یوم دفاع اس بار منفرد انداز میںمنایا گیا

  • سیاسی وعسکری قیادت کا قومی مسائل پر ایک ہی نقطہ نظر دکھائی دیا
  • عمران خان نے قومی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے آئین وقانون کی بالادستی کو لازم قرار دے ڈالا
  • 1965سے لے کر اب تک کے شہدا کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا
    سیاست دانوں و فنکاروں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تقریب میں شریک
  • قائد حزب اختلاف شہبازشریف اور چیرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی کو سراہا گیا

zaheer-babar-logo
جی ایچ کیو میں ہونے والی تقریب اس لحاظ سے یاد گار رہی کہ اس میں چھ ستمبر 1965 کے شہدا کو اس طرح خراج تحسین پیش کیا گیا کہ ماضی کے واقعات میں کارفرما جذبہ آج بھی جسم وجان میںمحسوس ہوا۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنے خطاب قیام پاکستان کے ان مقاصد پر روشنی ڈالی جن کو روایتی سیاسی قیادت نے بڑی حد تک فراموش کردیا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کا مقصد محض ایک ملک کا حصول نہ تھا بلکہ یہ عصر حاضر کی وہ پہلی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کی گی۔ وزیر اعظم پاکستان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کسی کی جنگ نہیں لڑے گا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ ان پاک فوج کے شہدا کو سلام کو پیش کرتے ہیں جنھوں نے مادر وطن اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کیا۔
یوم دفاع کی تقریب اس لحاظ سے بھی منفرد رہی کہ اس میں ایک طرف اگر وزیر اعظم پاکستان مدعو تھے تو دوسری جانب قائد حزب اختلاف شہبازشریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے۔ جی ایچ کیو میںہونے والی اس پروقار اجتماع میں ریٹائر آرمی آفیسر کے علاوہ کھلاڈیوں اور فنکاروں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ کم سے کم الفاظ میں یوں بھی کہا جاسکتا کہ اس بار چھ ستمبر کے موقعہ پر دوستوں اور دشمنوں کو سب ہی کو پیغام دیا گیا کہ پاکستان اور اس کے مفاد کے لیے تمام ریاستی ادارے باہم متفق ومتحد ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں اس اتحاد واتفاق کے جذبہ کا بطور خاص زکر کیا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں ہر سطح پر باہم اکھٹے رہنا ہوگا۔ وزیر اعظم پاکستان نے ان مسائل کا بھی باخوبی زکر کیا جو اس وقت قوم کو درپیش ہیں۔ عمران خان اپنے خطاب میں سیاسی مداخلت سے پاک سرکاری اداروں کی اہمیت بتائے رہے۔
چیف آف آرمی سٹاف نے بھی اپنے خطاب میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر بہنے والے لہو کا حساب لیں گے ۔ سپہ سالار نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کوئی فرد ملک وقوم سے بڑھ کر نہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے قوم کو یقین دلایا کہ درپیش مسائل پر جلد قابو پالیا جائیگا۔ “
بلاشبہ یوم دفاع کا جذبہ محض ایک دن تک محدود نہیں رہنا چاہے پاکستان کو ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل کروانے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آئین اور قانون کی بالادستی کا نعرہ محض عام آدمی تک محدود نہیں رہنا چاہے بلکہ اس کے لیے طاقتور افراد کو بھی سر تسلیم خم کرنا ہوگا۔یقینا وطن عزیز میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہیں سب سے بڑھ کر باشعور پاکستانی یہ سمجھنے لگا ہے کہ اب منزل کا حصول ناممکن نہیں رہا۔
یقینا قیام پاکستان کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات پر عمل کرنا ہوگا۔ ہمارے اہل اقتدار کے لیے محمدعلی جناح اور علامہ اقبال سے فکری رہنمائی حاصل کرناہی باعث افتخار ہوسکتا ہے۔ سمجھ لینا چا ہے کہ مادر وطن کے حصول کا مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک تحریک پاکستان کی روح کو نہ سمجھا جائے۔تقسیم ہند سے لے کر اب تک قوم نے بے شمار قربانیاں اسی لیے دیں کہ وہ اس سرزمین میںایسے نطام کے نفاذ کے خواہشمند رہے جس میں طاقتور وکمزور کا فرق نہ روا رکھا جائے۔ آج ایک بار پھر تحریک پاکستان کے جذبہ کو بیدار کرنا ہوگا مگر سچ یہ ہے کہ آزادی کے ثمرات خطہ غربت سے نیچے رہنے والے ان کروڈوں پاکستانیوں تک تب ہی پہنچ سکتے ہیں جب یہ نظام انصاف پر مبنی ہوگا۔
حوصلہ افزاءہے کہ عمران خان کی شکل میں آج ایسی شخصیت وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہے جو ترقی کی راہ میںدرپیش رکاوٹوں سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ ان کو راستے سے ہٹانے کے جذبہ سے بھی سرشار ہے۔ یاد رکھنا چاہے کہ بہتری کا یہ عمل مشکلات سے خالی نہیں۔سرحد سے پار تو ہمارے بدخواہ موجود ہیں ہی مگر ملک کے اندر بھی ایسی منفی قوتیں فعال ہیں جو آگے بڑھنے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
ماضی کے برعکس ایک مثبت پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ آج کروڈوں پاکستانیوں نے اپنی سرزمین کی ملکیت قبول کرلی۔ شہروں میں ہی نہیں دیہاتوں میں بھی یہ سمجھ لیا گیا کہ اگر وطن کے مسقبل کو خوشحال اور محفوظ بنانا ہے تو ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔یہ بات درست ہے کہ جمہوری نظام کے جاری وساری رہنے سے بھی عام پاکستانی کو اپنی اہمیت کا احساس ہوا۔ ووٹ کی طاقت سے حکومت لانے اور نکال باہر کرنا غیر معمولی اقدام ہے۔ پی پی پی کے بعد پی ایم ایل این اور اب پی ٹی آئی کی حکومت آنا ووٹ کے تقدس کو بڑی حد تک بحال کر گیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ گزرے ماہ وسال میں سیاسی جماعتیں یہ بہانے کرتی رہیںکہ چونکہ انھیں پانچ سال تک حکومت نہیں کرنے دی گی لہذا وہ عوام سے کیے گے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہیں۔ یوم دفاع کی تقریب میں عمران خان نے اس کی بھی کھل کر وضاحت کی آج سول ملڑی تعلقات میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ وزیر اعظم پاکستان پورے یقین کے ساتھ یہ کہتے نظر آئے کہ موجودہ حالات میں اتفاق ویکجہتی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔وزیر عظم پاکستان نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ملکی مسائل کو حل کرنے کے لیے وقت درکار ہے تاکہ عام آدمی کو حقیقی معنوں میں تبدیلی نظر آسکے۔

Scroll To Top