صدارتی انتخاب میں کامیابی:تمام منتخب پارلیمانی اداروں میں پی ٹی آئی کی بالادستی

  • ٭….کامرانی میں وسعت، عوامی توقعات میں حدت، ذمہ داریوں میں شدت
  • ٭….شکست خوردہ حریف نیچے سطح کی ہرزہ سرائی اور استہزا گردی میں محو
  • ٭….امریکی وزیر خارجہ کا دورہ اسلا م آباد، عمران حکومت عوامی امنگوں کے
    مطابق معاملات طے کرنے میں پرعزم!

پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی صاحب پاکستان کے تیرہویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ ان کی کامیابی سے حالیہ ایام میں جاری پارلیمانی انتخابات کا سلسلہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ پی ٹی آئی ان تمام انتخابی اداروں میں بے مثل وسعتوں کے ساتھ کامیاب ہوئی ہے۔ اور اگر ہم اس تازہ ترین فتح کو حالیہ سلسلہ واقعات کے تناظر میں رکھ کر پرکھیں پرچولیں تو میرا وجدان گواہی دیتا ہے کہ رب ارض و سما نے عمران خان صاحب کی صورت میں اہل پاکستان کو ایسا بطل جلیل اور رجل رشید عطا کر دیا ہے جو اللہ رحیم و کریم کی عظیم سکیم کے تحت ماہ رمضان میں لیلتہ القدر کی مبارک اور سلامتی والی ساعتوں میں معرض وجود میں آنے والے ملک پاکستان کو حقیقی معنوں میں ریاست مدینہ کی مثل پر ڈھال دے۔
صدارتی انتخاب پی ٹی آئی کے لئے غیر معمولی اہمیت کاحامل تھا۔ ایک تو سیاسی ساکھ کے تحفظ اور تسلسل کے حوالے سے جس کے نفسیاتی اثرات قومی سیاسی منظر نامے پر مقتدر جماعت کے حق میں ہی جاتے ہیں۔ تحریک انصاف کے لئے ایوان صدارت میں ایک ایسی ہم خیال شخصیت کی موجودگی بہت ناگزیر تھی اور ہے اور رہے گی کہ اس کے منشور اور ایجنڈے کا مرکزی و محوری نکتہ ملک سے کرپشن کے خاتمے اور کرپٹ عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانے کے گرد قائم ہے۔ گو کہ موجودہ آئینی بندوبست میں صدر مملکت کے پاس کوئی اہم انتظامی اختیارات نہیں ہیں تاہم اس کے باوصف صدر سزایافتہ مجرمین کو سزا معاف کر دینے حتیٰ کہ پھانسی کی سزا پانے والوں کو بھی حیات نو کا ریلیف دینے کا اختیار استعمال کر سکتا ہے۔ نون غنوں سمیت زرداریوں کا مشترکہ مفاد ابتدا میں انہیں صدارتی امیدوار کے ضمن میں ایک صفحے پر لے آیا تھا مگر بعد میں زرداری کی چھٹی حس اسے ایک دوسری راہ پر لے گئی جس کے مطابق اس نے جیسا کہ میں پہلے بھی اپنے کسی کالم میں عرض کر چکا ہوں کہ خود کو پس منظر میں دھکیل کر بلاول کے کرپشن فری بے داغ چہرے کو پیش منظر میں لانے کا ارادہ باندھ لیا شنید ہے کہ زرداری کا دیرینہ اور روایی پیر حاجی شاہ (پیر اعجاز احمد شاہ) جو بلاول کے باپ کے سارے عرصہ صدارت میں چھ کالے بکروں کی ”قربانی“ کے ذریعے زرداری کو ماموں بناتا رہا، بھی اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ زرداری مستقل قریب میں بیرون ملک منتقل ہو جائے تاکہ نوجوان بلاول اپنے لئے بہتر سیاسی اننگز کا آغاز کر سکے۔ اس ضمن میں پی ٹی آئی کے ساتھ قانون سازی کے حوالے سے خوشگوار ورکنگ ریلیشن شپ کا قیام بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس ضمن میں آنے والے دنوں کی ممکنہ صورت گری بابت اپنے آئندہ تجزیئے میں پیش کروں گا۔
ذکر ہو رہا تھا آج منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب کا جس میں پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر عارف الرحمن علوی پاکستان کے تیرہویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ یاد رہے صدارتی حلقہ نیابت کے کل قابل عمل ووٹ 706 تھے۔ پی ٹی آئی اتحاد کے ووٹ 346 تھے جبکہ ڈاکٹر علوی نے 353 ووٹ حاصل کرلئے جو ان کی وسعت پذیر مقبولیت اور پی ٹی آئی کی طرف ارکان اسمبلی کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن 124 ووٹ حاصل کر پائے جبکہ مولانا فضل الرحمن کو 185 ووٹروں کا اعتماد حاصل ہوا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی میدان سیاست کے ساتھ ساتھ اس سے جڑے ہوئے انتخابی اداروں پر بھی چھائی دکھائی دیتی ہے۔ وفاق میں حکومت اس کی ، پنجاب اور کے پی کے میں بھی وہی حکمران جبکہ بلوچستان میں یہ مخلوط حکومت کا حصہ، اسی طرح قومی اسمبلی، کے پی کے اور پنجاب کی اسمبلیوں میں اس کے نامزد سپیکر، سینٹ میں بھی اس کا حمایت یافتہ چیئرمین۔
