نائن الیون کے بعد کی جنگ کو پاکستان کی جنگ کہنا افسوسناک ہے !

aaj-ki-baat-new

تھائری میسان نے اپنی مشہور تصنیف The Big Lieیعنی ” سفید جھوٹ “ میں نائن الیون کے واقعات کو امریکہ کے کسی خفیہ ہاتھ کا ایک بڑا فراڈ قراردیا تھا۔۔۔ متذکرہ فرانسیسی مصنف نے بڑی ٹھوس ریسرچ اور بڑے ٹھوس دلائل سے یہ ثابت کیا تھا کہ ” جڑواں ٹاور “ فضا سے طیاروں کے حملوں کے ذریعے تباہ نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کی بنیادوں میں بارود نصب کیا گیا تھا۔۔۔متذکرہ ” ٹاورز“ کوریموٹ کنٹرول کے ذریعے اس وقت اڑایا گیا جب ” آٹو پائلٹ “ کے ذریعے آپریٹ ہونے والے طیارے ان کے ساتھ ٹکرائے۔۔۔
کئی برس بعد جو شواہد سامنے آئے ہیں اور سی آئی اے کے ایک سابق افسر میلکم ہاورڈ نے بستر مرگ پر جو اعترافی بیان دیا ہے ان سب سے تھائری میسان کا الزام محض الزام نہیں رہا ایک حقیقت بن گیا ہے۔۔ سی آئی اے اور امریکہ کی خفیہ اسٹیبلشمنٹ کی اِس خوفناک سازش کا مقصد مسلم دنیا کی تباہی اور شکست و ریخت کے اسباب یا جواز پیدا کرنا تھاامکان یہ بھی ہے کہ ابتداءمیں مقصد عراق پر حملے کا جواز پیدا کرنا ہولیکن جنرل پاول کی مخالفت نے جارج بش کی توپوں کا رخ کابل اور اسلام آباد کی طرف کردیا۔۔۔
سی آئی اے کے بین الاقوامی آپریشنز بڑی پیچیدہ نوعیت کے ہوا کرتے ہیں۔۔۔ ایک الزام اور امکان یہ بھی ہے کہ جنرل ضیاءالحق مرحوم کا طیارہ امریکی سفیر سمیت سی آئی اے نے اڑا تھا۔۔۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ جنرل ضیاءالحق امریکی مقاصد اور مفادات کے لئے ایک خطرہ بن گئے تھے۔۔۔جنرل موصوف نے جونیجو کی حکومت کا خاتمہ کرکے امریکی عزائم میں رخنہ ڈالاتھا اور امریکی سفیر رافیل کا جرم یہ تھا کہ وہ آخر وقت تک وزیراعظم جونیجو کی حکومت کے ساتھ کئے جانے والے سلوک سے بے خبر رہے تھے۔۔۔
یہ لمبی چوڑی تمہیدمیں نے برادرم عامر متین کے اس موقف کا جواب دینے کے لئے باندھی ہے جو یوم دفاع و شہداءکی تقریب سے وزیراعظم عمران خان کے خطاب پر تبصرے میں سامنے آیا ہے۔۔۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ شروع میں دوسروں کی جنگ میں شریک ہونے کے مخالف تھے اور اب تو اُن کا عہد ہے کہ پاکستان آئندہ کبھی دوسروں کی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔۔۔ ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان نے یہ وضاحت کی کہ جب دوسروں کی جنگ پاکستان پر مسلط ہوگئی تو ہماری سرزمین دہشت گردوں کی ہلاکت آفرین سرگرمیوں کی آماج گاہ بن گئی۔۔۔ اور نتیجے میں ہماری بہادر فو ج کو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے ایسی خونریز جنگ لڑنی پڑی جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔۔۔ وزیراعظم نے بڑے واشگاف اور جذباتی انداز میں اس خونریز جنگ کے شہیدوں اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور واضح کیا کہ اتنے مشکل حالات میں دہشت گردوں پر اس قدر فیصلہ کن انداز میں غلبہ پانا دنیا کی کسی بھی دوسری فوج کے بس کی بات نہیں۔۔۔
جناب عامر متین نے کہا کہ وہ عمران خان کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ دوسروں کی جنگ تھی۔۔۔
عمران خان نے یہ بات کہی ہی نہیں تو پھر اتفاق اور اختلاف کرنے کا سوال کیسے پیدا ہوتا ہے۔۔۔ عمران خان نے یہ کہا کہ یہ جنگ امریکہ کی تھی جو اس نے اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کے لئے افغانستان پر مسلط کی اور پھر پاکستان کو اس میں گھسیٹ لیا۔۔۔
جناب عامر متین کے استد لال کے نا درست ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ سچ ہے کہ نائن الیون سے پہلے خود کش بمباروں نے پاکستان کے شہروں ` اس کی آبادیوں اور گزر گاہوں کا رخ نہیں کیا تھا۔۔۔
جہاں تک جنرل ضیاءالحق کے دور میں لڑی جانے والی جنگ کا تعلق ہے وہ بھی پاکستان پر مسلط کی گئی تھی جب بھٹو مرحوم کے دور میں کابل پر پاکستان مخالف قوتوں کے قبضے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوگیا تھا ۔۔۔ کون نہیں جانتا کہ شمالی اتحاد کے احمد شاہ مسعود اور پختوں اتحاد کے انجینئر حکمت یار بھٹو مرحوم کے دور میں ہی پاکستان کے ASSETبن چکے تھے۔۔۔
میری رائے میں وہ جنگ بھی پاکستان کی بقاءکے لئے ناگزیر تھی۔۔۔

Scroll To Top