جرمِ مسلمانی کی سزا ! 13-11-2013

kal-ki-baat
آئی ایس پی آر کو سیدمنور حسن کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے بیک ” جنبشِ زبان “ ہمارے ملک کی لبرل ` جمہوری ` ” فوج مخالف “ اور ” امریکہ دوست “ لابی کی بندوقوں کا رخ ہماری عسکری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے موڑ کر جماعت اسلامی اور پاکستان اور اسلام کے رشتے کو انمٹ اور لازوال سمجھنے والی سوچ کی طرف کردیا ہے۔ گزشتہ دو تین روز سے پاک فوج کو ملک کے ہر بحران کا سبب قرار دینے والی سوچ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن صاحب کے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کی آڑلے کر ایک طرف امریکہ کی شان میں قصیدے پڑھ رہی ہے اور دوسری طرف نظریہ ءپاکستان پر گولے برسا رہی ہے۔
رﺅف کلاسرا صاحب نے تویہاں تک فرما دیا ہے کہ ” دین “ کو ملک کی سیاست اور معاشرت سے حرفِ غلط کی طرح نکال باہر پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔ ملک کے ” نو مولود سیاست دان “ بلاول بھٹو نے بھی اپنی موروثی ” ذہانت “ اور ”مدبرانہ “ صلاحیتیں ثابت کرنے کی جلدی اور جوش میں اعلان فرما دیا ہے کہ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہئے جو سلوک اس کے ساتھ بنگلہ دیش میں ہورہا ہے۔ موصوف کو یہ بات کہتے ہوئے اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے تھاکہ پاکستان نئی دہلی کی کسی سازش کے نتیجے میں قائم نہیں ہوا تھا۔
میں نہیں جانتا کہ سیدمنور حسن کو اس قسم کا بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ مگر اس بات کا علم ضرور رکھتا ہوں کہ جس ملک کے کروڑوں باسیوں کے دلوںمیں اسلام دھڑکتا ہے اس میں اسلام کو اپنے نام کا حصہ بنانے والی جماعت اسلامی کئی دہائیوں کی جدوجہد کے بعد بھی اپنا معقول ووٹ بینک پیدا نہیں کرسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جماعت شروع سے ہی عوام کی ” مسلمانی “ قبول کرنے اور انہیں اپنے برابر جگہ دینے کی صلاحیت سے محروم رہی ہے۔
یہ فیصلہ بہرحال خدا کرے گا کہ کون شہید ہے اور کون نہیں۔ جنگ جمل میں تو دونوں طرف سے بڑے جیّد اور اعلیٰ مرتبت صحابی شہید ہوئے تھے !
یہ بڑا پیچیدہ اور الجھا ہوا معاملہ ہے۔ مگر میں یہاں اپنے لبرل اور سیکولر ہم وطنوں کو یہ یاد دلانا چاہوں گا کہ شہادت ایک خالصتاً دینی اصطلاح ہے اور اس کا تعلق صرف اور صرف توحید و رسالت کے نام لیواﺅں سے ہے۔ ایک غیر مسلم کو شہید قراردینا اسلام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ جو لوگ حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے پر سید منور حسن پر سیخ پا ہورہے ہیں انہوں نے کتنے جوش و خروش کے ساتھ شہباز بھٹی کوشہید قراردیا تھا۔!
اور جو لوگ امریکہ کا نام بڑی عزت اور بڑے احترام کے ساتھ لے رہے ہیں انہیں یہ یادکرلینا چاہئے کہ 7اکتوبر2001ءکو جو وحشیانہ بمباری افغان عوام پر کی گئی تھی اس کا نشانہ بننے والے کیڑے مکوڑے نہیں تھے۔وہ بھی انسان تھے۔ اور ان کا جرم صرف یہ تھاکہ وہ مسلمان تھے۔
جب تک رسول عربی کے نام لیوا اپنے اس جرم سے توبہ نہیں کرتے انہیں امریکی گولہ بارود کا نشانہ بنتے رہنا پڑے گا۔

Scroll To Top