ڈاکٹر عارف علوی صدر پاکستان منتخب

  • پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی نے 353الیکٹرورل ووٹ حاصل کئے جبکہ مولانا فضل الرحمان 185 اور اعتزاز احسن صرف 124ووٹ حاصل کر سکے
  • صرف پی ٹی آئی کا نہیںپورے ملک کا صدر ہوں ، چاہتا ہوں غریب کی قسمت بدلے اس کے تن پر کپڑا ہو، سر پر چھت اور روزگار ہو، اپوزیشن کو تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت ، عارف علوی

ڈاکٹر عارف علویصدر پاکستان منتخباسلام آباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے عارف علوی353، الیکٹرورل ووٹ لیکر ملک کے 13ویں صدر بن گئے 9ستمبر کو حلف اٹھائینگے ،مولانا فضل الرحمان 185 اور اعتزاز احسن 124ووٹ لے سکے ،قومی اسمبلی وسینیٹ میں عارف علوی212، مولانا فضل الرحمن131، اور اعتزازاحسن 81ووٹ ملے،6ووٹ مسترد ہوئے، جبکہ پنجاب اسمبلی سے عارف علوی 33،فضل الرحمان25 اور اعتزاز احسن کو ایک ووٹ ملا،سنذھ اسمبلی سے اعتزاز احسن نے 39، عارف علوی 22، مولانا فضل الرحمان کو کوئی ووٹ نہیں ملا ،خیبر پختونخوا اسمبلی سے عارف علوی 41مولانا فضل الرحمان 14 اور اعتزاز احسن 3،بلوچستان اسمبلی عارف علوی 45فضل الرحمان 15اور اعتزاز احسن کو کوئی ووٹ نہیں ملا ۔ صدارتی انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے مقرر پریذائیڈنگ آفیسر جسٹس انور کانسی نے صدارتی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی کل 430 پول شدہ ووٹوں میں سے پاکستان تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار عارف علوی نے 212، پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدواراعتزاز احسن 81 اور مولانا فضل الرحمن نے 131 ووٹ حاصل کیے جبکہ چھ ووٹ مسترد ہوئے۔منگل کے روز ملک کے 13ویں صدر کے انتخاب کیلئے پولنگ صبح 10 بجے سے شام چار بجے تک قومی اسمبلی کے ایوان میں ہوئی ۔پریذائیڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس انور کانسی نے 10بجے پولنگ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا ۔پاکستان تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار عارف علوی کی طرف سے پولنگ ایجنٹ عمران خٹک ، پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن کے پولنگ ایجنٹ سسی پلیجو اور مولانا فضل الرحمن کے پولنگ ایجنٹ شاہدہ اختر علی تھیں۔سب سے پہلا ووٹ 10بجکر10منٹ پر پیرفضل علی شاہ نے ڈالا ۔پولنگ کے دوران پریذائیدنگ آفیسر جسٹس انور کانسی نے اراکین پارلیمنٹ کو ہدایت کی کہ کوئی بھی پارلیمنٹرین ووٹ ڈالنے کے دوران اپنا موبائل فون ساتھ نہ لے جائے اور موبائل فون اپنی سیٹ پر ہی چھوڑ دیا جائے ۔پولنگ کے دوران پیپلزپارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن آکر پہلے مہمان گیلری میں بیٹھ گئے اس کے بعد وہ ایوان میں آکر اراکین پارلیمنٹ سے ملتے رہے انہوں نے پولنگ ایجنٹ سے بھی ملاقات کی ، سسی پلیجو کے کندھے کے ہاتھ رکھا ، شاہدہ اختر علی کے سر پر ہاتھ پھیرا جبکہ عمران خٹک سے مصافحہ کیا اور اراکین پارلیمنٹ سے ملتے رہے۔وزیراعظم عمران خان3بجکر15منٹ پر ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے ایوان پہنچے تو ایوان خالی ہوچکا تھا اور پریزائیڈنگ آفیسر بھی کھانے کے وقفے پر گیا ہوا تھا جسکے باعث وزیراعظم کو15منٹ تک پریزائیڈنگ آفیسر کا انتظار کرنا پڑا اس دوران پی ٹی آئی اراکین نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیراعظم کے ساتھ سیفلیاں بنائیں ۔بعد ازاں پریزائیڈنگ آفیسر کے آنے کے بعد عمران خان کو بیلٹ پیپر فراہم کیا گیا اور انہوں نے پھر پولنگ باکس میں جاکر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔عمران خان نے اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شوکت صدیقی سے مصافحہ بھی کیا اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری جب ایوان میں آئے ان کے ہمراہ پیپلزپارٹی کے سیئنر رہنما بھی ساتھ تھے ، قومی اسمبلی میں سپیکر سے ملے ، ایوان میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کیساتھ اراکین پارلیمنٹ تصویریں بناتے رہے جبکہ حکومتی اراکین بھی بلاول بھٹو کی سیٹ پر جاکر ان سے مصافحہ کرتے رہے ۔شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی ،احسن اقبال ، مشاہد حسین سید نے بلاول بھٹو کی سیٹ پر جاکر ان سے مصافحہ کیا ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین پارلیمنٹ 11بجکر35منٹ پر ایک ساتھ تاخیر سے ایوان میں آئے ،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے اپنا ووٹ کاسٹ کرتے وقت تصویر بنوائی جبکہ تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار عارف علوی چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے ملے اور ان کے پاس بیٹھ کر گفتگو کرتے رہے اور پولنگ کے دوران قومی اسمبلی کا سٹاف ، اراکین پارلیمنٹ اور خاص طور پر خواتین اراکین کے ساتھ خصوصی طور پر تصاویر بنواتے رہے ۔ڈاکٹر عارف علوی پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کے پاس جاکر گلے ملے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر گفتگو کرتے رہے۔وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی مرتبہ جب قومی اسمبلی کے ایوان میں آئے تو اراکین پارلیمنٹ سے بڑے احترام کے ساتھ ملتے رہے ، مولانا فضل الرحمن ایوان میں نہیں آئے ان کی جگہ ان کے بیٹے اسد محمود بھی اپنے والد کی غیر موجودگی میں اراکین پارلیمنٹ سے ملتے رہے ۔مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مہر ارشاد روایتی پگڑی اور تہبند پہن کر اسمبلی میں آئے اور صدارتی ووٹ کاسٹ کیا جوکہ ایوان میں اراکین پارلیمنٹ کی توجہ کا مرکز بنے رہے ۔صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کے ووٹ ڈالنے کے بعد پریذائیدنگ آفیسر جسٹس انور کاسی سے ملے اورگنتی کے دوران صدارتی انتخاب کے نتائج سنے بغیر ہی ایوان سے چلے گئے ۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت ووٹ ڈالنے کے لئے ایوان میں آئے تو عامر ڈوگر ان کو ساتھ لے کر پولنگ بوتھ تک گئے جب انہوں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور حکومتی اراکین سے بغیر ملے جلدی سے واپس نکل رہے تھے تو اس دوران عامر ڈوگر نے ہلکی سی آواز کیساتھ نعرہ لگایا کہ ”عامر کو“اس پر حکومتی اراکین نے جواب دیا کہ ”وزارت دو“۔عامر لیاقت جب باہر جارہے تھے تو حکومتی خواتین اراکین نے ان کو آواز دے کر روکا جس پر وہ رک گئے اور ان سے گفتگو کرتے رہے اور ملاقات کے بعد وہ واپس چلے گئے ۔۔

Scroll To Top