خرچ کیے مگر ڈیمز کی تعمیر کے لیے عملا ٹھوس اقدام نہ اٹھا سکی۔
اب وزیر اعظم پاکستان نے پانی کی کمی کو بڑا مسلہ قرار دیتے ہوئے ڈیمز بنانے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے چیف جٹس ثاقب نثار کی جانب سے ڈیم کے لیے فنڈ قائم کرنے کو سراہتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ یہ چیف جسٹس کا کام نہیں تھا بلکہ یہ ان جیسے سیاست دانوں کی زمہ داری ہے کہ وہ اس قومی مسلہ کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھتے ۔ وزیر اعظم پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی درخواست کی ہے کہ پاکستانی کم ازکم ایک ہزار ڈالر ڈیم فنڈ میں بھیجے ۔ “
اس میں شک نہیں کہ بڑے منصوبوں کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں عمران خان کا ریکارڈ مثالی رہا۔ ورلڈ کپ جیتنے ، شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر ، اور میانوالی میں جدید ترین یونیورسٹی کی تعمیر جیسے منصوبے بظاہر ناممکن دکھائی دیتے تھے۔ خود عمران خان کا وزیر اعظم بن جانا شائد چند سال پہلے تک کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ کپتان کے مخالفین اس کا یہ کہہ کر تمسخر اڈایا کرتے کہ عمران خان کو سیاست کرنی نہیں آتی۔ موجودہ وزیر اعظم پاکستان کے بارے سندھ کے سابق وزیر اعلی زوالفقار مرزا کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ عمران خان عین وقت پر کیچ آٓوٹ ہوجائیگا۔
اہل پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی کہ اسے رہنماوںکی شکل میں ایسے غیر زمہ دار افراد سے واسطہ پڑا جو صرف اور صرف اپنے مفادات کے اسیر رہے ۔انفرادی اور گروہی تقاضوں کی تکمیل میں بڑے بڑے نام اس طرح مصروف رہے کہ قومی تقاضوں کو فراموش کرنے کے مرتکب ٹھرے مگر اب وقت کا تقاضا ہے کہ آبی زخائر بنانے کے لیے قومی سطح پر ایسی کوششوں کو فروغ دیا جائے جو دور رس کہلائیں۔
پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں کیا جارہا جو موسیماتی تبدیلی سے شدید انداز میں متاثر ہونے جارہا۔ ماضی میں موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی ہی نہیں کی گی لہذا اب حالات سنیگن ہوچکے۔ملکی و غیر ملکی ماہرین دہائی دے رہے کہ اگر پاکستان نے آبی ذخائر بنانے میں لاپرواہی برتی تو 2025 میں حالات انتہائی خراب ہوسکتے ہیں۔ ملک میں پانی کی کمی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ شہریوں کے لیے محض 30 دن کے پانی کی گنجائش موجود ہے جبکہ بھارت نے اپنی آبادی کے لیے 190دن تک پانی زخیرہ کرنے کا بندوبست کررکھا ہے۔ اسی طرح مصر ایک ہزار دن تک اپنے شہریوں کی پانی کی ضروریات پورا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے خیال میں کسی بھی ملک کے پاس 120تک پانی کی ضروریات پوری کرنے کا زخیرہ ہونا چاہے۔تقسیم ہند کے وقت پاکستان میںہر شخص کے لیے پانچ ہزار چھ سو مربع میٹر پانی موجود تھا جو اب کم ہوکر محض ایک ہزار مربع میڑ رہ گیا ۔
وزیر اعظم پاکستان کے بعقول چیف جسٹس ڈیم فنڈ میں ایک سو اسی کروڈ روپہ جمع ہوچکا ہے مگر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے زیادہ پیسے درکار ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں سے ہر کوئی ایک ہزار ڈالر بھیجے تو ہم نہ صرف دوڈیم بناسکتے ہیں بلکہ قومی خزانے میں ڈالرز کی موجودگی سے ہمیں کسی سے قرض لینے کی ضرورت بھی نہیںرہے گی۔“
لاشبہ قوموں کی زندگیوں میں مشکل وقت آیا کرتے ہیں۔ہمارے چیلنج یہ ہے کہ ہمیں ان کوتاہیوں کا ازالہ کرنا ہے جو سالوں سے نہیں کئی دہائیاں جاری وساری رہیں ۔ مقام شکر ہے کہ اب پاکستانیوں کی معقول تعداد ہوشمندی کا مظاہرہ کررہی ، جذباتی نعروں سے متاثر ہو کر اپنے ہی ملک کا نقصان کرنے کی بجائے حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلے کیے جارہے۔ یقینا منرل ابھی دور ہے۔قائد اعظم کے فرمودات کی روشنی میںایک فلاحی ریاست کی تکمیل کے لیے جدوجہد جاری وساری رکھنا ہوگی۔ جان لیا جائے کہ شہریوںکو بینادی ضروریات زندگی کی فراہمی جب تک ممکن نہیںہوجاتی ترقی کا کوئی بھی دعوی سچ ثابت نہیں ہونے والا۔ آنے والے دن بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ معلوم ہوجائیگا کہ عمران خان کی اپیل پر بیرون ملک پاکستانیوں نے کس حد تک ڈیمز بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ مگر جو کچھ بھی ہو اب یہ امید کرنا غلط نہیں کہ وطن عزیز میں بہتری کا عمل شروع ہوچکا۔

Scroll To Top