دشمن سن لے! لہو جو سرحد پر بہہ رہا ہے اس کا حساب لیں گے ، جنرل قمر جاوید باجوہ

  • پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا کر رہیں گے، گزشتہ دو دہائیوں میں بہت مشکل دور سے گزر ے ہیں، جنگ ابھی جاری ہے، دشمن کو ایسے مقام پر پہنچانا ہے جہاں سے وہ ہمیں میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے
  • دہشت گردی کےخلاف جنگ میں 70 ہزار ہموطن شہید ہوئے جن کی لازوال قربانیوں کو یاد رکھنے کےلئے یوم دفاع کےساتھ یوم شہداءبھی مناتے ہیں، جو قومیں شہدا کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں،یوم دفاع و شہداء کی تقریب سے خطاب

”ریڈ کارپٹ بچھائیے،جنرل باجوہ کو بلائیے“: سابق سربراہ راراولپنڈی(الاخبار نیوز) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دفاع پاکستان کے لیے ہم سب یک جان ہیں، آج کا دن شہدائے پاکستان سے اظہار یکجہتی کا دن ہے۔ان خیالات کا اظہار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع و شہداء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، آرمی چیف نے کہا کہ آپ سب کو دیکھ کر ہمارے اعتماد اور حوصلے میں اضافہ ہوا ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ 6 ستمبر کا دن افواج پاکستان کا اہم ترین دن ہے، 6 ستمبر کو قوم نے مکار دشمن کے دانت کھٹے کیے تھے، چھ ستمبر کے دن ہر پاکستانی وطن کا سپاہی بنا، ستمبر کی جنگ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ پچھلی دو دہائیوں میں دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر ا±ٹھی، بدقسمتی سے پاکستان بھی اس دہشت گردی کا نشانہ بنا، ہم پر دہشت اور خوف مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، ہمیں کمزور اور تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی، سلام ہے پاکستانی قوم اور محافظوں کو جو اس مشکل وقت میں ڈٹے رہے۔پاک فوج کے سپہ سالار نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار پاکستانی شہید ہوئے، لازوال قربانیوں کو یاد رکھنے کے لیے 2014ئ سے یوم دفاع کے ساتھ یوم شہدائ بھی مناتے ہیں، جو قومیں شہدا کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہم پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا کر رہیں گے، پچھلی دو دہائیوں سے بہت مشکل دور سے گزرے ہیں، جنگ ابھی جاری ہے، دشمن کو ایسے مقام پر پہنچانا ہے جو ہمیں میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔آرمی چیف نے کہا کہ ہمیں بھوک افلاس اور غربت کے خلاف جنگ بھی جاری رکھنی ہے، ملک میں جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے، اقوام عالم میں قائد اعظم کے وژن کے مطابق اپنا مقام حاصل کرلیں، سول، عسکری قیادت کا یہاں موجود ہونا دلیل ہے ہم سب ایک ہیں، لہو جو سرحد پر بہہ رہا ہے، لہو جو سرحد پر بہہ چکا ہم اس کا حساب لیں گے۔

Scroll To Top