پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی محاذ آرائی ۔۔۔ 14-11-2013

kal-ki-baat
اس قوم کے ساتھ اس کے رہنماﺅں ` رہبروں اور ناخداﺅں نے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اگر انہیں جمع کرکے دستاویزی شکل دی جائے تو اس سے ایک ناقابلِ یقین حد تک ضخیم کتاب جنم لے گی۔
ہماری سیاست اگر جھوٹ کی بنیادوں پر کھڑی نہ ہوتی آج کا پاکستان اس قدر خوفناک بحرانوں میں گھِرا نہ ہوتا۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ وہ نظام جسے ”جمہوریت“ کا ” مقدس “ نام دے کر اختیار کرلیا گیا ہے ` دراصل جمہور نہیں خواص کی حاکمیت کا نظام ہے۔ اسے پلوٹو کریسی یا امراشاہی کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ میری اِس رائے کی صداقت کا ثبوت وہ رویہ ہے جو اِس امراشاہی کے فیض یافتگان نے بلدیاتی انتخابات کے معاملے میں اختیار کررکھا ہے۔
حکومت پر بلاشرکت ِ غیر قابض یہ طبقہ کسی بھی صورت میں حکمرانی کی برکات میں نچلے طبقوں کو شریک کرنا نہیں چاہتا۔ میرے خیال میں اب تو چیف جسٹس پربھی یہ بات واضح ہوجانی چاہئے کہ جس آئین کی حفاظت کی بات وہ کرتے ہیں اور جس نظام کو یہ آئین تحفظ فراہم کرتا ہے ` وہ امراشاہی کی حفاظتی فصیل کا درجہ رکھتا ہے۔
آج سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ محاذ آرا نظر آرہی ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کو اس محاذ آرائی کے آئینے میں اس قوم کے مستقبل کا عکس دیکھ لیناچاہئے۔۔۔

Scroll To Top