داستان لہو کے قرض کی ۔۔۔

aaj-ki-baat-new

اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اسلام کی تاریخ اس کے غازیوں نے اس کے شہیدوں کے لہو سے لکھی ہے۔۔۔
میدان ِ بدر کے پہلے شہداءسے لے کر میدانِ احد میں براہِ خدا اپنی جان نچھاور کرنے والے سید الشہداءحضرت امیر حمزہ ؓ تک۔۔۔ اور پھر حنین `موتہ اور اس کے بعد کی جنگوں کے عظیم شہداءتک۔۔۔ عظمتِ اسلام کا شجر دنیا کی فضاﺅں میں اللہ اکبر کی صداﺅں کی حکمرانی قائم کرنے اور قائم رکھنے کے خواہشمندوں نے اپنے خون سے سینچا ہے۔۔۔ یہی خون رہا ہے جس سے ہمارے غازیوں نے عظیم فتوحات کی لازوال داستانیں لکھی ہیں۔۔۔ان ہی عظیم داستانوں میں ایک داستان 1965ءکی اس جنگ کی ہے جس کی یاد میں ہم یوم دفاع مناتے ہیں۔۔۔
میں تب روزنامہ کوہستان کا ایڈیٹر اور اس عظیم داستان کو جنم لینے کے عمل کو اپنی نظروں سے دیکھنے اور کانوں سے سننے والے کرداروں میں سے ایک تھا۔۔۔
میجر عزیز بھٹی شہیدہوں یا میجر شفقت بلوچ یا برگیڈیئرشامی شہید یا سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی شہید یا پھر سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم۔۔۔ یہ عظیم داستان ان گنت شہیدوں کے خون سے ` ان گنت ہی غازیوں کے ناقابل تسخیر ولولوں نے لکھی ہے۔۔۔
ویسی ہی ایمان افروز داستان آج بھی ہمارے شہید اور غازی اس جنگ میں لکھ رہے ہیں ` جس میں ہمارا دشمن ہمارے سامنے تو نہیں آرہا مگر ہم جانتے ہیں کہ کون ہے۔۔۔
ہم اس لہو کا قرض کبھی ادا نہیں کرسکیں گے جو ہمارے شہیدوں نے ہماری آزادی کی بقاءکے لئے بہایا ہے۔۔۔
اور قرض ہم ان غازیوں کی جاں بازی کا بھی ادا نہیں کرسکیں گے جو اپنے سر ہتھیلیوں پر رکھ کر ہمہ وقت دفاع وطن کے لئے تیار رہتے ہیں۔۔۔ لیکن اس قرض کو تسلیم کرکے ہم اپنی نظروں میں اور تاریخ کی نظروں میں سرخرو ضرور ہوسکتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top