ڈیموں کی تعمیرچیف جسٹس وزیر اعظم یک زباں: ڈیمز نہ بنے تو ملک ریگستان بن جائے گا، عمران خان

  • ملک کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ، صرف 30دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے جو یقینا ناکافی ہے، بیرون ممالک میں 80 سے 90 لاکھ مقیم پاکستانی فی کس ایک ہزار ڈالر بھیجیں تو دو ڈیمز بنانے کےلئے فنڈز جمع ہوجائیں گے اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا، چیف جسٹس اور وزیراعظم فنڈز کے انضمام کا اعلان
  • دبئی، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں رہنے والے پاکستانی اپنی استطاعت کے مطابق عطیات دیں،رقوم کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں ،جو کام سیاسی لیڈر شپ کا تھا وہ چیف جسٹس نے کیا، جس کیلئے انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، وزیر اعظم کا قوم کے نام پیغام

عمران خان کی بطور  وزیراعظم آفیشل تصویر جاریاسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے ملک میں نئے ڈیموں کی تعمیر کےلئے سمندر پار پاکستانیوں سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس صرف 30 دن کےلئے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے ،ڈیم نہ بنے تو ملک میں خشک سالی اور قحط پڑنے کا خدشہ ہے ،بیرون ممالک میں 80 سے 90 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں ، سب ایک ہزار ڈالر بھیج دیں تو ہمارے پاس دو ڈیمز بنانے کے پیسے ہوجائیں گے۔ جمعہ کو قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ دو ہفتوں سے قومی مسائل پر بریفنگ لے رہا ہوں اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ قوم کے سامنے ملک کے تمام معاملات سامنے لے کر آو¿ں گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ10 سال پہلے پاکستان پر 6 ہزار ارب قرضہ تھا اور آج 30 ہزار ارب پر پہنچ گیا ہے، گردشی قرضوں کا بھی معاملہ ہے لیکن ملک کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے، ہمیں پانی کی قلت کا سامنا ہے اور اس وقت ڈیم بنانا ناگزیر ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے پاس صرف 30 دن کےلئے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ جب پاکستان آزاد ہوا تو ہر پاکستانی کے حصے میں 5 ہزار 600 کیوبک پانی آتا تھا اور آج ایک ہزار کیوبک آتا ہے، ہمارے پاس پانی جمع کرنے کی صلاحیت کم ہے۔وزیر ا عظم نے کہا کہ اگر ہم نے ابھی بھی ٹیم بنانا شروع نہیں کیے تو اپنی نسلوں کےلئے مسائل کا پہاڑ چھوڑ کر جائیں گے، ماہرین کہتے ہیں اگر ہم نے ڈیم نہ بنائے تو ملک میں خشک سالی اور قحط پڑنے کا خدشہ ہوگا۔عمران خان نے یورپ اور امریکا میں موجود پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ ڈیمز فنڈ کےلئے کم از کم ایک ہزار ڈالر بھیجیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیمز ملک کےلئے ناگزیر ہو گئے ہیں ،ہمارے پاس فی کس 1000 کیوسک پانی رہ گیا ہے اور اگر اب بھی ڈیم نہ بنائے تو 2025 میں اناج اگانے کےلئے بھی پانی نہیں بچے گا۔انہوںنے کہاکہ دبئی، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں رہنے والے پاکستانی اپنی استطاعت کے مطابق ڈیمز کےلئے فنڈ دیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ 80 سے 90 لاکھ پاکستانی بیرون ملک رہتے ہیں، اگر سب ایک ہزار ڈالر بھیج دیں تو ہمارے پاس دو ڈیمز بنانے کے پیسے ہوجائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کے دئیے گئے پیسوں کی حفاظت کریں گے۔چیف جسٹس کی جانب سے ڈیمز بنانے کی مہم میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں چیف جسٹس کو داد دیتا ہوں کام یہ چیف جسٹس کا نہیں تھا یہ ہماری طرح کی سیاسی قیادت کا کام تھا یہ مسئلہ ابھی سے شروع نہیں ہوا یہ پچھلے گزشتہ 30 سال لوگوں کو نظر آرہا تھا کہ آہستہ آہستہ پانی کم ہوتا جارہا ہے یہ ہماری سیاسی قیادت کو سوچنا تھا کہ یہاں پانی کا منصوبہ بنا ہے۔عمران خان نے کہاکہ چیف جسٹس سے میں نے آج بات کرلی اور ان کے فنڈ کے ساتھ سی جے اور پرائم منسٹر فنڈ کو اکٹھا کررہے ہیں ،انھوں نے فنڈ میں 180 کروڑ روپے جمع کیا ہے لیکن میں جس سطح پر آج فنڈ جمع کررہا ہوں سب سے پہلے تو سارے پاکستانیوں کو اپیل کرتا ہوں کہ جہاں بھی پاکستانی ہیں اور پاکستان میں بھی موجود سارے اپنے مستقبل کے لیے اس ڈیم کے لیے فنڈ آج سے دینا شروع کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی کردار ادا کریں تو 5 سال میں ڈیم بن سکتا ہے ،نیلم جہلم پراجیکٹ میں بھی صرف پیسے نہ ہونے کے باعث دیر ہوئی، ہمارے زرمبادلہ ذخائر میں کمی ہے اور پاکستان کو اس وقت ڈالرز چاہیے۔پانی کو ذخیرہ کرنے کے حوالے سے دیگرممالک کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کی پانی محفوظ کرنے کی صلاحیت صرف 30 دن کی، بھارت کی 190 دن اور مصر میں ایک ہزار دن کی ہے جبکہ محفوظ سطح 120 دن ہے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے اس لیے اپیل کررہا ہوں کہ ایک دفعہ مصر کے لوگوں نے ڈیم بنایا تھا کیونکہ انہیں باہر سے قرض نہیں مل رہا تھا لیکن ہمیں بھی کہیں سے قرض نہیں لینا۔

Scroll To Top