یہ ہے وہ صورتحال جس میں تبدیلی کی علمبردار پی ٹی آئی اپنی انتخابی ہنگامہ خیزی میں پہلے سے ہی بلند کردہ عوامی امنگوں اور توقعات کے ایک معین مفہوم میں آتش فشاں پر بیٹھی ہے۔ افتادگان خاک ستر سال کی محرومیوں سے زچ ہو چکے ہیں اور انہوں نے عمران خان کو ایک نجات دہندہ یقین کرلیا ہے۔ یہ حقیقت جہاں ایک بڑا اعزاز ہے وہاں کپتان کے لئے ایک گراں بار چیلنج سے بھی کم نہیں۔
اگر میں عمران خان کی نفسیاتی اپچ کے حوالے سے بات کروں تو مجھے امید واثق ہے کہ وہ ایک بہادر اور اجرت مند مجاہد کی بدی کی ہر قوت سے ٹکرا جانے کا عزم صمیم کئے ہوئے ہے۔ اور اپنے وعدوںکو عملی جامہ پہنانے کے لئے موثر اور قابل عمل حکمت عملی قریب قریب تیار بھی کر چکا ہے۔ بس اب اسے روبہ عمل لانے کی دیر ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں حریف قوتیں اسے پیر جمانے نہیں دیناچاہتیں۔ انہیں یقین ہے کہ اگر اسے کام کے ابتدائی سو ایام بھی یکسوئی سے میسر آ گئے تو وہ ان کے اقتدار میں آنے کے تمام امکانات پر پانی پھیر کر رکھ دے گا۔ اپوزیشن جماعتیں ایک طے شدہ سکرپٹ کے ذریعے اس کی ذاتی اور جماعت اور اب حکومت پر الزام و دشنام کی سنگ باری میں جت گئی ہیں۔ اندرونی اوربیرونی ریشہ دوانیوں سے بچاﺅ اور دفاع کا ایک ہی علاج ہے کہ پی ٹی آئی حکومت عوام کی اعانت اور شراکت کے ان کی بہبود کے منصوبوں کو تیزی سے روبہ عمل لائے۔ یہاں میں ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کرنا چاہوں گا۔ جب سے عمران حکومت قائم ہوئی ہے عمران کی جماعت پی ٹی آئی منظر سے غائب ہے۔ اس پر میں تفصیل سے پھر لکھوںگا سردست اتنی ہی گزارش ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنی جگہ مگر خود پی ٹی آئی کہاں ہے، کوئی ہے جو اس کا اتہ پتہ بتائے۔
پاکستان قومی و بین الاقوامی سطحوں پر برق رفتار واقعات کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ادھر صدارتی انتخاب کا ہنگامہ، اپنے انجام کو پہنچا تو ادھر شدید تناﺅ کی فضامیں امریکی وزیر خارجہ کا آج ہونے والا دورہ اسلام آباد ایک نیا چیلنج بن کر سر پر کھڑا ہے۔
ایک اور دریا کاسامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
پاک امریکہ تعلقات بھی تاریخی لحاظ سے عجب نشیب و فراز سے عبارت رہے ہیں میں نے ان تعلقات میں جس موجودہ تناﺅ کا حوالہ دیا ہے اس کا رشتہ ناطہ نااہل اور کرپشن کے جرم میں دس سالہ قید بھگتنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اس بیان سے جڑا ہوا ہے جس میں اس نے بمبے حملہ میں ملوث افراد کے تعلق کو پاکستان سے جوڑ دیاتھا اور اب اسی حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پوپمپیو دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے وزیر اعظم عمران خان سے اپنی پہلی ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں بابت بت کی تھی جبکہ پاکستان کا موقف اس سے یکسر مختلف ہےں جب اسلام آباد نے واشنگٹن کو اپنا بیان درست کرنے کو کہا تو سپرپاور نے اسے اپنی ہتک سمجھ لیا۔ اور صدر ٹرمپ کی تلون مزاجی کی پیروی میں اس کے وزیر خارجہ نے بھی پاکستان آمد سے پہلے300 ملین ڈالر کی اس رقم کی ادائیگی روک لی جو کہ کولیشن سپورٹ فنڈ(سی ایس ایف) کے زمرے میں اس نے ہمارے اخراجات کی مد میں ادا کرنی تھی۔
اہل پاکستان امید رکھتے ہیں کہ عمران حکومت اپنے قومی وقار کی سربلندی کے ساتھ امریکہ سے برابری کی سطح پر مکالمہ کرے گی۔ پاکستانی قوم دوسروں کی عزت کی دلدادہ ہے مگر اس کے ساتھ ہی اپنی خود داری اور عزت و وقار کو بھی ہر اعتبار سے سربلند دیکھنے کا عزم بالجزم رکھتی ہے

Scroll To Top