پاک امریکہ تعلقات میں تناو بدستور موجود

zaheer-babar-logo

یہ کہنا آسان نہیںکہ امریکہ وزیر خارجہ کا ایک روزہ دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں سردمہری ختم ہوگی ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا بجا کہ مائیک پومپیو سے بات چیت کے نتیجے میں نہ صرف پاک امریکہ تعلطل ختم ہوا بلکہ کوئی ڈو مور کا مطالبہ بھی سامنے نہیں آیا۔مگر مبصرین کے خیال میں امریکی وزیر خارجہ کا پاکستان میں جس انداز میں اسقبال کیا گیا اس سے بھی یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتری کی جانب نہیں جارہے۔ یاد رہے کہ امریکہ مائیک پومپیو کا پاکستان میں استقبال وزارت خارجہ کے آفیسر ڈاکڑظفر اقبال نے کیا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بڑی رکاوٹ اففانستان کی صورت حال ہے۔ واشنگٹن کا اعلانیہ طور یہ موقف رکھتا ہے کہ افغانستان میں اس کی مشکلا ت کی نمایاں وجہ یہ ہے کہ پاکستان حقیقی تعاون نہیں کررہا۔ ادھر زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغان طالبان اب محض پاکستان پر انحصار نہیں کررہے بلکہ اس کے مقابلے میں وہ روس اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرچکے۔خود واشنگٹن بھی کہ چکا کہ روس امریکہ کے خلاف طالبان کی مدد کررہا۔ دراصل امریکہ کو کسی طور پر ماننے کو تیار نہیںکہ اب نائن الیون کے فورا بعد والے حالات نہیں رہے۔ اس کے برعکس خطے کے ممالک میںیہ احساس فروغ پذیر ہے کہ سات سمندر پار سے آنے والی قوت کو سہولت فراہم کرنے سے اب گریز کرنا ہوگا۔ افغانستان کے موجودہ حالات کی روشنی میں امریکہ کے اس مطالبہ کو غیر حقیقت پسندانہ ہی کہا جاسکتا کہ یا تو پاکستان طالبان کو مذاکرت کی میز پر لائے یا پھر ان کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کرنے میں اپنا کردار ادا کرے ، بادی النظر میں امریکی خواہش کے مطابق مذکورہ دونوں مطالبات کی منظوری کا امکان نہیں۔
کہا جارہا ہے کہ امریکہ کو اس بات کا بھی باخوبی احساس ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں اسلام آباد میں نئی حکومت آچکی۔ عمران خان طویل سیاسی جدوجہد کے نتیجے میںاس مقام پر پہنچے کہ وہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوجائیں چنانچہ واشنگٹن کے لیے یہ توقع کرنا آسان نہ ہوگا کہ وزیر اعظم پاکستان ان کے ہر مطالبے پر سر تسلیم خم کرلیں۔
اب اس میں بھی شک نہیں رہا کہ پاکستان اور امریکہ میں تناو بڑھانے میں عوامل بنیادی کردار ادا کررہا وہ سی پیک ہے۔ واضح رہے کہ گزرے ماہ وسال کے برعکس واشنگٹن کھل کر اب چین کی مخالفت کررہا ۔ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ چین ایک طرف اس کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے کی پوزیشن پر آچکا تو دوسری جانب بجینگ سیاسی تنازعات میں بھی امریکی اختیارات کو چیلنج کرنے کا مرتکب ہورہا۔واشنگٹن کی خواہش اور کوشش ہے کہ پاکستان چین کا حلیف بنے کی بجائے حریف کا کردار نبھائے۔
امریکہ کا خطے میں بھارت کے کردار کو بڑھانا بلاوجہ نہیں۔ واشنگٹن نئی دہلی کے اداروں اور عزائم سے پوری طرح باخبر ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ بھارتی پالیسی ساز پاکستان نہیں چین کو مدنظر رکھ کر حکمت عملی ترتیب دے رہے۔ بھارت کی توسیع پسندانہ پالیسوں کے پیش نظر امریکہ کا خیال ہے کہ وہ چین کے تیزی کے ساتھ بڑھتے قدم تب ہی روک سکتا ہے جب بھارت امریکہ اشاروں پر ناچے۔
ایک نقط نظر یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں تناو کی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ پاکستان مخالفت میں نئی دہلی کی حوصلہ افزائی کررہا چنانچہ اسے اتفاق نہیں سمجھنا چاہے کہ آج امریکہ ، بھارت اور افغانستان ایک ہی زبان بول رہے۔ادھر پاکستان کی نئی قیادت ان حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ماضی میںکم ہی ایسا ہوا کہ جب سیاسی اور عسکری قیادت خارجہ امور بارے ایک ہی نقطہ نظر ہی حامی رہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد اپنے مسائل اور وسائل دونوں سے آگاہ ہے۔ یقینا عمران خان کسی صورت امریکہ کے ساتھ تصادم کی سی کفیت نہیں چاہتے۔ وزیر اعظم پاکستان کروڈوں عوام سے ان کی حالت زار بدلنے کو وعدہ کرکے آئے لہذا یہ ممکن نہیں کہ وہ امریکہ تو دور بھارت سے بھی محازآرائی کے متحمل ہوں۔چنانچہ اگر امریکہ بہادر اپنے مفادات کے حصول کے لیے پاکستان کو دباو میںلارہا تو پاکستان کا بھی حق ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے مفاد کو مقدم رکھے ۔
یہ خیال بھی ظاہر کیا جارہا کہ امریکہ جانتا ہے کہ اب پاکستان میں تسلسل کے ساتھ تیسری منتخب حکومت اقتدار سنھال چکی۔ جمہوری نظام میں بڑے بڑے فیصلہ کرناآسان نہیں ہوا کرتا۔ آج کے پاکستان میں ایک طرف اپوزیشن جماعتیں ہیں تو دوسری جانب پرنٹ ، الیکڑانک اورسب سے بڑھ کر سوشل میڈیا پوری طرح متحرک ہے۔ کون نہیں جانتا کہ عمران خان کو اقتدار سنھبالے ہوئے ابھی ایک ماہ نہیں ہوا مگر ان کی پالسیوں پر تنقید کرنے والے کھل کر اپنی موجودگی ثابت کررہے۔ امریکہ کو پاکستان کی مشکلات کا ادراک کرنا ہوگا۔ واشنگٹن جب تک پاکستان کے مسائل کو نہیں سمجھے گا یہ توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں پاک امریکہ تعلقات میں کسی قسم کی گرمجوشی دیکھنے کو ملے۔ بعض مبصرین کے مطابق پاکستان امریکہ پر کم سے کم انحصار کرنے کے موڈ میں ہے۔ مثلا ہمارے ہاںایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کھل کر امریکہ افغانستان جنگ میں پاکستان کے کردار پر تنقید کرتے ہیں چنانچہ اس بدلے ہوئے ماحول میں لازم ہے کہ پاکستان اور امریکہ اپنے تعلقات کو اس انداز میں ترتیب دیں جس میں دونوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

Scroll To Top