معرکہ حق و باطل نے پوری قوم کو سیسہ پلائی دیوار بنا دیا

  • قومی بقا کی امنگ اور ترنگ نے اہل پاکستان کو نئی پہنچان دی
  • کیا ایوب خان جیتی ہوئی جنگ تاشقند کی میر پر ہار آئے تھے۔
  • جنگ65ءکی کوکھ سے کسی کا زوال اور کسی کا کمال شروع ہوا

gulzar-afaqi-logo
وہ ایک عام سا دن تھا۔
گھروں کی بیبیاں ابتدائے صبح کے کام کاج سے فارغ ہو کر دالانوں میں بیٹھک لگائے بیٹھی تھیں۔ یکبارگی ایک دل دہلا دینے والا دھماکہ ہوا۔ گھروں کے کھڑکیاں دروازے بجنے لگے، اور ٹوٹتے شیشوں کی چھن چھنا ہٹ پھیلنے لگی، جو کوئی جہاں تھا دم سادھے رک گیا۔
پہلا تاثر ، حملہ ، دھاکہ، زلزلہ! اصل حقیقت کی تلاش، تجسس بڑھتا چلا گیا۔ جتنی زبانیں اتنے واہمے، وسوسے اور خدشے، ان دنوں ٹیلی ویژن ابھی عام نہ ہوا تھا۔ ہر کوئی ریڈیو سیٹوں پر جھپٹ پڑا۔ مگر وہاں معمول کے راگ چل رہے تھے۔ اب ضیمہ ضمیمہ کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
ہمارا گھر لاہور میں ایسے مرکزی مقام پر تھا جس کے ارگرد سینما گھر اور اخبارات کے دفاتر تھے۔ چند گز کے فاصلے پر امروز اور پاکستان کے دفاتر تھے۔ میں ادھر کو لپکا۔ سڑک پر ٹریفک جام ہو چکی تھی۔ دس دس بیس بیس لوگوں کی ٹولیا ہوا میں ٹامک ٹوئیاں مارنے میں مصروف تھیں۔ یہاں بھی تین امکانات بے تکلفی سے نشانہ مشق تھے۔ حملہ، دھماکہ، زلزلہ۔
امروز اخبار کے سامنے رتن چند روڈ پر بے چین لوگوں کا ہجوم لگا ہوا تھا۔ مگر کوئی کسی کو کچھ خبر نہیں دے رہا تھا۔ خبر نہ ضمیمہ عجب مخمصہ۔
پھر ہر کوئی ریڈیو سیٹ کے آگے، اچانک ریڈیو نشر یات میں لمحے بھر کا رخنہ پڑا تو سب کے حلقوں میں تعجب اور خوف میں بھیگا ہوا ” ہو“ سانکلا مگر اگلے ہی لمحے ریڈیوسیٹ میں زندگی عود کر آئی۔ کوئی ترانہ بجا، پھر شائد قومی ترانہ مگر یقین سے کچھ یاد نہیں رہا۔ یہاں تک کہ اناو¿نسر کی آواز!فقط یہ نام سنائی دیا۔ صدر جنرل محمد ایوب خان اور پھر ایک ایسی پر اعتماد اور رجب دار آواز کی گونج سنائی دی جس نے سارے وسوسے، واہمے اور خدشے دور کر دیئے۔ اور ہر کسی کے اندر ابلتے ہوئے خون کے نالے بہہ نکلے۔ ہر کوئی ایک نئے جذبے ولولے اور طنطنے سے سرشارہوگیا۔ صدر ایوب خان کہہ رہے تھے۔
میرے عزیز ہم وطنوں آج صبح منہ اندھیرے ایک عیار دشمن ہندو ستان نے ہم پر حملہ کر دیا ہے۔مگر ہمارے بہادر افواج نے بزدل دشمن کی پیش قدمی روک دی ہے۔ ہمارے جوانوں اور افسروں کے سینے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکے ہیں۔ دشمن کو پتہ نہیں اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔ اور پھر صدر ایوب نے پوری قوم سے کہا کہ مادر وطن کے دفاع کے لئے ہر پاکستانی تیار ہو جائے ہم ان شاءاللہ مکار دشمن کو شکست فاش دیئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔
اس تقریر نے گویا پاکستان کے چپے چپے میں جادوئی کام کیا تب مشرقی پاکستان ( بنگلہ دیشن) بھی ہمارے وجود کا حصہ تھا چنانچہ مشرق و مغرب دشمن کے خلاف سراپا ضرب وحرب بن گیا۔
میں لاہور کی بات کر رہا تھا۔ صدر ایوب کی تقریر کے فوری بعد یہ تاثر عام ہو گیا کہ کچھ وقت پہلے لاہور جس دل دہلا دینے والے دھماکے کی لپیٹ میں آگیا تھا اس کی حقیقت یہی بھارتی حملہ تھا۔ اور یہ کہ بھارتی جنگی جہاز لاہور پر حملہ آور ہوئے ہوں گے جنہیں پاکستان کی ایئرفورس کے لڑاکا طیاروں نے انگیج کر کے مار بھگایا ہوگا۔
