ٹماٹر اورآئی ایم ایف 12-11-2013

kal-ki-baat
بات بے حد تلخ ہے مگر اس میں ذرا بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ہمارے حکمران طبقے کی بے حسی نالائقی اور بہبود عامہ کے معاملات سے مکمل عدم دلچسپی اور لاپروائی نے محرومی اور مفلسی کی چکی میں پسنے والے عوام پر عرصہ ءحیات تنگ کردیا ہے۔
آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں اور روز افزوں کمر توڑ مہنگائی کا رونا اب وہ لوگ بھی رو رہے ہیں جن کی شناخت اُن کی سفید پوشی کی وجہ سے غریب عوام میں نہیں ہوتی۔ غربت اور افلاس کی لکیر کے قریب یا نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی پہنچ سے پیاز `آلو ` ٹماٹر اور لہسن جیسی عام ضروریات بھی دور ہوتی چلی جارہی ہیں۔
ایسے ہی ایک شخص نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ کیا آئی ایم ایف جو قرضے دے رہا ہے ان کی سخت شرائط کا تعلق ٹماٹر پیاز لہسن اور سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں سے بھی ہے۔؟
میرے پاس کوئی جواب نہ تھاکیوں کہ اس بات کا علم بھی مجھے چند ہی روز قبل ہوا تھا کہ ٹماٹر کی قیمتیں سو روپے کلو سے تجاوز کرنے کے بعد تیزی سے چھلانگیں لگانے کے بعد دو سو روپے فی کلو کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
مجھے معلوم ہے کہ ہمارے جو ” منصوبہ ساز “ ہمارے امیر حکمرانوں کے لئے اقتصادی منصوبہ بندی کا کام کرتے ہیں انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ غریب عوام کو ٹماٹر پیاز لہسن اور چٹنی وغیرہ کی دستیابی کس قیمت پر ہوتی ہے۔ لیکن انہیں اس بات سے تو تھوڑی بہت دلچسپی ہونی چاہئے کہ جن اشیائے صرف کا تعلق غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور ڈالروں وغیرہ کی دستیابی سے نہیں انہیں عام آدمی کی پہنچ میں رکھنے کے لئے بہت بڑی سرمایہ کاری کی نہیں تھوڑی سی زیادہ اہلیت اور تھوڑی سی کم بے حسی کی ضرورت ہے۔
چند روز قبل مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی رائے میں اگر کتّا بھی امریکیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے مارا جائے تو وہ اسے شہید قرار دیں گے۔ اس بات پر بہت شور اٹھا ہے۔ غالباً مولانا کے ذہن میں حضرت عمر ؓ کا یہ ارشاد تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے تک کوئی کتّا بھی بھوکا پیاسا مر جائے تو وہ اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھیں گے۔
کاش کہ ہمارے حکمران اپنے آدم زاد بھائیوں کے بارے میں ہی یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ انہیں کتوں کی موت مرنے نہیں دیں گے ۔

Scroll To Top