بھارت سے دوستی اور امن ہماری خواہش تو ہوسکتی ہے مگر بھارت کے ” حکمت ساز“ ہمیشہ ہمیں ” زمین بوس“ کرنے کے موقع کی تلاش میں رہیں گے ۔۔۔

aaj-ki-baat-newجب یہ جنگ ہوئی جس کی یاد میں ہم یومِ دفاع مناتے ہیں میں اپنے صحافتی کیریئر کے عروج پر تھا۔۔۔ ملک کے دوسرے بڑے اخبار کا ایڈیٹر ہونا کوئی معمولی اعزاز نہیں تھا۔۔۔ اور میرے چیف ایڈیٹر کوئی اور نہیں میرے ماموں اور ایک پورے عہد کے فکری معما ر اور نظریاتی جنوں ساز نسیم حجازی تھے۔۔۔

” غلام اکبر۔۔۔ آج میرے پاکستان کا سپاہی ثابت کررہا ہے کہ شوقِ شہادت کے جس ایندھن نے مجاہدین بدر کو ناقابلِ تسخیر بنادیا تھا اس ایندھن سے اٹھنے والی چنگاریاں آج بھی موجود ہیں اور اس وقت تک موجود رہیں گی جب تک کرہءارض کی فضاﺅں میں تکبیر کی صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔۔۔“ میجر عزیز بھٹی کی شہادت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ۔۔۔
مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ جس ” ایندھن“ کی بات ماموں جان مرحوم نے کی تھی اُس کی ” توانائی آفرینی“ کو میں نے بھی جنگ ستمبر کے دوران محسوس کیا تھا۔۔۔ یہ توانائی اس قدر سرکش تھی کہ اس کے بعد میرا قلم میرے قابو میں نہ رہا۔۔۔
تب سے میری سوچ پر یہ ” سچ“ غالب رہا ہے کہ ایک ریا کار اور زہریلے دشمن کا ہماری سرحدوں پر وجود ہمیں اپنی تاریخ کے ہر دور میں چوکس اور توانا رکھے گا۔۔۔
بھارت سے دوستی اور امن ہماری خواہش تو ہوسکتی ہے مگر بھارت کے ” حکمت ساز “ ہمیشہ ہمیں ” زمین بوس“ کرنے کے موقع کی تلاش میں رہیں گے۔۔۔

Scroll To Top