تا ہم زیادہ دیرنہ ہوئی تھی کہ ریڈیو پاکستان اور امروز کے ضمیمے نے اس راز سے پردہ اٹھادیا۔ دھماکے کی آواز ہندوستان اور پاکستان کے لڑاکا طیاروں کی ایئر فائٹنگ کا نتیجہ نہ تھا۔ بلکہ یہ پاکستان فضائیہ کے جہازوں کی آواز سے زیادہ رفتار کی تھی ۔ جونہی ایک جہاز فضا میں موجود SOUND BARRIER کی حدود توڑتا ہے تو ویسے ہی دھماکے کی آواز پیدا ہوئی ہے جو اہل لاہور نے 6ستمبر کی صبح سویرے سنی اور وہ دیر تک ورطہ حیرت میں ڈوبے رہے۔
6ستمبر کو شروع ہونے والا معرکہ حق و باطل 17دن جاری رہا اور 23ستمبر کو اختتام پذیر ہوا۔ ان سترہ دنوں میں اٹھنے والے موج در موج واقعات ، نشیب و فراز اور سب سے بڑھ کراہلِ پاکستان کی اپنے قومی تشخص کی دریافت نو کے جو عظیم واقعات رونما ہوئے وہ آج بھی میری لوح یاد داشت پر رقم ہیں۔ جنہیں میں قلم برداشتہ روانی سے ان صفحات پر منتقل کئے جا رہا ہوں۔ یوں تو ان کی تفصیل کے لئے ایک دفتر درکار ہے تا ہم میں یہاں فقط چند مختصر نکات تک ہی خود کو محدود رکھوں گا۔ وجہ؟ اخباری کالم کی تنگ دامانی!
47میں قیام پاکستان سے65معرکہ حق و باطل سے پہلے تک18سال میں قومی یک جہتی کی فصیل میں بوجوہ کئی دراڑیں پیدا ہو چکی تھیں۔ بھارتی حملے نے قوم میں اجتماعی بقاءکے جذبے کو انتہائی شدت سے بھارا اور ہر کوئی قومی وحدت اور یک جہتی کے نشے میں سرشار بلکہ شرابور ہوگیا۔
جرائم نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔ باہمی دنگا مشتی ندارد ہوگئی۔ اشیائے خورد ونوش کے نرخ کم ہوگئے۔ لوگ گھر بار کھلے چھوڑ کرگلی بازار میں نکل آئے۔ ایک دوسرے کی فلاح و بہود کے کام کرتے، دفتروں میں کام کاج کی سمت اور رفتار درست ہوگئی۔
قومی تشخص کی پاسداری اور تحفظ کا جذبہ عوام اور افواج کو دو دل یکجان کر گیا۔ لوگ باگ گھروں سے چھوٹے موٹے اسلحے حتیٰ کہ لاٹھیوں کے ساتھ واہگہ بارڈر جانے والی گزر گاہوں پر ٹھٹھ لگا کر کھڑے ہو جاتے اور اپنے فوجی بھائیوں کے دوش بدوش دشمن کی سرکوبی کے لئے میدان کار زار میں اترنے کی ضد کرتے۔ پاک افواج کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا مگر ہمارے لہوری شہری بھی سامان خوردونوش خشک راشن ، آٹا چینی چائے اور سگریٹوں کے ڈبوں سے لدے پھدے فوجی دستے کی راہ میں کھڑے ہو کر ان نچھاور کرتے رہتے۔
اسی جنگ کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے وہ معرکہ آرا تقریر کی اور پولینڈ کی قرار داد کو پھاڑ کر اجلاس سے واک آو¿ٹ کر آئے جنگی فضا میں ان کی یہ جرا¿ت رندانہ پاکستانی قومی کے دل میں جذبے ہو کر رہ گئی۔ اور یہیں سے بھٹو اہل پاکستان کے دلوں میں بسنا شروع ہوگیا۔
پھر سوویت یونین کے شہر تاشقند میں پاکستان بھارت جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کی شرائط اہل پاکستان کی امنگوں کے مطابق نہ تھیں، اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس بھارت نواز معاہدے سے اسقدر خوش ہوئے کہ وہ خود مسرت میں جاں بحق ہوگئے۔ جبکہ اس معاہدے نے پاکستان کو بھٹو کی شکل میں ایک نیا سیاستدان دے دیا جس نے آنے والے دنوں میں پاکستانی سیاست پر راج کرنا تھا۔
یہاں تک 4اپریل 1979ءکو بھٹو ایک آمر مطلق ضیا الحق کے عہد میں پھانسی سے جھول گیا، صدر ایوب کی مسند صدارت بھی فروری1969ءمیں زمین بوس ہوگئی۔ اور پھر یحییٰ خانی آمریت میں پاکستان دولخت ہوگیا۔
آج ہم ایک نئے پاکستان میں جی رہے ہیں جس کے عقب میں اگر المیے اور طربیے ہیں تو سامنے امید اور خوشحالی کے امکانات

Scroll To Top