صدر پاکستان ڈاکڑ عارف علوی

توقعات کے عین مطابق عارف علوی صدر پاکستان منتخب ہوگے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ بطور اپوزیشن جماعتیں وہ ہرگز ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔ اس میںشک نہیںکہ دونوں سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے مسائل ہیںلہذا وہ ان کو حل کرنے کے لیے الگ الگ حکمت عملی پر عمل پیراءہیں۔ افسوس کے ساتھ یہ سچائی بیان کرنے میں حرج نہیں کہ مذکورہ دونوں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے عام آدمی کے مفاد کو ثانوی اہمیت دی جاتی رہی۔ بدقسمتی کے ساتھ پی ایم ایل این اور پی پی پی نے اپنے اپنے ادوار میں یہ ثابت کیا کہ وہ لاکھوں نہیں ان کروڈوں شہریوں کی زندگیوں میںبہتری لانے میں دلچیسپی نہیں رکھتیں جو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔
سیاست برائے عوام کی خدمت کا رجحان روایتی سیاسی قوتوں میں مفقود رہا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے کئی دہائیوں سے ملکی سیاست پر قابض پارٹیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو خبیر تا کراچی پڑھے لکھے عوام کی اکثریت نے اسے خوش آمدید کہا۔ یقینا عمران خان نے دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد اپنی الیکٹ ایبلز کو ساتھ مل کر اپنی حکمت عملی تبدیل کی مگر شائد اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ عمران خان کی اس دلیل میں بہرکیف وزن رہا کہ بااثر خاندانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسے امیدواروں کو ہی میدان میںاترانا ہوگا جو ان سے زیادہ نہ ہو مگر ہم پلہ ضرور نظر آئیں۔ عمران خان کی یہ پالیسی کامیاب رہی اور دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں قابل زکر تعداد میں ان کی جماعت میںایسے چہرے نظر آئے جو اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں سیاسی حمایت بھی رکھتے ہیں۔چنانچہ اب وزیر اعظم پاکستان ممکن حد تک کوشاں ہیں کہ ان باشعور شہریوں کی امیدوں پر پورا اترا جائے جو اپنی مشکلات کے حل کے لیے ان سے توقعات لگائے ہوئے ہیں۔
عمران خان کا یہی ویژن ہے کہ ڈاکڑ عارف علوی نے غیر سرکاری اور غیر حتمی طور صدر کا انتخاب جیتنے کے فورا بعد ہی کہا کہ اب وہ پی ٹی آئی نہیں پورے پاکستان کے صدر ہیں۔ عارف علوی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیںکہ ہر بے گھر پاکستانی کے سر پر چھت ہو۔غریب کی قسمت بدلے، ہر آدمی کو اس کی دہلیز پر انصاف ملے،جو بچے سکول سے باہر ہیںوہ سکول جانا شروع کردیں۔ ایک سوال کے جواب میں عارف علوی کا کہنا تھا کہ تقریب حلف برداری میں سیاسی جماعتوں کو بلایا جائیگا ان کا کہنا تھا کہ بطور صدر جائز سیکورٹی لوں گا مگر پروٹوکول کم سے کم ہوگا۔ “
قومی سیاسی تاریخ سے شناسا ہر شخص باخوبی جانتا ہے کہ ایسا بہت کم ہوا کہ اہم عہدوں پر تعینات لوگوں نے اپنے پروٹوکول میں کمی ۔ سابق وزیر اعظم محمد خان جونجیو اور ملک معراج خالد جیسے لوگ یقینا وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود لوگوں میں گھل مل کر رہتے رہے مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہی رہی جو خود کو نمایاں کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔
عمران خان نے وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد سادگی کی مثال قائم کی ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم ہاوس کی درجنوں قیمتی گاڈیوں کو نیلام کرنے کے لیے اشتہار دیا جاچکا۔ وزیر اعظم پاکستان نے یہ بھی کہا کہ ایک غریب ملک کے سربراہ مملکت ہونے کی حثیثت سے انھیں شاہانہ وزیر اعظم ہاوس میں رہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔
یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی قوم میں کفایت شعاری کا رواج اچانک فروغ نہیں پاتا۔ اس کے لیے وہاں کے طاقتور طبقات خود کو مثال کے لیے پیش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عوام میں سادگی کا چلن فروغ پاتا ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں کئی دہائیوں سے ایسا نہیںہوتا رہا چنانچہ اچھے طور طریقوں کو پھیلانے میں بہرکیف وقت لگے گا۔ یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے اہم عہدوں پر براجمان لوگ اپنے رہن سہن سادہ رکھیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے ماتحت ان کی تقلید نہ کریں۔ اقبال نے درست کہا تھا کہ
سکون محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
وطن عزیز کی سیاست اور معاشرت بھی بدل رہی۔ آج اہل سیاست جن مسائل کا سامنا کررہے ہیں ماضی میں اس کی نظیر ملنی مشکل ہے شائد یہی وجہ ہے کہ وہ جماعتیں اور افراد قومی منظر نامے بتدریج غائب ہورہے جو سیاست کو صرف اور صرف مال وطاقت کے حصول کا زریعہ سمجھتے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف ملکی سیاست میں اسی لیے نمایاں ہوکر کامیاب ہوئی کہ اس نے پرانے طور طریقوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ مثلا جس طرح میاں نوازشریف اورعمران خان میں نمایاں فرق ہے یہی تفریق سابق صدرممنون حسین اور ڈاکڑ عارف علوی میں بھی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ(ڈیک) اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں ڈاکڑ عارف علوی کا سیاست میں تجربہ زیادہ نہیں مگر نئے منتخب صدر شہر قائد کے پڑھے لکھے طبقے سے ہیں۔ ان پر بدعنوانی کا ایک بھی الزام نہیں۔ اب تک پارٹی نے ان پر جو بھی زمہ داری عائد کی عارف علوی نے اسے احسن انداز میں نبھایا۔اس پس منظر میں یہ امید کرنا غلط نہ ہوگا کہ ڈاکڑ عارف علوی صدر منتخب ہونے کے بعد محض ایوان صدر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عوام کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے ۔ (ڈیک)

Scroll To Top